"niind miTTi ki mahak sabze ki ThanDak mujh ko apna ghar bahut yaad aa raha hai"

Abdul Ahad Saaz
Abdul Ahad Saaz
Abdul Ahad Saaz
Sherشعر
See all 44 →niind miTTi ki mahak sabze ki ThanDak
نیند مٹی کی مہک سبزے کی ٹھنڈک مجھ کو اپنا گھر بہت یاد آ رہا ہے
nazar to aate hain kamron men chalte-phirte magar
نظر تو آتے ہیں کمروں میں چلتے پھرتے مگر یہ گھر کے لوگ نہ جانے کہاں گئے ہوئے ہیں
tum apne Thor-Thikanon ko yaad rakkho 'saz'
تم اپنے ٹھور ٹھکانوں کو یاد رکھو سازؔ ہمارا کیا ہے کہ ہم تو کہیں بھی رہتے ہیں
sho.alon se be-kar Darate ho ham ko
شعلوں سے بے کار ڈراتے ہو ہم کو گزرے ہیں ہم سرد جہنم زاروں سے
jitne marka-e-dil vo lagatar gaya
جیتنے معرکۂ دل وہ لگاتار گیا جس گھڑی فتح کا اعلان ہوا ہار گیا
muflisi bhuuk ko shahvat se mila deti hai
مفلسی بھوک کو شہوت سے ملا دیتی ہے گندمی لمس میں ہے ذائقۂ نان جویں
Popular Sher & Shayari
88 total"nazar to aate hain kamron men chalte-phirte magar ye ghar ke log na jaane kahan ga.e hue hain"
"tum apne Thor-Thikanon ko yaad rakkho 'saz' hamara kya hai ki ham to kahin bhi rahte hain"
"sho.alon se be-kar Darate ho ham ko guzre hain ham sard jahannam-zaron se"
"jitne marka-e-dil vo lagatar gaya jis ghaDi fat.h ka ailan hua haar gaya"
"muflisi bhuuk ko shahvat se mila deti hai gandumi lams men hai za.iqa-e-nan-e-javin"
sher achchhe bhi kaho sach bhi kaho kam bhi kaho
dard ki daulat-e-naayaab ko rusvaa na karo
pas-manzar mein 'fēd' hue jaate hain insaani kirdaar
focus mein rafta rafta shaitaan ubhartaa aataa hai
raat hai log ghar mein baiThe hain
daftar-aaluda o dukaan-zada
abas hai raaz ko paane ki justuju kyaa hai
ye chaak-e-dil hai use haajat-e-rafu kyaa hai
main ek saaat-e-be-khud mein chhu gayaa thaa jise
phir us ko lafz tak aate hue zamaane lage
be-masraf be-haasil dukh
jiine ke naa-qaabil dukh
Ghazalغزل
band fasilein shahr ki toDein zaat ki girhein kholein
بند فصیلیں شہر کی توڑیں ذات کی گرہیں کھولیں برگد نیچے ندی کنارے بیٹھ کہانی بولیں دھیرے دھیرے خود کو نکالیں اس بندھن جکڑن سے سنگ کسی آوارہ منش کے ہولے ہولے ہو لیں فکر کی کس سرشار ڈگر پر شام ڈھلے جی چاہا جھیل میں ٹھہرے اپنے عکس کو چومیں ہونٹ بھگو لیں ہاتھ لگا بیٹھے تو جیون بھر مقروض رہیں گے دام نہ پوچھیں درد کے صاحب پہلے جیب ٹٹولیں نوشادر گندھک کی زباں میں شعر کہیں اس یگ میں سچ کے نیلے زہر کو لہجے کے تیزاب میں گھولیں اپنی نظر کے باٹ نہ رکھیں سازؔ ہم اک پلڑے میں بوجھل تنقیدوں سے کیوں اپنے اظہار کو تولیں
meri aankhon se guzar kar dil o jaan mein aanaa
میری آنکھوں سے گزر کر دل و جاں میں آنا جسم میں ڈھل کے مری روح رواں میں آنا کھو نہ جانا مری جاں سرحد جاں تک آ کے قرب کا پاس لیے بعد کراں میں آنا میں ترے حسن کو رعنائی معنی دے دوں تو کسی شب مرے انداز بیاں میں آنا ساتھ چلنے کو رفیق رہ دنیا ہیں بہت تو مرے ساتھ مرے اپنے جہاں میں آنا لا مکاں شعر کی بندش میں سمٹنا پل بھر آسماں آئینۂ آب رواں میں آنا عشق نے دیکھ لیے حسن میں آفاق تمام ایک سکتے کا وہ عمر گزراں میں آنا زینت دست حنائی ہے یہی دزد حنا غیب کا معرضۂ وقت و مکاں میں آنا تشنۂ نور مری فکر کے مہتاب و نجوم مرے خورشید مری کاہکشاں میں آنا
