chhapi thi jis ki ghazal mein zamaane bhar ki khushi
khud us ki ziist kaa naghma azaab saa ubhraa

Abdul Matin Jami
Abdul Matin Jami
Abdul Matin Jami
Popular Shayari
2 totaluchhaale jis pe malaamat ke sang logon ne
vajud us kaa muqaddas kitaab saa ubhraa
Ghazalغزل
وہ کرب جو ازل سے نہاں رہ گزر میں تھا منزل کی پیاس بن کے ہمارے جگر میں تھا ٹکرا کے سنگ وقت سے وہ خود بخود گرا اک رخش وہم کا جو ازل سے سفر میں تھا تم وسعت فلک میں مجھے ڈھونڈتے رہے جب میں خود اس زمین کے ہر خشک و تر میں تھا ظلمت کی تیز دھوپ سے اس نے بچا لیا اک پیڑ روشنی کا جو اس رہ گزر میں تھا یوں غیریت کا زرد لبادہ تھا جسم پر ہر ذرہ کائنات کا اپنی نظر میں تھا گرد و غبار وقت سے یہ ڈھک کے رہ گیا جامیؔ لہو کا رنگ جو دیوار و در میں تھا
vo karb jo azal se nihaan rahguzar mein thaa
41 views
آئیے دہر میں انسان کا چہرہ ڈھونڈیں بے یقینی میں بھی امکان کا چہرہ ڈھونڈیں اہل فن دامن اخلاص طلب کرتے ہیں شہر کی بھیڑ میں پہچان کا چہرہ ڈھونڈیں عدل پر اپنے سرابوں کا اثر حاوی ہے دوستوں آؤ کہ میزان کا چہرہ ڈھونڈیں بھوک سے لوگ تڑپتے ہیں گھروں میں اپنے اہل ثروت میں ہم احسان کا چہرہ ڈھونڈیں کھیت میں فصل سحر پکنے لگی ہے پھر سے ہم ہر اک دانے پہ دہقان کا چہرہ ڈھونڈیں ہیں ہجوم غم دوراں سے پریشان تو کیا اپنے اسلاف کے ایوان کا چہرہ ڈھونڈیں یاس و حسرت کی ریاست میں نہیں ہم تنہا قریہ قریہ چلو ہیجان کا چہرہ ڈھونڈیں
aaiye dahr mein insaan kaa chehra DhunDein
41 views
اپنی آنکھوں کے صدف کو حسن کا گوہر نہ دے شام کی ویرانیاں دے صبح کا منظر نہ دے ساتھ ہے بے چہرگی کے کارواں کا سلسلہ دوستی کے آئنے کو یاد کا جوہر نہ دے سرد رومانی پہر کا جذبۂ تخلیق ہوں مجھ کو ایام گزشتہ کی کوئی چادر نہ دے فکر و فن کا اک نیا انداز ہوں اس دور میں گرد راہ آگہی ہوں آسماں دے گھر نہ دے رفتہ رفتہ مصلحت کی نہر میں اتروں گا جب اے غم دوراں تو مجھ کو وہم کا نشتر نہ دے شاعری اپنی ہے جامیؔ عہد نو کی داستاں میرؔ کے آنسو سہی خیام کے تیور نہ دے
apni aankhon ke sadaf ko husn kaa gauhar na de
41 views
آگ کے صحرا میں اپنا لمحہ لمحہ زرد تھا باد وحشت چل رہی تھی چہرہ چہرہ زرد تھا آ گیا تھا روشنی کے دائرے میں جب شگاف آگہی کی سلطنت میں سایہ سایہ زرد تھا اک صحیفہ تھا بعنوان وفاداری مگر صفحہ صفحہ پر تھی سرخی نقطہ نقطہ زرد تھا ہر کوئی تھا حادثوں کی تیز آندھی کا اسیر یاس کا تھا دور دورہ چہرہ چہرہ زرد تھا ہر تنفس تھا بقا کی کشمکش میں مبتلا واہموں کی سرزمیں کا خطہ خطہ زرد تھا اس قدر ویرانیوں کو ساتھ لائی تھی بہار پیڑ کا چہرہ لٹا تھا پتا پتا زرد تھا
aag ke sahraa mein apnaa lamha lamha zard thaa
41 views
دل اپنا آب جوئے حقائق کے پاس ہے محروم کیوں ازل سے مرے فن کی پیاس ہے ہر لمحہ اپنا رنگ بدلتا ہے یہ جہاں اب وقت کو بھی دیکھیے موقع شناس ہے میرے یقیں کے راستے تاریک ہیں بہت اک عزم کا چراغ مگر اپنے پاس ہے کہنے لگے ہو مجھ کو ہی ننگ وجود کیوں دیکھو تو سارا شہر ہی اب بے لباس ہے جو شیشۂ یقیں کو بھی یک لخت توڑ دے یاروں کے ہاتھ میں وہی سنگ قیاس ہے شاید انوکھا حادثہ گزرا ہے رات کو سورج کا چہرہ صبح سے کتنا اداس ہے
dil apnaa aab-ju-e-haqaaeq ke paas hai
41 views
درد کا شہر ہے ارمان کی باتیں کر لیں سارے روندے ہوئے انسان کی باتیں کر لیں غم و آلام کی لکھی ہے کہانی ہم نے بزم احباب میں عنوان کی باتیں کر لیں خود غرض لوگوں میں حاتم کو کہاں ڈھونڈیں ہم کوئے افلاس میں امکان کی باتیں کر لیں نفع و نقصاں سے سروکار نہیں ہے ہم کو خادم خلق ہیں احسان کی باتیں کر لیں مصنف وقت اگر کھو گیا تاریکی میں تاروں کی چھاؤں میں میزان کی باتیں کر لیں آج محفل میں چلے آئے ہیں جامیؔ کیسے ان سے ہم وقت کے بحران کی باتیں کر لیں
dard kaa shahr hai armaan ki baatein kar lein
41 views





