vahshat ke is nagar mein vo qaus-e-quzah se log
jaane kahaan se aae the jaane kidhar gae

Abbas Rizvi
Abbas Rizvi
Abbas Rizvi
Popular Shayari
10 totalkhauf aisaa hai ki duniyaa ke sataae hue log
kabhi mimbar kabhi mehraab se Dar jaate hain
tamaam umr ki be-taabiyon kaa haasil thaa
vo ek lamha jo sadiyon ke pesh-o-pas mein rahaa
bahut aziiz thi ye zindagi magar ham log
kabhi kabhi to kisi aarzu mein mar bhi gae
vo habs thaa ki tarasti thi saans lene ko
so ruuh taaza hui jism se nikalte hi
kyaa karun khilat o dastaar ki khvaahish ki mujhe
ziist karne kaa saliqa bhi ziyaan se aayaa
main jo chup thaa hama-tan-gosh thi basti saari
ab mire munh mein zabaan hai koi suntaa hi nahin
ajiib turfa-tamaashaa hai mere ahd ke log
savaal karne se pahle javaab maangte hain
ek naa-tavaan rishta us se ab bhi baaqi hai
jis tarah duaaon kaa aur asar kaa rishta hai
talab karein to ye aankhein bhi in ko de duun main
magar ye log in aankhon ke khvaab maangte hain
Ghazalغزل
ہم ترے حسن جہاں تاب سے ڈر جاتے ہیں ایسے مفلس ہیں کہ اسباب سے ڈر جاتے ہیں خوف ایسا ہے کہ دنیا کے ستائے ہوئے لوگ کبھی منبر کبھی محراب سے ڈر جاتے ہیں رات کے پچھلے پہر نیند میں چلتے ہوئے لوگ خون ہوتے ہوئے مہتاب سے ڈر جاتے ہیں شاد رہتے ہیں اسی جامۂ عریانی میں ہاں مگر اطلس و کمخواب سے ڈر جاتے ہیں کبھی کرتے ہیں مبارز طلبی دنیا سے اور کبھی خواہش بے تاب سے ڈر جاتے ہیں جی تو کہتا ہے کہ چلئے اسی کوچے کی طرف ہم تری بزم کے آداب سے ڈر جاتے ہیں ہم تو وہ ہیں کہ جنہیں راس نہیں کوئی نگر کبھی ساحل کبھی گرداب سے ڈر جاتے ہیں
ham tire husn-e-jahaan-taab se Dar jaate hain
46 views
ستارے چاہتے ہیں ماہتاب مانگتے ہیں مرے دریچے نئی آب و تاب مانگتے ہیں وہ خوش خرام جب اس راہ سے گزرتا ہے تو سنگ و خشت بھی اذن خطاب مانگتے ہیں کوئی ہوا سے یہ کہہ دے ذرا ٹھہر جائے کہ رقص کرنے کی مہلت حباب مانگتے ہیں عجیب ہے یہ تماشا کہ میرے عہد کے لوگ سوال کرنے سے پہلے جواب مانگتے ہیں طلب کریں تو یہ آنکھیں بھی ان کو دے دوں میں مگر یہ لوگ ان آنکھوں کے خواب مانگتے ہیں یہ احتساب عجب ہے کہ محتسب ہی نہیں رکاب تھامنے والے حساب مانگتے ہیں ستون و بام کی دیوار و در کی شرط نہیں بس ایک گھر ترے خانہ خراب مانگتے ہیں
sitaare chaahte hain maahtaab maangte hain
42 views
گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے سفر تمام ہوا اور ہم سفر بھی گئے اسی نظر کے لئے بے قرار رہتے تھے اسی نگاہ کی بے تابیوں سے ڈر بھی گئے ہماری راہ میں سایہ کہیں نہیں تھا مگر کسی شجر نے پکارا تو ہم ٹھہر بھی گئے یہ سیل اشک ہے برباد کر کے چھوڑے گا یہ گھر نہ پاؤ گے دریا اگر اتر بھی گئے سحر ہوئی تو یہ عقدہ بھی طائروں پہ کھلا کہ آشیاں ہی نہیں اب کے بال و پر بھی گئے بہت عزیز تھی یہ زندگی مگر ہم لوگ کبھی کبھی تو کسی آرزو میں مر بھی گئے شجر کے ساتھ کوئی برگ زرد بھی نہ رہا ہوا چلی تو بہاروں کے نوحہ گر بھی گئے
guzar gayaa vo zamaana vo zakhm bhar bhi gae
42 views
دھواں سا پھیل گیا دل میں شام ڈھلتے ہی بدل گئے مرے موسم ترے بدلتے ہی سمٹتے پھیلتے سائے کلام کرنے لگے لہو میں خوف کا پہلا چراغ جلتے ہی کوئی ملول سی خوشبو فضا میں تیر گئی کسی خیال کے حرف و صدا میں ڈھلتے ہی وہ دوست تھا کہ عدو میں نے صرف یہ جانا کہ وہ زمین پہ آیا مرے سنبھلتے ہی بدن کی آگ نے لفظوں کو پھر سے زندہ کیا حروف سبز ہوئے برف کے پگھلتے ہی وہ حبس تھا کہ ترستی تھی سانس لینے کو سو روح تازہ ہوئی جسم سے نکلتے ہی
dhuaan saa phail gayaa dil mein shaam Dhalte hi
41 views
اہل جنوں تھے فصل بہاراں کے سر گئے ہم لوگ خواہشوں کی حرارت سے مر گئے ہجر و وصال ایک ہی لمحے کی بات تھی وہ پل گزر گیا تو زمانے گزر گئے اے تیرگئ شہر تمنا بتا بھی دے وہ چاند کیا ہوئے وہ ستارے کدھر گئے وحشت کے اس نگر میں وہ قوس قزح سے لوگ جانے کہاں سے آئے تھے جانے کدھر گئے خوشبو اسیر کر کے اڑائے پھری ہمیں پھر یوں ہوا کہ ہم بھی فضا میں بکھر گئے
ahl-e-junun the fasl-e-bahaaraan ke sar gae
41 views
جب کوئی تیر حوادث کی کماں سے آیا نغمہ اک اور مرے مطرب جاں سے آیا ایک نظارے نے میرے لیے آنکھیں بھیجیں دل کسی کارگہہ شیشہ گراں سے آیا جب بھی اس دل نے ترے قرب کی دولت چاہی ایک سایہ سا نکل کر رگ جاں سے آیا میں نہ ڈرتا تھا عناصر کی ستم کوشی سے خوف آیا تو بس اک عمر رواں سے آیا کیا کروں خلعت و دستار کی خواہش کہ مجھے زیست کرنے کا سلیقہ بھی زیاں سے آیا میں تو اک خواب کو آنکھوں میں لیے پھرتا تھا یہ ستارہ مرے پہلو میں کہاں سے آیا
jab koi tiir havaadis ki kamaan se aayaa
41 views





