SHAWORDS
Abdul Ahad Saaz

Abdul Ahad Saaz

Abdul Ahad Saaz

Abdul Ahad Saaz

poet
44Sher
44Shayari
51Ghazal

Sherشعر

See all 44

Popular Sher & Shayari

88 total

Ghazalغزل

See all 51
غزل · Ghazal

band fasilein shahr ki toDein zaat ki girhein kholein

بند فصیلیں شہر کی توڑیں ذات کی گرہیں کھولیں برگد نیچے ندی کنارے بیٹھ کہانی بولیں دھیرے دھیرے خود کو نکالیں اس بندھن جکڑن سے سنگ کسی آوارہ منش کے ہولے ہولے ہو لیں فکر کی کس سرشار ڈگر پر شام ڈھلے جی چاہا جھیل میں ٹھہرے اپنے عکس کو چومیں ہونٹ بھگو لیں ہاتھ لگا بیٹھے تو جیون بھر مقروض رہیں گے دام نہ پوچھیں درد کے صاحب پہلے جیب ٹٹولیں نوشادر گندھک کی زباں میں شعر کہیں اس یگ میں سچ کے نیلے زہر کو لہجے کے تیزاب میں گھولیں اپنی نظر کے باٹ نہ رکھیں سازؔ ہم اک پلڑے میں بوجھل تنقیدوں سے کیوں اپنے اظہار کو تولیں

غزل · Ghazal

meri aankhon se guzar kar dil o jaan mein aanaa

میری آنکھوں سے گزر کر دل و جاں میں آنا جسم میں ڈھل کے مری روح رواں میں آنا کھو نہ جانا مری جاں سرحد جاں تک آ کے قرب کا پاس لیے بعد کراں میں آنا میں ترے حسن کو رعنائی معنی دے دوں تو کسی شب مرے انداز بیاں میں آنا ساتھ چلنے کو رفیق رہ دنیا ہیں بہت تو مرے ساتھ مرے اپنے جہاں میں آنا لا مکاں شعر کی بندش میں سمٹنا پل بھر آسماں آئینۂ آب رواں میں آنا عشق نے دیکھ لیے حسن میں آفاق تمام ایک سکتے کا وہ عمر گزراں میں آنا زینت دست حنائی ہے یہی دزد حنا غیب کا معرضۂ وقت و مکاں میں آنا تشنۂ نور مری فکر کے مہتاب و نجوم مرے خورشید مری کاہکشاں میں آنا

غزل · Ghazal

savaal be-amaan ban ke rah gae

سوال بے امان بن کے رہ گئے جواب امتحان بن کے رہ گئے حد نگاہ تک بلند فلسفے گھروں کے سائبان بن کے رہ گئے جو ذہن، آگہی کی کار گاہ تھے خیال کی دکان بن کے رہ گئے بیاض پر سنبھل سکے نہ تجربے پھسل پڑے بیان بن کے رہ گئے کرن کرن یقین جیسے راستے دھواں دھواں گمان بن کے رہ گئے ضیائیں بانٹتے تھے، چاند تھے کبھی گہن لگا تو دان بن کے رہ گئے مرا وجود شہر شہر ہو گیا کہیں کہیں نشان 'بن' کے رہ گئے کمر جواب دے کے جھک گئی بدن سوالیہ نشان بن کے رہ گئے میں فن کی ساعتوں کو لب نہ دے سکا نقوش بے زبان بن کے رہ گئے نفس نفس طلب طلب تھے سازؔ ہم قدم قدم تکان بن کے رہ گئے

غزل · Ghazal

yuun bhi dil ahbaab ke ham ne gaahe gaahe rakkhe the

یوں بھی دل احباب کے ہم نے گاہے گاہے رکھے تھے اپنے زخم نظر پر خوش فہمی کے پھاہے رکھے تھے ہم نے تضاد دہر کو سمجھا دوراہے ترتیب دیئے اور برتنے نکلے تو دیکھا سہ راہے رکھے تھے رقص کدہ ہو بزم سخن ہو کوئی کار گہہ فن ہو زردوزوں نے اپنی ماتحتی میں جلاہے رکھے تھے محتسبوں کی خاطر بھی اپنے اظہار میں کچھ پہلو رکھ تو لیے تھے ہم نے اب چاہے ان چاہے رکھے تھے جو وجہ راحت بھی نہ تھے اور ٹوٹ گئے تو غم نہ ہوا آہ وہ رشتے کیوں ہم نے اک عمر نباہے رکھے تھے کاہکشاں بندی میں سخن کی رہ گئی سازؔ کسر کیسی لفظ تو ہم نے چن کے نجومے مہرے ماہے رکھے تھے

غزل · Ghazal

saamea lazzat-e-bayaan-zada

سامعہ لذت بیان زدہ ذہن و دل سحر داستان زدہ فکر و تحقیق رہن مہر و سند طالب علم امتحان زدہ ذات کی فکر ہے قیاس آلود زندگی کا یقیں گمان زدہ رات پہچان دے گئی سب کو صبح چہرے ملے نشان زدہ تاک میں ہے نہ کہ تعاقب میں تو شکاری ہے پر مچان زدہ ان کی فکر رسا فلک پیما اپنی سوچیں ہیں آسمان زدہ خود سے رشتے نہیں رہے لیکن لوگ اب بھی ہیں خاندان زدہ رات ہے لوگ گھر میں بیٹھے ہیں دفتر آلودہ و دکان زدہ

غزل · Ghazal

lafzon ke sahraa mein kyaa maani ke saraab dikhaanaa bhi

لفظوں کے صحرا میں کیا معنی کے سراب دکھانا بھی کوئی سخن سحابی کوئی نغمہ نخلستانہ بھی اک مدت سے ہوش و خبر کی خاموشی رائج ہے یہاں کاش دیار عصر میں گونجے کوئی صدا مستانہ بھی نپے تلے آہنگ پہ کب تک سنبھل سنبھل کر رقص کریں کوئی دھن دیوانی کوئی حرکت مجنونانا بھی شہر سے باہر کہساروں کے بیچ یہ ٹھہرا ٹھہرا دن کتنا اپنا سا لگتا ہے آج دل بیگانہ بھی ایک طلسمی راہ فصیل تن سے نواح جاں تک ہے جس کی کھوج میں کھو جاؤ تو ممکن ہے پا جانا بھی آگاہی معکوس سفر ہے دانش گاہ کے رستے کا جس کا ہر جانا پہچانا منظر ہے انجانا بھی بول وہی ہیں سر بھی وہی مضراب کی جنبش بدلے تو یاس و الم کے تاروں میں مضمر ہے ایک ترانہ بھی حاصل اور لا حاصل پر اب ویسے بھی کیا غور کریں اور چھلکنے والا ہو جب سانسوں کا پیمانہ بھی کتنی آگ کشاکش کتنی کتنا تحمل ہے درکار سازؔ کوئی آسان نہیں ہے لفظوں کو پگھلانا بھی

Similar Poets