raste ki uunch niich se vaaqif to huun 'amin'
Thokar qadam qadam pe magar khaa rahaa huun main

Ameen Hazin
Ameen Hazin
Ameen Hazin
Popular Shayari
4 totalnumud-e-rang-o-bu ne maar Daalaa
usi ki aarzu ne maar Daalaa
tujh ko tiri hi aankh se dekh rahi hai kaaenaat
baat ye raaz ki nahin apnaa khud ehtiraam kar
yuun dil hai sar-ba-sajdaa kisi ke huzur mein
jaise ki ghota-zan ho koi bahr-e-nur mein
Ghazalغزل
اک برق ہے ہجوم تقاضا لئے ہوئے جانے میں آ گیا ہوں یہاں کیا لئے ہوئے محمل کی اوٹ میں لب لیلیٰ شفق فروش دشت جنوں میں قیس ہے غوغا لئے ہوئے اک تو کہ بے حجاب نہ ہونا تری ادا اک میں کہ شوق دید کی دنیا لئے ہوئے اک تو کہ اپنے حسن کی ہے آپ ہی دلیل اک میں کہ تیرے عشق کا دعویٰ لئے ہوئے اک تو کہ تیری مست نگاہوں میں میکدے اک میں کہ لب پہ حسرت صہبا لئے ہوئے مقصود امتحان ہے رندوں کے ظرف کا پھرتا ہوں بزم بزم میں مینا لئے ہوئے اتنا اثر تو شیخ کی صحبت کا ہے امیںؔ ہاتھوں میں جام لب پہ ہوں توبہ لئے ہوئے
ik barq hai hujum-e-taqaazaa liye hue
آنکھوں میں چھلکتے ہیں ہم رنگ حنا آنسو مہجور کے آنسو بھی ہوتے ہیں بلا آنسو بے ساختہ رونے سے تسکین سی ہوتی ہے درد دل محزوں کی ہیں کچھ تو دوا آنسو اک خستہ جگر عاشق رو رو کے یہ کہتا تھا آسان ہے ہر مشکل گر دیں نہ دغا آنسو سر خاک پہ دھر دھر کر دیتے ہیں دعا دل سے ہیں عاشق صادق کے پابند وفا آنسو اکسیر مجرب ہیں کر ضبط انہیں یعنی دل ہی کا یہ جوہر ہیں دل ہی کو پلا آنسو مجبور ہوں بہنے پر بے ساختہ گر جائیں قانون محبت میں ہیں جب ہی روا آنسو ناسور محبت کا ہوتا نہ امیںؔ چرچا غماز نہ بن جاتے گر لعل نما آنسو
aankhon mein chhalakte hain ham-rang-e-hinaa aansu
پسند خاطر جاناں ہے انکسار مرا اسی لئے تو مہ و مہر ہیں غبار مرا ملی ہے مجھ کو ازل سے کمند یزداں گیر شکار ہر کس و ناکس نہیں شکار مرا علی الصباح مجھے بھر کے جام نجم سحر مدام دیتا ہے ساقیٔ نامدار مرا مثال لالہ محبت کے داغ ہوتے ہوئے نہیں ہے دامن دل دیکھ داغدار مرا مزا ہے وصل میں اور لطف ہجر یار میں ہے وہ پھل کا وقت یہ ہے موسم بہار مرا نوائے نور ہو جب میرے لب پہ اہل چمن تو احترام کرے کیوں نہ شاخسار مرا پرکھ سکے جو مجھے وہ نگاہ پاک کہاں جدا امیںؔ ہے زر و سیم سے عیار مرا
pasand-e-khaatir-e-jaanaan hai inkisaar miraa
آرزوئے دوام نے مارا جلوۂ صبح و شام نے مارا سرکشی گام گام پر مجھ سے اس دل بد لگام نے مارا ابتدا کی نہ انتہا کی خبر قصۂ ناتمام نے مارا عقل خود ہی شکار جذبہ ہوئی غزنوی کو غلام نے مارا حرص نے کچھ بھی دیکھنے نہ دیا دانۂ زیر دام نے مارا سچ تو یہ ہے کہ ابن آدم کو جذبۂ انتقام نے مارا میں امیںؔ کب فریب کھاتا تھا دہر کے اہتمام نے مارا
aarzu-e-davaam ne maaraa
جنوں کے فیض سے حاصل ہے یہ کمال مجھے نہ آستیں کا نہ دامن کا ہے خیال مجھے بنا ہو جب کہ مرا سینہ آئنہ خانہ شکست شیشۂ دل کا ہو کیوں ملال مجھے مری بلا سے کوئی لاکھ حاتم طے ہو کہ ابتدا سے نہیں عادت سوال مجھے یہ بد لگام سہی میں بھی کم سوار نہیں زمانہ کر نہیں سکتا ہے پائمال مجھے کمال عشق کہوں کیوں نہ اس تصور کو کہ جس کے فیض سے ہو ہجر بھی وصال مجھے میں صاف گو ہوں کہ دل میں نہیں ہے میل کوئی میں راست رو ہوں کہ بھاتی نہیں ہے چال مجھے ادب نواز کہا کرتے ہیں امین حزیںؔ مگر عوام محمد مسیح پال مجھے
junun ke faiz se haasil hai ye kamaal mujhe
زندگی کی بہار دیکھتے ہیں گل کے پہلو میں خار دیکھتے ہیں جلوہ گر ہیں وہ خشمگیں ہو کر نور کے ساتھ نار دیکھتے ہیں جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے جلوۂ روئے یار دیکھتے ہیں پیار ہوتا ہے جس سے اے پیارے اس کو ہی بار بار دیکھتے ہیں ہم سمجھتے ہیں اس کو اپنا ہی جس کی آنکھوں میں پیار دیکھتے ہیں دخت رز کی ہیں شوخیاں قبلہ جبۂ داغدار دیکھتے ہیں کیا یہی دل ہے جس کو پہلو میں ہم امیںؔ بے قرار دیکھتے ہیں
zindagi ki bahaar dekhte hain





