SHAWORDS
Aabid Umar

Aabid Umar

aabid umar

aabid umar

poet
2Shayari
10Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

جو صاف گو ہوں تو اونچی جگہ کھڑا ملوں گا وگرنہ تجھ کو کہیں خاک میں پڑا ملوں گا تو سالوں بعد بھی مجھ کو منانے آئے تو میں اپنی ایک ہی ضد پر تجھے اڑا ملوں گا تو خود کو یوں ہی گراتا رہا تو آخر کار میں تیرے قد سے تجھے سو گنا بڑا ملوں گا لکیر کھینچ کے رکھنا تسلی کی خاطر کہ اپنی حد سے نہ یکسر تجھے بڑھا ملوں گا ہوں با وفا تو مرا سر نہیں جھکے گا کبھی جو بے وفا ہوں تو پھر شرم سے گڑا ملوں گا صداقتیں مری شاداب ہی رکھیں گی مجھے میں زرد پتا نہیں ہوں کہ جو جھڑا ملوں گا ستم سے بھاگ کے جینا ہے موت سے بد تر برائے حق میں تجھے دار پر چڑھا ملوں گا

jo saaf-go hon to unchi jagah khaDaa milungaa

41 views

غزل · Ghazal

یوں تری راہ میں پڑے ہوئے ہیں جیسے درگاہ میں پڑے ہوئے ہیں غم ہیں جتنے بھی اس زمانے کے میری اک آہ میں پڑے ہوئے ہیں میرے بچوں کے خواب تو فی الحال چھوٹی تنخواہ میں پڑے ہوئے ہیں بچ کے نکلے جو موت کے منہ سے یاد اللہ میں پڑے ہوئے ہیں کب کسی کی ہوئی ہے یہ دنیا ہم عبث چاہ میں پڑے ہوئے ہیں خاک ہونا نصیب ہے لیکن حشمت و جاہ میں پڑے ہوئے ہیں اک نظر ہم پہ مہوش اعظم تیرے کنجاہ میں پڑے ہوئے ہیں کچھ غرض ہی نہیں جسے ہم سے اس کی پرواہ میں پڑے ہوئے ہیں جن کو زنداں میں ہونا چاہیے تھا حجرۂ شاہ میں پڑے ہوئے ہیں آپ سے ہم کلام ہے عابدؔ لوگ کیوں واہ میں پڑے ہوئے ہیں

yuun tiri raah mein paDe hue hain

41 views

غزل · Ghazal

یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کی یہ عمر تو ہے میاں دوستوں میں بیٹھنے کی چھپائی جاتی نہیں زردیاں سو دور ہوں میں وگرنہ ہوتی ہے خواہش گلوں میں بیٹھنے کی شمار میرا بھی کرتے ہیں لوگ ان میں مگر مری مجال کہاں شاعروں میں بیٹھنے کی ابھی نہ انگلی اٹھا مجھ پہ تھوڑی مہلت دے تمیز سیکھ رہا ہوں بڑوں میں بیٹھنے کی مجھے بدل کے کوئی اور ہی بنا دیا ہے کہ انتہا ہے یہ صورت گروں میں بیٹھنے کی دکھا رہے ہیں تواتر سے خامیاں میری بھگت رہا ہوں سزا آئنوں میں بیٹھنے کی نہیں مجال کسی کی کہ منتشر کر دے بنا چکے ہیں جو عادت صفوں میں بیٹھنے کی خزانے لٹتے رہیں گے یہ خالی ہونے تک اجاڑ دے گی یہ عادت گھروں میں بیٹھنے کی خدا عطا کرے عہدہ بڑا غریب کو اور بدل سکے نہ وہ خو نوکروں میں بیٹھنے کی خوشامدی نہیں رکھتا ہے اپنے کام سے کام تو کیا پڑی ہے تجھے افسروں میں بیٹھنے کی یہ دل اسکین کرانا بہت ضروری ہے کہ اطلاع ہے ترے دھڑکنوں میں بیٹھنے کی حیات سوئے عدم لے کے جا رہی ہیں عمرؔ جو عادتیں ہیں گئے موسموں میں بیٹھنے کی

