tiri tasvir uThaai hui hai
raushni khvaab mein aai hui hai

Zubair Qaisar
Zubair Qaisar
Zubair Qaisar
Popular Shayari
6 totalsubh tak be-talab main jaagungaa
aaj to be-sabab main jaagungaa
main us ke jaal mein aaungaa dekhnaa 'qaisar'
vo mujh ko dhoke se ghar mein bulaa ke maaregaa
tiraa javaab mire kaam kaa nahin hai ab
ki main to bhuul chukaa huun savaal vaise hi
ye nafsiyaati marizon kaa shahr hai 'qaisar'
koi savaal uThaaoge maare jaaoge
shikasta khvaab mire aaine mein rakkhe hain
ye kyaa azaab mire aaine mein rakkhe hain
Ghazalغزل
usi kaa dard hai jis ke jigar kaa laasha hai
اسی کا درد ہے جس کے جگر کا لاشہ ہے میں جانتا ہوں کہ باقی تو سب تماشہ ہے میں کیا بتاؤں جو ٹوٹا ہے مجھ پہ ظلم و ستم میں کیا لکھوں کہ مرا درد بے تحاشہ ہے بنی ہیں سازشیں موسم نے دھوپ سے مل کر ہوا نے میرے ہر اک پھول کو خراشا ہے امیر شہر میں تجھ کو تری دہائی دوں کہ میرا تولا بھی تیری نظر میں ماشہ ہے اجاڑتے ہوئے وہ کانپتا تو ہوگا زبیرؔ وہ خواب ہاتھ نہیں خون سے تراشا ہے
main kaise jhel sakungaa banaane vaale kaa dukh
میں کیسے جھیل سکوں گا بنانے والے کا دکھ چھری چھری پہ لکھا ہے لگانے والے کا دکھ غضب کی آنکھ اداکار تھی مگر ہائے تمہاری بات ہنسی میں اڑانے والے کا دکھ غزل میں درد کی پہلے بھی کچھ کمی نہیں تھی اور اس پہ ہو گیا شامل سنانے والے کا دکھ تجھے تو دکھ ہے فقط اپنی لا مکانی کا قیام کر تو کھلے گا ٹھکانے والے کا دکھ بدن کے چیتھڑے اڑتے کہیں ہواؤں میں سنانے والے سے کم تھا چھپانے والے کا دکھ زمانے عشق کی تفہیم تو ذرا کرنا بے روزگار بتائے کمانے والے کا دکھ گرانے والے کے احساس میں نہیں قیصرؔ یہ آسماں کو زمیں پر اٹھانے والے کا دکھ
vafaa ke jurm mein aksar pukaare jaate hain
وفا کے جرم میں اکثر پکارے جاتے ہیں ہم اہل عشق محبت میں مارے جاتے ہیں ہماری لاش تو گرتی ہے جنگ لڑتے ہوئے مگر جو پیٹھ پہ برچھے اتارے جاتے ہیں عمامہ سجتا ہے آخر امیر شہر کے سر ہمارے جیسے عقیدت میں وارے جاتے ہیں میں روک سکتا نہیں خاک کو بکھرنے سے سمندروں کی طرف چل کے دھارے جاتے ہیں بھلے ہو کار محبت یا کار دنیا زبیرؔ ہمارے ساتھ ہمیشہ خسارے جاتے ہیں
jhulasti dhuup mein mujh ko jalaa ke maaregaa
جھلستی دھوپ میں مجھ کو جلا کے مارے گا وہ میرا اپنا ہے چھاؤں میں لا کے مارے گا وہ چاہتا تو مری خاک ہی اڑا دیتا یہ کوزہ گر کی عنایت بنا کے مارے گا اسے خبر ہے لڑائی میں ہار سکتا ہے سو اپنا آپ وہ مجھ میں سما کے مارے گا اس ایک خوف سے میں جنگ میں شہید ہوا عدو کمینہ ہے طعنے خدا کے مارے گا میں اس کے جال میں آؤں گا دیکھنا قیصرؔ وہ مجھ کو دھوکے سے گھر میں بلا کے مارے گا
kahin se aayaa tumhaaraa khayaal vaise hi
کہیں سے آیا تمہارا خیال ویسے ہی غزل کا ہونا ہوا ہے کمال ویسے ہی ہمارے حسن نظر کا کمال کچھ بھی نہیں تو کیا تمہارا ہے سارا جمال ویسے ہی ترا وصال کہ جس طور میرے بس میں نہیں ہوا ہے ہجر میں جینا محال ویسے ہی ترا جواب مرے کام کا نہیں ہے اب کہ میں تو بھول چکا ہوں سوال ویسے ہی کہا یہ کس نے کہ اکتا گیا جنوں سے میں پڑا ہوں دشت میں اب تو نڈھال ویسے ہی اچھالتا ہے جزیروں کو جس طرح اے بحر مری بھی لاش کو تہہ سے اچھال ویسے ہی نکالتا ہے تو جس طور رات سے سورج ہماری شب سے ہمیں بھی نکال ویسے ہی
nazar nazar se milaaoge maare jaaoge
نظر نظر سے ملاؤگے مارے جاؤ گے زیادہ بوجھ اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے کوئی نہیں ہے یہاں اعتبار کے قابل کسی کو راز بتاؤگے مارے جاؤ گے ہر ایک شاخ پہ چھڑکا ہوا ہے زہر یہاں شجر کو ہاتھ لگاؤ گے مارے جاؤ گے جو کاندھے پر ہو وہ گردن اتار لیتا ہے کسی کو اونچا اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے ہر ایک آئینہ منظر جدا بناتا ہے نظر کا بوجھ اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے دھوئیں میں ملنا مقدر ہے ان لکیروں کا ہوا میں نقش بناؤ گے مارے جاؤ گے یہ نفسیاتی مریضوں کا شہر ہے قیصرؔ کوئی سوال اٹھاؤ گے مارے جاؤ گے





