ab is se baDh ke taraqqi kaa daur kyaa hogaa
haram mein baiTh ke zaahid sharaab maange hai

Ziya Shadani
Ziya Shadani
Ziya Shadani
Popular Shayari
2 totalmain us ko maut se bhi chhin laataa
vo jiine ke liye tayyaar kab thaa
Ghazalغزل
غم جو بکھرے تو کائنات ہوئے اور سمٹے تو میری ذات ہوئے ہم سے ہی عرض مدعا نہ ہوا جب وہ مائل بہ التفات ہوئے مدتوں سے دعا سلام نہیں مدتیں ہو گئی ہیں بات ہوئے جو بھی گزری گزر گئی ہم پر رونما پھر نہ حادثات ہوئے ہم نے پائی وفا کی داد ضیاؔ جب بھی ماضی کے واقعات ہوئے
gham jo bikhre to kaaenaat hue
خموشیوں کی زباں سب کہاں سمجھتے ہیں یہ وہ زباں ہے جسے ہم زباں سمجھتے ہیں اداسیوں میں بھی رہ کر تجھی کو یاد کیا ہر اک سے بڑھ کے تجھے مہرباں سمجھتے ہیں تمام عمر تمہی سے فریب کھائے مگر تمہیں کو سب سے بڑا مہرباں سمجھتے ہیں انہیں خبر ہی نہیں دل پہ کیا گزرتی ہے کہاں ہماری وہ آہ و فغاں سمجھتے ہیں ضیاؔ اب ان سے نگاہوں میں گفتگو ہوگی زباں کی بات وہ اکثر کہاں سمجھتے ہیں
khamoshiyon ki zabaan sab kahaan samajhte hain
جہاں میں لوگ وہی خوش نصیب ہوتے ہیں کہ جن کے چاہنے والے قریب ہوتے ہیں سکون دل کے وفا کے حیا کے قربت کے تمام عمر میں کچھ پل نصیب ہوتے ہیں کسی کی آنکھوں میں آنسو کسی کے لب پہ فغاں بچھڑتے وقت کے منظر عجیب ہوتے ہیں خزاں کے بعد جو فصل بہار آتی ہے چمن میں زینت گل عندلیب ہوتے ہیں اک عمر کم ہے جو منزل پہ پہنچنا ہو ضیاؔ یہ چاہتوں کے سفر بھی عجیب ہوتے ہیں
jahaan mein log vahi khush-nasib hote hain
گلوں کا رنگ کلی کا شباب مانگے ہے نگاہ شوق بھی کیا انتخاب مانگے ہے جو تجھ سے مجھ سے خفا ہو گئے ہیں صدیوں سے نگاہ پھر انہیں لمحو کا خواب مانگے ہے کسی کو کچھ بھی نہیں مل سکا زمانے میں جسے ملا ہے وہ کیوں بے حساب مانگے ہے اب اس سے بڑھ کے ترقی کا دور کیا ہوگا حرم میں بیٹھ کے زاہد شراب مانگے ہے اب ایسی ضد کا بھلا کیا علاج ہوگا ضیاؔ وہ ماہتاب ہے اور آفتاب مانگے ہے
gulon kaa rang kali kaa shabaab maange hai
بڑے حسین خیالوں میں جی رہا ہوں میں ہٹاؤ جام نگاہوں سے پی رہا ہوں میں کسی کی یاد میں دامن کی دھجیاں کر کے وفا کی سوئی سے پھر اس کو سی رہا ہوں میں یہ اور بات کہ تم نے بچا لیا دامن کبھی تمہارے خیالوں میں بھی رہا ہوں میں یقیں نہیں ہے تو ماضی میں جھانک کر دیکھو کبھی تمہارے لئے زندگی رہا ہوں میں بچھڑ کے تم سے جو دولت ملی ضیاؔ مجھ کو لٹا لٹا کے محبت میں جی رہا ہوں میں
baDe hasin khayaalon mein ji rahaa huun main
میں بک جاتا مجھے انکار کب تھا یہاں پر مصر کا بازار کب تھا ملاقاتیں بھی رسماً ہو رہی تھیں دلوں میں جذبۂ ایثار کب تھا میں اس کو موت سے بھی چھین لاتا وہ جینے کے لئے تیار کب تھا اگر کچھ حوصلہ ہوتا تو چلتے وفا کا راستہ دشوار کب تھا ضیاؔ میں سارے بندھن توڑ دیتا تمہارے واسطے انکار کب تھا
main bik jaataa mujhe inkaar kab thaa