ye kyaa paDi hai tujhe dil jalon mein baiThne ki

41 views

غزل · Ghazal

بعد مرنے کے کوئی بوسۂ رخصت دے گا کیا خدا مجھ کو بھی ایسی بھلی قسمت دے گا زندگی ہے یہ میاں رنج و الم تو ہوں گے جو گزارے گا وہ لازم ہے کہ قیمت دے گا فرضی دنیا سے نکل اور حقیقت لکھ دے شعر پرواز کرے گا تجھے عزت دے گا دیکھ مایوس نہ ہو کفر نہیں کر پیارے بے دلی چھوڑ خدا تجھ کو بھی راحت دے گا کر گئی عمر اکارت مری ہائے ہائے اک غلط فہمی کہ تو مجھ کو محبت دے گا کل ملا کے ہے اثاثہ مرا یہ عمر رواں رد نہیں ہوگی دعا رب مرا برکت دے گا میں تو سمجھا تھا محبت کا بلاوا ہے عمرؔ کیا خبر تھی وہ مجھے موت کی دعوت دے گا

baa'd marne ke koi bosa-e-rukhsat degaa

41 views

غزل · Ghazal

برا ہی کیا تھا جو آپ اپنی مثال ہوتے کمال ہوتے کسی طرح سے جو ٹوٹے رشتے بحال ہوتے کمال ہوتے یہ لیلیٰ مجنوں یہ ہیر رانجھا یہ شیریں فرہاد کی محبت تھی ایسی شدت کہیں جو ان کے وصال ہوتے کمال ہوتے پڑھا نہیں تھا نصاب الفت عمل میں آگے تھے ہر کسی سے سمجھتی دنیا اگر ہمیں بے مثال ہوتے کمال ہوتے وہ مجھ سے ملتا خموش رہتا خموشیوں پر ہی داد پاتا مگر جو نظروں سے منفرد سے سوال ہوتے کمال ہوتے یہ کیا کہ تنہائیوں سے رشتہ بنا کے خود کو گنوا لیا ہے سما کے مجھ میں جو آپ میرا جمال ہوتے کمال ہوتے جسے بھی دیکھا اسی کو دعوائے حسن کرتے سنا گیا ہے جہان بھر میں حسیں اگر خال خال ہوتے کمال ہوتے نصیب اپنا سخنوروں میں ہماری گنتی نہ ہو سکے گی عمرؔ اداکار ہم اگر با کمال ہوتے کمال ہوتے

buraa hi kyaa thaa jo aap apni misaal hote kamaal hote

41 views

غزل · Ghazal

وفا کی خو پس جاہ و جلال رہ گئی تھی انا کے خول میں وہ بے مثال رہ گئی تھی کھٹک رہی ہے نہ جانے کیوں آج بھی دل میں جو ایک بات درون سوال رہ گئی تھی ملا جو موقع تو ہم فائدہ اٹھائیں گے کہ پچھلی بار ادھوری دھمال رہ گئی تھی جناب قیس بھی مرنے میں حق بہ جانب تھے کہ شہر بھر میں وہی خوش خصال رہ گئی تھی سمے کی گرد نے اوجھل کیے سبھی قصے مگر جو ایک تھی چاہت کمال رہ گئی تھی غلط کہا تھا کہ راحت ملی محبت سے یہ زندگی تو تھکن سے نڈھال رہ گئی تھی یہ لوگ آگ لگانے میں اتنے ماہر تھے مصالحت تو پس اشتعال رہ گئی تھی میں اوڑھے پھرتا ہوں اب جون کے مہینے میں نشانی اس کی جو اک زرد شال رہ گئی تھی وہ مثل درد پڑا رہ گیا تھا سینے میں سو اس کی یاد بھی بن کے ملال رہ گئی تھی کبھی نہ سوچا عمرؔ اس کو ٹھیس پہنچے گی اسے مری مجھے فکر عیال رہ گئی تھی

vafaa ki khu pas-e-jaah-o-jalaal rah gai thi

41 views

Similar Poets