giraa aisaa jhumkaa tire kaan se
bareli bhi mashhur hotaa gayaa

Zeeshan Nomani
Zeeshan Nomani
Zeeshan Nomani
Popular Shayari
3 totalparinde jo qafas mein qaid hain maulaa rihaa kar de
labon par pyaas ho jis ke use paani 'ataa kar de
chaand sitaare jhiil samundar murat teri kyaa dekhun
Duub gayaa aankhon ke andar surat teri kyaa dekhun
Ghazalغزل
اندھیرے جہاں سے مٹا کر کے دیکھو محبت کی شمعیں جلا کر کے دیکھو مرے ملک میں اب سیاست بہت ہے سیاست سے خود کو جدا کر کے دیکھو جہاں بھر میں ہوں گے تمہارے ہی چرچے ہر اک کو گلے تم لگا کر کے دیکھو دیا غم کسی نے جو ذیشانؔ تم کو کسی روز وہ غم بھلا کر کے دیکھو
andhere jahaan se miTaa kar ke dekho
2 views
ہم اپنی دواؤں کا اثر دیکھ رہے ہیں صحرا میں محبت کا شجر دیکھ رہے ہیں اک خواب کی تعبیر بتائے کوئی ہم کو ہم ساتھ میں جینے کا سفر دیکھ رہیں ہیں لگتا ہی نہیں دید کے قابل ترا چہرہ دیکھا نہیں جاتا ہے مگر دیکھ رہے ہیں مر جاتے ہیں کچھ لوگ محبت کے قفس میں اخبار میں ہم ایسی خبر دیکھ رہے ہیں وہ جس کی ہر اک ڈال پہ بیٹھے ہیں پرندے ہم پیار سے ایک ایسا شجر دیکھ رہیں ہیں کس بات کا ماتم ہے بپا گھر میں ہمارے روتا ہوا ہر ایک بشر دیکھ رہے ہیں ہو جائیں گے بے ہوش وہ ذیشانؔ یقیناً جو آپ کی قاتل سی نظر دیکھ رہے ہیں
ham apni davaaon kaa asar dekh rahe hain
2 views
دل کہاں لگتا ہے اب میرا بھی میرے گاؤں میں کھینچ لایا عشق تیرا مجھ کو تیرے پاؤں میں چھین کر تم کو نہ لے جائے یہاں سے کوئی بھی اس لیے رہنے لگا ہوں آ کے میں صحراؤں میں شہر کی بس روشنی نے مجھ کو اندھا کر دیا ورنہ کیا کیا کچھ نہیں تھا میرے پورے گاؤں میں کوششیں سب نے بہت کی قید کرنے کی مجھے پر پھنسا میں بھی نہیں ان کے کسی بھی داؤں میں اک لکڑہارا یہ بولا پیڑ سارے کاٹ کر کاش میں بھی بیٹھ پاتا اب کسی کی چھاؤں میں دیکھے جب ذیشانؔ کے آگے قدم بڑھتے ہوئے ڈال دی زنجیر مل کر سب نے اس کے پاؤں میں
dil kahaan lagtaa hai ab meraa bhi mere gaanv mein
1 views
ستم کیسا اہل چمن کر رہے ہیں گلابوں کے چھلنی بدن کر رہے ہیں شہیدوں کو ہم دے رہیں ہیں سلامی شہادت کو ان کی نمن کر رہے ہیں محبت ہے جن کی یہ پھیلی جہاں میں محبت کو ان کی چمن کر رہے ہیں اجالا ہے جن کی بدولت جہاں میں حوالے ہم ان کے وطن کر رہے ہیں لپٹ کر ہیں آتے ترنگے میں جو بھی ترنگے کا ان کو کفن کر رہے ہیں
sitam kaisaa ahl-e-chaman kar rahe hain
1 views
چراغوں کو بجھانا چاہتا ہوں میں اس سے دور جانا چاہتا ہوں محبت کا ہوا ہو ذکر جس میں غزل وہ گنگنانا چاہتا ہوں اگر کچھ پوچھنا ہے تو یہ پوچھو میں کس سے دل لگانا چاہتا ہوں مسلسل یاد آتا ہے جو مجھ کو میں اس کو یاد آنا چاہتا ہوں مسافر کو نہ دیں جو چھاؤں اپنی شجر وہ سب گرانا چاہتا ہوں
charaaghon ko bujhaanaa chaahtaa huun





