"ai mohtasib namaz-e-mohabbat ka vaqt hai dil ba-vuzu hai aur ghazal keh raha huun main"

Aasi Faiqi
Aasi Faiqi
Aasi Faiqi
Sherشعر
ai mohtasib namaz-e-mohabbat ka vaqt hai
اے محتسب نماز محبت کا وقت ہے دل با وضو ہے اور غزل کہہ رہا ہوں میں
na saaya hai na Tahni par samar hai
نہ سایہ ہے نہ ٹہنی پر ثمر ہے یہ موجودہ زمانے کا شجر ہے
jan-nashini ki jahan ra.e-shumari hogi
جاں نشینی کی جہاں رائے شماری ہوگی وہ یقیناً کسی سادھو کی سمادھی ہوگی
ta'mir-e-nau ke vaste bechain thi bahut
تعمیر نو کے واسطے بے چین تھی بہت چھت گر پڑی ہے اپنے شکستہ مکان کی
Popular Sher & Shayari
8 total"na saaya hai na Tahni par samar hai ye maujuda zamane ka shajar hai"
"jan-nashini ki jahan ra.e-shumari hogi vo yaqinan kisi sadhu ki samadhi hogi"
"ta'mir-e-nau ke vaste bechain thi bahut chhat gir paDi hai apne shikasta makan ki"
jaan-nashini ki jahaan raae-shumaari hogi
vo yaqinan kisi saadhu ki samaadhi hogi
taa'mir-e-nau ke vaaste bechain thi bahut
chhat gir paDi hai apne shikasta makaan ki
ai mohtasib namaaz-e-mohabbat kaa vaqt hai
dil baa-vuzu hai aur ghazal keh rahaa huun main
na saaya hai na Tahni par samar hai
ye maujuda zamaane kaa shajar hai
Ghazalغزل
us pe kyaa guzregi vaqt marg andaaza lagaa
اس پہ کیا گزرے گی وقت مرگ اندازہ لگا منتشر ہستی کا اپنی جس کو شیرازہ لگا اولیا اللہ کی چوکھٹ کے بھی آداب ہیں سر اٹھا کر جو بھی آیا اس کو دروازہ لگا نور کی چادر تنی ہے یوں فضائے دہر پر جیسے تارے توڑنے کو دست خمیازہ لگا جانے کس انداز سے اس شوخ نے ڈالی نظر جو پرانا زخم تھا وہ بھی ہمیں تازہ لگا میکدے کا ایک ہی دم میں بدل جائے نظام سوئے مے خانہ بھی آسیؔ ایسا آوازہ لگا
shab-e-gham ki zulfon ke saae baDhaa dein
شب غم کی زلفوں کے سائے بڑھا دیں کہو تو ستاروں کی شمعیں بجھا دیں مسیحا صفت ہو جلا دو نظر سے مریضان الفت بھی داد دوا دیں جو تم اضطراب محبت مٹا دو تمہیں بیقرار محبت دعا دیں محبت کے دستور سب سے نرالے ہمیں کام آئیں ہمیں کو سزا دیں تمہیں نے پلا کر تو بے خود کیا تھا تمہیں چاہئے تھا ہمیں آسرا دیں ہمیں زہر کا جام امرت ہے آصیؔ مگر شرط ہے آپ خود ہی پلا دیں
aap ki hasti kyaa hasti hai
آپ کی ہستی کیا ہستی ہے سرمستی ہی سرمستی ہے جب ہم آپس میں ملتے ہیں دنیا آوازیں کستی ہے مہنگائی کے یگ میں سوچو ماں کی ممتا کیوں سستی ہے بستی بسانا کھیل ہے کیا بستے بستے ہی بستی ہے یادوں کے دفتر میں آصیؔ گزرے لمحوں کی نستی ہے
aaina-dar-aaina har shai jahaan ki khuub hai
آئنہ در آئنہ ہر شے جہاں کی خوب ہے زینت آئینۂ دل جلوۂ محبوب ہے آئنے کو خود ہی کر دیتے ہیں اکثر پاش پاش اس لیے کہ صاف گوئی تلخ ہے معتوب ہے جس کے سینے سے بدل جاتی ہے دل کی کیفیت مست آنکھوں میں تمہاری کونسا مشروب ہے کون بتلائے گا پیمانے میں راز مے کشی اس میں کوئی مست ہے ابدال ہے مجذوب ہے با عمل میں حکمرانی کی ہے ہر اک دور میں بے عمل جو بھی ہے وہ محکوم ہے مغلوب ہے سارے عالم کی زباں شیریں زباں اردو رہے خادم اردو زباں کو اور کیا مطلوب ہے طاق نسیاں اولیں تخلیق عاصی فائقیؔ قبلہ فائقؔ محترم کے نام سے منسوب ہے
guftugu jis ki ba-andaaz-e-khirad hoti hai
گفتگو جس کی بہ انداز خرد ہوتی ہے اس کی تحریر محبت کی سند ہوتی ہے نگہ یار سے بچ جائے گا کوئی کیسے اس سے بڑھ کر بھی کہیں تیغ کی زد ہوتی ہے آج کل اینٹ کا پتھر سے ضروری ہے جواب ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے فکر فردا سے سروکار نہیں ہے ان کو جن کو ہر روز فقط فکر رسد ہوتی ہے آشنا اپنی قضا سے بھی نہیں ہے کوئی کون مرتا ہے کہاں کس کی لحد ہوتی ہے اپنی ہی آگ میں انساں کو جلاتی جائے نار دوزخ کی طرح خوئے حسد ہوتی ہے کب تلک غم کا نہ اظہار کریں ہم عاصیؔ ضد میں ہنسنے کی بھی آخر کوئی حد ہوتی ہے
khaak sahraa mein uDaati hai ye divaani havaa
خاک صحرا میں اڑاتی ہے یہ دیوانی ہوا اور بہاروں میں کرے گی چاک دامانی ہوا پیڑ اکھڑے گھر گرے آندھی چلی چھپر اڑے چل پڑی جس وقت آبادی میں دیوانی ہوا گرمیوں میں مضطرب تھے لوگ پانی کے لیے بادلوں کو کر گئی برسات میں پانی ہوا یوں ہوا محسوس پتوں کے کھڑکنے سے مجھے چپکے چپکے کرتی ہے اوراق گردانی ہوا روشنی ہی روشنی ہوتی جہاں میں ہر طرف گر چراغوں کی کیا کرتی نگہبانی ہوا ہائے پھر جذبات آسیؔ کو ہوا دینے لگے دل کے دریا میں کہیں لائے نہ طغیانی ہوا





