"na koi chhat hai na divar hai na darvaza ye mo.ajiza hai ki ham aise ghar men rahte hain"

Abdussamad Khateeb
Abdussamad Khateeb
Abdussamad Khateeb
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"unhin se tazgi-e-zehn hai nasib mujhe gulab chehre hamesha nazar men rahte hain"
na koi chhat hai na divaar hai na darvaaza
ye moajiza hai ki ham aise ghar mein rahte hain
unhin se taazgi-e-zehn hai nasib mujhe
gulaab chehre hamesha nazar mein rahte hain
Ghazalغزل
mah-o-nujum ki surat safar mein rahte hain
مہہ و نجوم کی صورت سفر میں رہتے ہیں کہ شب گزیدہ تلاش سحر میں رہتے ہیں ہمارا عقل سے کچھ ربط ہی نہیں جیسے جنوں اسیر ہیں دل کے اثر میں رہتے ہیں نہ کوئی چھت ہے نہ دیوار ہے نہ دروازہ یہ معجزہ ہے کہ ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں وفا طلب تو بہت ہیں وفا شعار نہیں یہ کس جہاں میں ہیں ہم کس نگر میں رہتے ہیں بچھڑ کے دونوں ہی آباد ہیں خدا شاہد وہ اپنے گھر میں تو ہم اپنے گھر میں رہتے ہیں انہیں سے تازگیٔ ذہن ہے نصیب مجھے گلاب چہرے ہمیشہ نظر میں رہتے ہیں جہاں سے ربط نہ کوئی تعلق اپنا خطیبؔ ہم اہل عشق سدا خواب اثر میں رہتے ہیں
ye baat sach hai mujhe 'ishq par ghurur nahin
یہ بات سچ ہے مجھے عشق پر غرور نہیں یہ تیرا حسن مری دسترس سے دور نہیں ہر ایک شخص ہے اپنی انا کے نشے میں ہے کون ایسا جو اپنی خودی میں چور نہیں دل و نگاہ کی گہرائی ناپنے والو کلیم تم بھی نہیں اور ہم بھی طور نہیں یہ خوش بیانی یہ طرز سخن یہ حسن خیال خدا کی دین پہ مجھ کو کوئی غرور نہیں خطیبؔ تم کو ملے گی کچھ اور رسوائی اگر کہو گے کہ میرا کوئی قصور نہیں
ahl-e-dil saada tabi'at hain ye kyaa karte hain
اہل دل سادہ طبیعت ہیں یہ کیا کرتے ہیں حسن والوں سے بھی امید وفا کرتے ہیں کتنے احسان فراموش ہیں دنیا والے جن پہ احسان کرو وہ ہی دغا کرتے ہیں ہائے افسوس کہ یہ اہل سیاست افسوس باپ کو بیٹے سے پل بھر میں جدا کرتے ہیں عیش میں ہوتے ہیں رنگینیٔ دنیا کے اسیر لوگ مشکل میں فقط یاد خدا کرتے ہیں در بدر ہوتے ہیں تہذیب و تمدن والے بے ادب شان سے دنیا میں رہا کرتے ہیں تم رہو شاد زمانے میں بہر لمحہ خطیبؔ ہم تو بس موت کے آنے کی دعا کرتے ہیں
meri aankhon mein jhijakte hue khvaabon jaisaa
میری آنکھوں میں جھجکتے ہوئے خوابوں جیسا کون ہے عکس یہ کس کا ہے حجابوں جیسا گفتگو اس کی محبت کی عبارت جیسے زاویہ اس کے لبوں کا ہے کتابوں جیسا جو بھی سنتا ہے وہی ہوش گنوا دیتا ہے اس کا انداز تکلم ہے ربابوں جیسا آج سورج کی طرح ہے سر منظر روشن میری آنکھوں میں جو اک شخص تھا خوابوں جیسا اس کے عارض پہ ہے اک موج حجابوں جیسی اس کی آنکھوں میں ہے اک رنگ شرابوں جیسا مہکا مہکا سا یہ ماحول بتاتا ہے خطیبؔ انجمن میں کوئی چہرہ ہے گلابوں جیسا
dasht-e-tanhaai mein jalne ki sazaa jaane hai
دشت تنہائی میں جلنے کی سزا جانے ہے کیا ہے برتاؤ ہواؤں کا دیا جانے ہے میں اسے دل کے دھڑکنے کا سبب کہتا ہوں اور اک وہ کہ مجھے خود سے جدا جانے ہے بے ضمیروں کا بھی جینا کوئی جینا ہے کہ بس لذت زیست تو پابند انا جانے ہے میں اک آسودۂ غم ہوں سر راہ ہستی جز مرے کیف الم کون بھلا جانے ہے تم جو اس راہ سے گزرو گے تو مل جاؤں گا میری منزل مرا نقش کف پا جانے ہے اہل دانش کو کہاں خندہ لبی کی مہلت صرف دیوانہ ہی یہ طرز و ادا جانے ہے مجھ پہ کیا گزری ہے آخر شب ہجراں میں خطیبؔ میرا دل جانے ہے یا میرا خدا جانے ہے
tiri talaash mein bhaTkaa huun dar-ba-dar jaanaan
تری تلاش میں بھٹکا ہوں در بدر جاناں میں تجھ کو بھول نہ پاؤں گا عمر بھر جاناں نہیں ہے تجھ سے کسی طور بھی مفر جاناں ہے تو ہی قاتل دل تو ہی چارہ گر جاناں مری تلاش مری آرزو مری چاہت ترا جمال ترا قرب معتبر جاناں یہ آنکھیں تیرے ہی جلوؤں کی ہیں امیں بے شک یہ دل ہے تیری محبت کا مستقر جاناں نظر میں تو ہے خیالوں میں تو ہے دل میں تو میں کب ہوا تری جانب سے بے خبر جاناں تری ہی یاد نے مہکائے میری روح میں زخم ترے سبب سے ہے خوشبو کا یہ سفر جاناں حسین یادوں کا اک سلسلہ تھا ٹوٹ گیا فضا میں گونجا جب آوازۂ گجر جاناں





