SHAWORDS
Abbas Rizvi

Abbas Rizvi

Abbas Rizvi

Abbas Rizvi

poet
10Shayari
10Ghazal

Popular Shayari

10 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

ہم ترے حسن جہاں تاب سے ڈر جاتے ہیں ایسے مفلس ہیں کہ اسباب سے ڈر جاتے ہیں خوف ایسا ہے کہ دنیا کے ستائے ہوئے لوگ کبھی منبر کبھی محراب سے ڈر جاتے ہیں رات کے پچھلے پہر نیند میں چلتے ہوئے لوگ خون ہوتے ہوئے مہتاب سے ڈر جاتے ہیں شاد رہتے ہیں اسی جامۂ عریانی میں ہاں مگر اطلس و کمخواب سے ڈر جاتے ہیں کبھی کرتے ہیں مبارز طلبی دنیا سے اور کبھی خواہش بے تاب سے ڈر جاتے ہیں جی تو کہتا ہے کہ چلئے اسی کوچے کی طرف ہم تری بزم کے آداب سے ڈر جاتے ہیں ہم تو وہ ہیں کہ جنہیں راس نہیں کوئی نگر کبھی ساحل کبھی گرداب سے ڈر جاتے ہیں

ham tire husn-e-jahaan-taab se Dar jaate hain

46 views

غزل · Ghazal

ستارے چاہتے ہیں ماہتاب مانگتے ہیں مرے دریچے نئی آب و تاب مانگتے ہیں وہ خوش خرام جب اس راہ سے گزرتا ہے تو سنگ و خشت بھی اذن خطاب مانگتے ہیں کوئی ہوا سے یہ کہہ دے ذرا ٹھہر جائے کہ رقص کرنے کی مہلت حباب مانگتے ہیں عجیب ہے یہ تماشا کہ میرے عہد کے لوگ سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ہیں طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں یہ احتساب عجب ہے کہ محتسب ہی نہیں رکاب تھامنے والے حساب مانگتے ہیں ستون و بام کی دیوار و در کی شرط نہیں بس ایک گھر ترے خانہ خراب مانگتے ہیں

sitaare chaahte hain maahtaab maangte hain

42 views

غزل · Ghazal

گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے سفر تمام ہوا اور ہم سفر بھی گئے اسی نظر کے لئے بے قرار رہتے تھے اسی نگاہ کی بے تابیوں سے ڈر بھی گئے ہماری راہ میں سایہ کہیں نہیں تھا مگر کسی شجر نے پکارا تو ہم ٹھہر بھی گئے یہ سیل اشک ہے برباد کر کے چھوڑے گا یہ گھر نہ پاؤ گے دریا اگر اتر بھی گئے سحر ہوئی تو یہ عقدہ بھی طائروں پہ کھلا کہ آشیاں ہی نہیں اب کے بال و پر بھی گئے بہت عزیز تھی یہ زندگی مگر ہم لوگ کبھی کبھی تو کسی آرزو میں مر بھی گئے شجر کے ساتھ کوئی برگ زرد بھی نہ رہا ہوا چلی تو بہاروں کے نوحہ گر بھی گئے

guzar gayaa vo zamaana vo zakhm bhar bhi gae

42 views

غزل · Ghazal

دھواں سا پھیل گیا دل میں شام ڈھلتے ہی بدل گئے مرے موسم ترے بدلتے ہی سمٹتے پھیلتے سائے کلام کرنے لگے لہو میں خوف کا پہلا چراغ جلتے ہی کوئی ملول سی خوشبو فضا میں تیر گئی کسی خیال کے حرف و صدا میں ڈھلتے ہی وہ دوست تھا کہ عدو میں نے صرف یہ جانا کہ وہ زمین پہ آیا مرے سنبھلتے ہی بدن کی آگ نے لفظوں کو پھر سے زندہ کیا حروف سبز ہوئے برف کے پگھلتے ہی وہ حبس تھا کہ ترستی تھی سانس لینے کو سو روح تازہ ہوئی جسم سے نکلتے ہی

dhuaan saa phail gayaa dil mein shaam Dhalte hi

41 views

غزل · Ghazal

اہل جنوں تھے فصل بہاراں کے سر گئے ہم لوگ خواہشوں کی حرارت سے مر گئے ہجر و وصال ایک ہی لمحے کی بات تھی وہ پل گزر گیا تو زمانے گزر گئے اے تیرگئ شہر تمنا بتا بھی دے وہ چاند کیا ہوئے وہ ستارے کدھر گئے وحشت کے اس نگر میں وہ قوس قزح سے لوگ جانے کہاں سے آئے تھے جانے کدھر گئے خوشبو اسیر کر کے اڑائے پھری ہمیں پھر یوں ہوا کہ ہم بھی فضا میں بکھر گئے

ahl-e-junun the fasl-e-bahaaraan ke sar gae

41 views

غزل · Ghazal

جب کوئی تیر حوادث کی کماں سے آیا نغمہ اک اور مرے مطرب جاں سے آیا ایک نظارے نے میرے لیے آنکھیں بھیجیں دل کسی کارگہہ شیشہ گراں سے آیا جب بھی اس دل نے ترے قرب کی دولت چاہی ایک سایہ سا نکل کر رگ جاں سے آیا میں نہ ڈرتا تھا عناصر کی ستم کوشی سے خوف آیا تو بس اک عمر رواں سے آیا کیا کروں خلعت و دستار کی خواہش کہ مجھے زیست کرنے کا سلیقہ بھی زیاں سے آیا میں تو اک خواب کو آنکھوں میں لیے پھرتا تھا یہ ستارہ مرے پہلو میں کہاں سے آیا

jab koi tiir havaadis ki kamaan se aayaa

41 views

Similar Poets