SHAWORDS
Ameen Rahat Chugtai

Ameen Rahat Chugtai

Ameen Rahat Chugtai

Ameen Rahat Chugtai

poet
7Sher
7Shayari
15Ghazal

Sherشعر

See all 7

Popular Sher & Shayari

14 total

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

jab koi bhi khaaqaan sar-e-baam na hogaa

جب کوئی بھی خاقان سر بام نہ ہوگا پھر اہل زمیں پر کوئی الزام نہ ہوگا کل وہ ہمیں پہچان نہ پائے سر راہے شاید انہیں اب ہم سے کوئی کام نہ ہوگا پھر کون سمجھ پائے گا اسرار حقیقت جب فیصلہ کوئی بھی سر عام نہ ہوگا یہ عہد رواں خاک نشاں دھیان میں رکھو پھر ڈھونڈو گے کس کو جو کوئی نام نہ ہوگا بننے کو ہے اک روز پرندوں کا مقدر اتریں گے تو ہم رنگ زمیں دام نہ ہوگا محفل میں اگر ذکر ہو ارباب وفا کا ایسا نہیں راحتؔ کہ ترا نام نہ ہوگا

غزل · Ghazal

tirgi hi tirgi hai baam-o-dar mein kaun hai

تیرگی ہی تیرگی ہے بام و در میں کون ہے کچھ دکھائی دے تو بتلائیں نظر میں کون ہے کیوں جلاتا ہے مجھے وہ آتش احساس سے میں کہاں ہوں یہ مرے دیوار و در میں کون ہے ذات کے پردے سے باہر آ کے بھی تنہا رہوں میں اگر ہوں اجنبی تو میرے گھر میں کون ہے چاک کیوں ہوتے ہیں پیراہن گلوں کے کچھ کہو جھک کے لہراتا ہوا شاخ ثمر میں کون ہے جیسے کوئی پا گیا ہو اپنی منزل کا سراغ دھوپ میں بیٹھا ہوا راہ سفر میں کون ہے کانپتا جا دیکھ کر اظہار کی تجسیم کو سوچتا جا آرزوئے شیشہ گر میں کون ہے بس ذرا بپھری ہوئی موجوں کی خو مائل رہی اہل ساحل جانتے تو تھے بھنور میں کون ہے شور کرتا پھر رہا ہوں خشک پتوں کی طرح کوئی تو پوچھے کہ شہر بے خبر میں کون ہے میں تو دیوانہ ہوں اک سنگ ملامت ہی سہی لیکن اتنا سوچ لو شیشے کے گھر میں کون ہے

غزل · Ghazal

main tiri dastaras se bahut duur thaa

میں تری دسترس سے بہت دور تھا پھر بھی نزدیک آنے پہ مجبور تھا آج میں ہی سزاوار جور و ستم کل تری مانگ کا میں ہی سندور تھا کون آتا ہے یوں زیر دام ان دنوں رات تاریک تھی آشیاں دور تھا کچھ خلوص وفا پر بھی نادم تھا میں اور کچھ دل کے زخموں سے بھی چور تھا آئنہ دیکھ کر یوں ندامت ہوئی میں کہ راحتؔ ہوں اب پہلے منصور تھا

غزل · Ghazal

hamin the jaan-e-bahaaraan hamin the rang-e-tarab

ہمیں تھے جان بہاراں ہمیں تھے رنگ طرب ہمیں ہیں بز‌م مے و گل میں آج مہر بہ لب وہی تجھے بھی نظر آئے بے ادب جو لوگ فقیہ شہر سے الجھے تری گلی کے سبب خیال و فکر کے پھر سلسلے سلگ نہ اٹھیں کہ چبھ رہی ہے دلوں میں ہوائے گیسوئے شب بس ایک جام نے رندوں کی آبرو رکھ لی وگرنہ کم نہ تھا واعظ کا شور غیظ و غضب چلو کلی کے تبسم کا راز پوچھ آئیں گلوں کے قافلے چل دیں چمن سے جانے کب ابھی سے دھڑکنیں خاموش ہوتی جاتی ہیں عجیب ہوگا سماں وہ بھی تم نہ آؤ گے جب ہمیں ہی تاب سماعت نہ ہو سکی راحتؔ فسانہ خواں نے تو چھیڑا تھا ذکر عہد طرب

غزل · Ghazal

manzil-e-shams-o-qamar se guzre

منزل‌ شمس و قمر سے گزرے جب تری راہ گزر سے گزرے شب کی گاتی ہوئی تنہائی میں کتنے طوفاں تھے جو سر سے گزرے وہیں پت جھڑ نے پڑاؤ ڈالا قافلے گل کے جدھر سے گزرے ہر طرف ثبت ہیں قدموں کے نشاں کوئی کس راہ گزر سے گزرے کس قدر خود پہ ہمیں پیار آیا آج جب اپنی نظر سے گزرے سرخیٔ گل سے بھی چونکے گل رخ وہ زمانے بھی نظر سے گزرے دشت و صحرا کا بھی دامن سمٹا تیرے دیوانے جدھر سے گزرے خود نگر ہو گئے راحتؔ ہم بھی آج وہ کاش ادھر سے گزرے

غزل · Ghazal

mire badan se kabhi aanch is tarah aae

مرے بدن سے کبھی آنچ اس طرح آئے لپٹ کے مجھ سے مرے ساتھ وہ بھی جل جائے میں آگ ہوں تو مرے پاس کوئی کیوں بیٹھے میں راکھ ہوں تو کوئی کیوں کریدنے آئے بھرے دیار میں اب اس کو کس طرح ڈھونڈیں ہوا چلے تو کہیں بوئے ہم نفس آئے یہ رات اور روایات کی یہ زنجیریں گلی کے موڑ سے دو لوٹتے ہوئے سائے وہی بدن وہی چہرہ وہی لباس مگر کوئی کہاں سے بساونؔ کا مو قلم لائے کوئی تو بات ہوئی ہے عجیب سی راحتؔ کہ آئنہ بھی نہ وہ چھوڑے اور شرمائے

Similar Poets