SHAWORDS
A

Ahmad Faqih

Ahmad Faqih

Ahmad Faqih

poet
4Shayari
6Ghazal

Popular Shayari

4 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

صدیوں کے اندھیرے میں اتارا کرے کوئی سورج کو کسی روز ہمارا کرے کوئی اک خوف سا بس گھومتا رہتا ہے سروں میں دنیا کا مرے گھر سے نظارہ کرے کوئی رنگوں کا تصور بھی اڑا آنکھ سے اب تو اس شہر میں اب کیسے گزارا کرے کوئی یوں درد نے امید کے لڑ سے مجھے باندھا دریاؤں کو جس طرح کنارا کرے کوئی ایندھن سے ہوا جن کے سفر چاند کا ممکن ان کے بھی تو چولھے کو سنوارا کرے کوئی راتوں کی حکومت میں مرے خواب کا تارا جینے کے لیے جیسے اشارا کرے کوئی یہ آج بھی اپنا ہے فقیہؔ اس کا بھی سوچو کس تک یونہی یادوں کو سہارا کرے کوئی

sadiyon ke andhere mein utaaraa kare koi

40 views

غزل · Ghazal

چارہ گروں نے باندھ دیا مجھ کو بخت سے چھاؤں ملی نہ مجھ کو دعا کے درخت سے بیٹھا تھا میں حصار فلک میں زمین پر دشمن نے فتح کھینچ لی میری شکست سے میں بھی تو تھا فریفتہ خود اپنے آپ پر شکوہ کروں میں کیا دل نرگس پرست سے گریہ کی سلطنت مجھے دے گی شکست کیا چھینی ہے میں نے زندگی پانی کے تخت سے حرف دعا پہ گوش بر آواز ہو وہ کیوں دل سے کلام ہوتا ہے مستوں کے مست سے حمد و ثنا سخن کا نہیں دل کا ہے ریاض کیسے ثنا کروں میں دل لخت لخت سے اہل خرد اسے نہ سمجھ پائیں گے فقیہؔ کچھ مسئلے ہیں ماورا فتح و شکست سے

chaaragaron ne baandh diyaa mujh ko bakht se

40 views

غزل · Ghazal

میں کیا ہوں مجھے تم نے جو آزار پہ کھینچا دنیا نے مسیحاؤں کو بھی دار پہ کھینچا زندوں کا تو مسکن بھی یہاں قبر نما ہے مردوں کو مگر درجۂ اوتار پہ کھینچا وہ جاتا رہا اور میں کچھ بول نہ پایا چڑیوں نے مگر شور سا دیوار پہ کھینچا کچھ بھی نہ بچا شہر میں جز رونے کی رت کے ہر شعلۂ آواز کو ملہار پہ کھینچا یوسف کبھی نیلام ہوا کرتا تھا لیکن یوسف کو بھی اس شہر نے ہے دار پہ کھینچا پھوٹے ہیں میرے دل میں پھر انکار کے سوتے پھر دل نے مجھے حالت دشوار پہ کھینچا ہر شے کی حقیقت میں اتر جائیں اب آنکھیں ظلمت نے مجھے دیدۂ بیدار پہ کھینچا دکھ عالم انسان کے تھے جو وہ چھپائے خط چاند کو سر کرنے کا اخبار پہ کھینچا تم نے تو فقیہؔ اپنی انا کس کے مجھے بھی پیکاں کی طرح حالت پیکار پہ کھینچا

main kyaa huun mujhe tum ne jo aazaar pe khinchaa

40 views

غزل · Ghazal

وقت کے ہر اک نقش کا معنی اتنا بدلا بدلا ہوگا میرے وہم و گمان میں کب تھا عشق کا منظر ایسا ہوگا آج مجھے اپنی آنکھوں سے اس کے قرب کی خوشبو آئی میری نظر سے اس نے شاید اپنے آپ کو دیکھا ہوگا لمس کے اس کورے تالاب میں چاند کا پہلا عکس تمہی ہو کیسے نور جہانی سر میں کس کس سے وہ کہتا ہوگا صبح سنہری کیوں ہے اتنی شام میں اتنی لالی کیوں ہے وقت نے شاید تیری آنکھ کی شبنم سے منہ دھویا ہوگا آج میں آئینے میں اپنی صورت تک پہچان نہ پایا سوچ رہا ہوں مجھ سے زیادہ کون اس شہر میں تنہا ہوگا چھوڑ فقیہؔ یہ ہونی کا سر انہونی کی تان لگاؤ ہونی میں ہے کوئی ہنر کیا ہونی کو تو ہونا ہوگا

vaqt ke har ik naqsh kaa maani itnaa badlaa badlaa hogaa

40 views

غزل · Ghazal

خود ہی سنگ و خشت خود ہی سر جنون سر ہوں میں خود ہی میں نخچیر دانہ خود ہی بال و پر ہوں میں منتظر ہوں ایک قطرے کا جو دے اذن سفر جو تہ صحرا ہے محو خواب وہ ساگر ہوں میں چاند کو آباد کر لیکن میری فکر و نظر دیکھ مدت سے ہے جو ویراں پڑا وہ گھر ہوں میں اتنا سادہ دل کہ درد دل کے حق میں جان دوں پر در کعبہ نہ جاؤں اس قدر خود سر ہوں میں اس قدر وحشی کہ خود پی جاؤں اپنا خون دل اتنا شائستہ کہ شہر عشق کا دلبر ہوں میں تشنہ لب پر کچھ ادب واجب نہیں دریاؤں کا یہ سبب ہے جو روایت سے کھڑا باہر ہوں میں چیونٹیوں کے رینگنے کی بھی صدا آئے جہاں اتنے چپ سہمے نگر میں ضرب آہن گر ہوں میں اس قدر تنہا کہ ڈر جاتا ہوں اپنی سانس سے اتنا پیچیدہ کہ اپنی ذات میں لشکر ہوں میں سانس آتی بھی نہیں اور جاں سے جاتی بھی نہیں ہجر باہر تھا تو ہجرت درد کے اندر ہوں میں چند گھڑیاں اور ہے یہ حبس کا موسم فقیہؔ رخ ہوا کا دیکھ سکتا ہے جو دیدہ ور ہوں میں

khud hi sang-o-khisht khud hi sar-junun-e-sar huun main

40 views

غزل · Ghazal

کون سی دیواروں سے میں ٹکرایا نہ وقت سے آگے لیکن میں جا پایا نہ سارے عقیدے حبس کے معبد ہیں جن میں کبھی ہوا کا جھونکا تک بھی آیا نہ اس کی یاد میں ساری عمر گنوا بیٹھا میرا کبھی خیال بھی جس کو آیا نہ اس نے جب سناٹے کی دیوار چنی تم نے بھی تو اس دم شور مچایا نہ جانے اس کے لہجے میں کیا جادو تھا کسی نے اس کی باتوں کو جھٹلایا نہ بس اک کعبے کا پتھر ہی بچا فقیہؔ ورنہ مجھ پر کون سا پتھر آیا نہ

kaun si divaaron se main Takraayaa na

40 views

Similar Poets