SHAWORDS
Abdullah Saqib

Abdullah Saqib

Abdullah Saqib

Abdullah Saqib

poet
4Shayari
15Ghazal

Popular Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

کھل اٹھے چہرۂ گمنام جب اس نے دیکھا آئنے بھول گئے کام جب اس نے دیکھا سا رے گا ما پا ہوئی صبح زباں جب کھولی فاعلاتن پہ ہوئی شام جب اس نے دیکھا نیم جاں کان لیے اس کے قریں جا پہنچے پختہ پختہ بھی ہوئے خام جب اس نے دیکھا اللہ اللہ یہ کیا خوب نظر بازی ہے مے کشی پی گئی خود جام جب اس نے دیکھا حضرت دل تو سگ کوئے ملامت ٹھہرے آ گیا آپ کو آرام جب اس نے دیکھا جاں کنی منتظر چشم غزالی تھی مری اور تاریک ہوئی شام جب اس نے دیکھا

khil uThe chehra-e-gumnaam jab us ne dekhaa

41 views

غزل · Ghazal

معصیت راہ کی دیوار ہوئی جاتی ہے اب ڈگر اور بھی پر خار ہوئی جاتی ہے وہ قناعت ہے طبیعت میں کہ وقت رخصت اک نظر حاصل دیدار ہوئی جاتی ہے کون ہے نغمہ سرا آج کہ روح مردہ رقص کرتی ہے تو سرشار ہوئی جاتی ہے عقل رقبہ ہے کہ آباد ہوا جاتا ہے دل عمارت ہے کہ مسمار ہوئی جاتی ہے دو رخے پن پہ ذرا ہونے لگا کیا مائل اک حمیت ہے کہ بیدار ہوئی جاتی ہے کیا ہوا تجھ کو مری ہمت دشوار پسند ذمہ داری بھی گراں بار ہوئی جاتی ہے کون سے در پہ پٹک آؤں سر نا اہلاں خود پسندی بھی دل آزار ہوئی جاتی ہے کل یہی ترک تعلق پہ مصر تھی ثاقبؔ آج دیکھو یہی دلدار ہوئی جاتی ہے

maa'siyat raah ki divaar hui jaati hai

41 views

غزل · Ghazal

دل سے سنے گا کون یہاں پر بیان دل کس کے حضور پیش کروں ارمغان دل باد مخالفاں کی سعی رائیگاں گئی کھلنے کو مستعد ہی نہیں بادبان دل اکتا کے ہر مکین نے ہجرت کی ٹھان لی کتنی خراشیں آ گئی ہیں درمیان دل اس نے بڑھا لی غیر سے رسم و رہ خرد ہم نے سجانا چھوڑ دیا ہے مکان دل سایہ فگن ہے نقش کف پائے مصطفیٰ منزل کی خاک فکر کرے کاروان دل رک جا ابھی نہ رحم و کرم کی نگاہ کر اجڑے گا بے حساب ابھی گلستان دل ہر دم اسے عزیز ہے پاکی نگاہ کی خوں سے لکھی ہوئی ہے مری داستان دل

dil se sunegaa kaun yahaan par bayaan-e-dil

41 views

غزل · Ghazal

طور دیکھا بھی نہیں پردہ کشائی بھی نہیں ہوش کھویا بھی نہیں جان گنوائی بھی نہیں رہبر عرش معلیٰ کی سواری پہونچی اور مدینے میں ابھی کوئی ندائی بھی نہیں پائے دل بستۂ زنجیر نظر ہوتا گیا اور قسمت میں کسی طور رہائی بھی نہیں میرے دامن پہ یہ کس راہ سے چھینٹیں آئیں داستاں بر سر محفل تو سنائی بھی نہیں میری تنہائی کے سناٹے میں لرزاں ہے سکوت صورت قیس تو وحشت نے دکھائی بھی نہیں یہ فقط واقعۂ دار سے خوں بار ہوئی خوں ترشح سے تو دیوار سجائی بھی نہیں

tuur dekhaa bhi nahin parda-kushaai bhi nahin

41 views

غزل · Ghazal

رگوں کا خون سخن میں نچوڑ کر رکھ دوں بساط عجز پہ کیا چاہیے یہ سر رکھ دوں خدائے عشق کی ضو ریزیاں تمام ہوئیں مآل کار ہنر یہ ہے اب ہنر رکھ دوں کسی کی یاد میں آنکھوں سے نور بہتا ہو کسی کی یاد میں آنکھوں کو ریگ پر رکھ دوں اگر کہو تو سر عشق میں رہوں مدہوش اگر کہو تو یہیں سارے کر و فر رکھ دوں پئے ادب یہ قدم بوس ہونے لگتا ہے فرات رم میں قدم بھی کہیں اگر رکھ دوں کسی کی یاد کی حرمت سے بچ نکلتا ہے خیال آتا ہے سینے کو چیر کر رکھ دوں

ragon kaa khuun sukhan mein nichoD kar rakh duun

41 views

غزل · Ghazal

کاشانۂ ہستی کو ذرا اور نکھارے مہمان رہ طور سے پردیس سدھارے میں شاخ صنوبر پہ مہک کا متلاشی اے وائے بہارے اگر این است بہارے وہ چشم ستم بر زہے قسمت کبھی اٹھے بے داغیٔ دامن ہے کوئی داغ پدھارے کہنے دے ابھی اور ذرا دیر ذرا اور ہم بازیٔ الفت تری سرکار میں ہارے سب ناکس و کس جل گئے از حدت دل سوز اے پیر فلک چاند ولے چند ستارے میں وادیٔ بیزار سے سب دیکھ رہا ہوں بے آتش ادراک سر طور شرارے کن گیر و ازل گیر و ابد گیر ہے یہ نام سو دل ہوں کسو پاس سو اس نام پہ ہارے اب پرسش احوال کسی اور حوالے میں بارگہہ عشق سے اٹھنے کو ہوں پیارے

kaashaana-e-hasti ko zaraa aur nikhaare

41 views

Similar Poets