SHAWORDS
Aftab Iqbal Shamim

Aftab Iqbal Shamim

Aftab Iqbal Shamim

Aftab Iqbal Shamim

poet
9Sher
9Shayari
30Ghazal

Sherشعر

See all 9

Popular Sher & Shayari

18 total

Ghazalغزل

See all 30
غزل · Ghazal

dikhaai jaaegi shahr-e-shab mein sahar ki tamsil chal ke dekhein

دکھائی جائے گی شہر شب میں سحر کی تمثیل چل کے دیکھیں سر صلیب ایستادہ ہوگا خدائے انجیل چل کے دیکھیں گلوں نے بند قبا ہے کھولا، ہوا سے بوئے جنوں بھی آئے کریں گے اس موسم وفا میں ہم اپنی تکمیل چل کے دیکھیں غنیم شب کے خلاف اب کے زیاں ہوئی غیب کی گواہی پڑا ہوا خاک پر شکستہ پر ابابیل چل کے دیکھیں چنے ہیں وہ ریزہ ریزہ منظر، لہو لہو ہو گئی ہیں آنکھیں چلو نا! اس دکھ کے راستے پر سفر کی تفصیل چل کے دیکھیں فضا میں اڑتا ہوا کہیں سے عجب نہیں عکس برگ آئے خزاں کے بے رنگ آسماں سے اٹی ہوئی جھیل چل کے دیکھیں لڑھک گیا شب کا کوہ پیما زمیں کی ہمواریوں کی جانب کہیں ہوا گل نہ کر چکی ہو انا کی قندیل چل کے دیکھیں

غزل · Ghazal

ye jo Thahraa huaa manzar hai badaltaa hi nahin

یہ جو ٹھہرا ہوا منظر ہے بدلتا ہی نہیں واقعہ پردۂ ساعت سے نکلتا ہی نہیں آگ سے تیز کوئی چیز کہاں سے لاؤں موم سے نرم ہے وہ اور پگھلتا ہی نہیں یہ مری خمس حواسی کی تماشا گاہیں تنگ ہیں ان میں مرا شوق بہلتا ہی نہیں پیکر خاک ہیں اور خاک میں ہے ثقل بہت جسم کا وزن طلب ہم سے سنبھلتا ہی نہیں غالباً وقت مجھے چھوڑ گیا ہے پیچھے یہ جو سکہ ہے مری جیب میں چلتا ہی نہیں ہم پہ غزلیں بھی نمازوں کی طرح فرض ہوئیں قرض نا خواستہ ایسا ہے کہ ٹلتا ہی نہیں

غزل · Ghazal

baat jo kahne ko thi sab se zaruri rah gai

بات جو کہنے کو تھی سب سے ضروری رہ گئی کیا کیا جائے غزل یہ بھی ادھوری رہ گئی رزق سے بڑھ کر اسے کچھ اور بھی درکار تھا کل وہ طائر اڑ گیا پنجرے میں چوری رہ گئی تھی بہت شفاف لیکن دن کی اڑتی گرد میں شام تک یہ زندگی رنگت میں بھوری رہ گئی کیوں چلے آئے کھلی آنکھوں کی وحشت کاٹنے اس گلی میں نیند کیا پوری کی پوری رہ گئی بس یہی حاصل ہوا ترمیم کی ترمیم سے حاصل و مقصود میں پہلی سی دوری رہ گئی کس قرینے سے چھپایا بھید لیکن کھل گیا غالباً کوئی اشارت لا شعوری رہ گئی

غزل · Ghazal

main apne vaaste rasta nayaa nikaaltaa huun

میں اپنے واسطے رستہ نیا نکالتا ہوں دلیل شعر میں تھوڑا سا کشف ڈالتا ہوں بہت ستایا ہوا ہوں لئیم دنیا کا سخی ہوں دل کی پرانی خلش نکالتا ہوں زمانہ کیا ہے کبھی من کی موج میں آؤں تو نوک نقش پہ اپنی اسے اچھالتا ہوں یہ میرا کنج‌ مکاں میرا قصر عالی ہے میں اپنا سکۂ رائج یہیں پہ ڈھالتا ہوں مری غزل میں زن‌ و مرد جیسے باہم ہوں اسے جلالتا ہوں پھر اسے جمالتا ہوں ذرا پڑھیں تو مری اختیار میں نہ رہیں یہ نونہال جنہیں مشکلوں سے پالتا ہوں

غزل · Ghazal

misaal-e-sail-e-balaa na Thahre havaa na Thahre

مثال سیل بلا نہ ٹھہرے ہوا نہ ٹھہرے لگائے جائیں ہزار پہرے ہوا نہ ٹھہرے کہیں کہیں دھوپ چھپ چھپا کر اتر ہی آئی دبیز بادل ہوئے اکہرے ہوا نہ ٹھہرے ورق جب الٹے کتاب موسم دکھائے کیا کیا گلاب عارض بدن سنہرے ہوا نہ ٹھہرے وہ سانس امڈی کہ بے حسوں نے غضب میں آ کر گرا دیے حبس کے کٹہرے ہوا نہ ٹھہرے کبھی بدن کے روئیں روئیں میں حواس ابھریں کبھی کرے گوش ہوش بہرے ہوا نہ ٹھہرے اسی کی رفتار پا سے ابھریں نقوش رنگیں کہیں پہ ہلکے کہیں پہ گہرے ہوا نہ ٹھہرے صدائے ہر سو فلک کے گنبد میں گونجتی ہے ہوا نہ ٹھہرے ہوا نہ ٹھہرے ہوا نہ ٹھہرے

غزل · Ghazal

rizq kaa jab naadaaron par darvaaza band huaa

رزق کا جب ناداروں پر دروازہ بند ہوا بستی کے گوشے گوشے سے شور بلند ہوا مطلعٔ بے انوار سے پھوٹا شوخ تبسم کرنوں کا رات کے گھر میں سورج جیسا جب فرزند ہوا سادہ بے آمیزش جذبۂ پیر فقیر کرامت کا جس کے اسم سے مایوسی کا زہر بھی قند ہوا اول اول شور اٹھا سینے میں عام تمنا کا بند فصیلوں کے گنبد میں جو دو چند ہوا دکھ کو سمت شناسائی دی غم کے قربت داروں نے دل دھارا دریا مل کر بہرہ مند ہوا چلئے اپنے آپ سے چمٹے رہنا تو موقوف کیا جب سے روز کے سمجھوتوں کا وہ پابند ہوا

Similar Poets