savaal be-amaan ban ke rah gae
سوال بے امان بن کے رہ گئے جواب امتحان بن کے رہ گئے حد نگاہ تک بلند فلسفے گھروں کے سائبان بن کے رہ گئے جو ذہن، آگہی کی کار گاہ تھے خیال کی دکان بن کے رہ گئے بیاض پر سنبھل سکے نہ تجربے پھسل پڑے بیان بن کے رہ گئے کرن کرن یقین جیسے راستے دھواں دھواں گمان بن کے رہ گئے ضیائیں بانٹتے تھے، چاند تھے کبھی گہن لگا تو دان بن کے رہ گئے مرا وجود شہر شہر ہو گیا کہیں کہیں نشان 'بن' کے رہ گئے کمر جواب دے کے جھک گئی بدن سوالیہ نشان بن کے رہ گئے میں فن کی ساعتوں کو لب نہ دے سکا نقوش بے زبان بن کے رہ گئے نفس نفس طلب طلب تھے سازؔ ہم قدم قدم تکان بن کے رہ گئے
yuun bhi dil ahbaab ke ham ne gaahe gaahe rakkhe the
یوں بھی دل احباب کے ہم نے گاہے گاہے رکھے تھے اپنے زخم نظر پر خوش فہمی کے پھاہے رکھے تھے ہم نے تضاد دہر کو سمجھا دوراہے ترتیب دیئے اور برتنے نکلے تو دیکھا سہ راہے رکھے تھے رقص کدہ ہو بزم سخن ہو کوئی کار گہہ فن ہو زردوزوں نے اپنی ماتحتی میں جلاہے رکھے تھے محتسبوں کی خاطر بھی اپنے اظہار میں کچھ پہلو رکھ تو لیے تھے ہم نے اب چاہے ان چاہے رکھے تھے جو وجہ راحت بھی نہ تھے اور ٹوٹ گئے تو غم نہ ہوا آہ وہ رشتے کیوں ہم نے اک عمر نباہے رکھے تھے کاہکشاں بندی میں سخن کی رہ گئی سازؔ کسر کیسی لفظ تو ہم نے چن کے نجومے مہرے ماہے رکھے تھے
saamea lazzat-e-bayaan-zada
سامعہ لذت بیان زدہ ذہن و دل سحر داستان زدہ فکر و تحقیق رہن مہر و سند طالب علم امتحان زدہ ذات کی فکر ہے قیاس آلود زندگی کا یقیں گمان زدہ رات پہچان دے گئی سب کو صبح چہرے ملے نشان زدہ تاک میں ہے نہ کہ تعاقب میں تو شکاری ہے پر مچان زدہ ان کی فکر رسا فلک پیما اپنی سوچیں ہیں آسمان زدہ خود سے رشتے نہیں رہے لیکن لوگ اب بھی ہیں خاندان زدہ رات ہے لوگ گھر میں بیٹھے ہیں دفتر آلودہ و دکان زدہ
lafzon ke sahraa mein kyaa maani ke saraab dikhaanaa bhi
لفظوں کے صحرا میں کیا معنی کے سراب دکھانا بھی کوئی سخن سحابی کوئی نغمہ نخلستانہ بھی اک مدت سے ہوش و خبر کی خاموشی رائج ہے یہاں کاش دیار عصر میں گونجے کوئی صدا مستانہ بھی نپے تلے آہنگ پہ کب تک سنبھل سنبھل کر رقص کریں کوئی دھن دیوانی کوئی حرکت مجنونانا بھی شہر سے باہر کہساروں کے بیچ یہ ٹھہرا ٹھہرا دن کتنا اپنا سا لگتا ہے آج دل بیگانہ بھی ایک طلسمی راہ فصیل تن سے نواح جاں تک ہے جس کی کھوج میں کھو جاؤ تو ممکن ہے پا جانا بھی آگاہی معکوس سفر ہے دانش گاہ کے رستے کا جس کا ہر جانا پہچانا منظر ہے انجانا بھی بول وہی ہیں سر بھی وہی مضراب کی جنبش بدلے تو یاس و الم کے تاروں میں مضمر ہے ایک ترانہ بھی حاصل اور لا حاصل پر اب ویسے بھی کیا غور کریں اور چھلکنے والا ہو جب سانسوں کا پیمانہ بھی کتنی آگ کشاکش کتنی کتنا تحمل ہے درکار سازؔ کوئی آسان نہیں ہے لفظوں کو پگھلانا بھی





