SHAWORDS
Amjad Ali Ghaznawi

Amjad Ali Ghaznawi

Amjad Ali Ghaznawi

Amjad Ali Ghaznawi

poet
1Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

نغمہ جو محمل کے باہر ہے وہی محمل میں ہے حال میں ظاہر ہے پوشیدہ جو مستقبل میں ہے جس کا پرتو گیسوئے شب میں مہ کامل میں ہے اک جھلک اس حسن پوشیدہ کی تیرے دل میں ہے جلوۂ‌ یزداں بھی رقص اہرمن بھی دل میں ہے آدمی بھی کس قدر الجھن میں ہے مشکل میں ہے کہہ رہا تھا ایک دیوانہ یہ ہنگام سفر رہ نوردی میں جو راحت ہے وہی منزل میں ہے حوصلہ مندان غواصان دریا کے لئے زندگی موجوں میں ہے جو وہ کہاں ساحل میں ہے اپنی فطرت پر چمن میں خار و گل تو ہیں مگر اک تضاد مستقل اس مشت آب و گل میں ہے جام ہے مینا ہے صہبائے جنوں افزا بھی ہے ساقیا آ جا کہ اک تیری کمی محفل میں ہے بے رہ و بے رہنما گرم سفر ہے قافلہ فائدہ کیا اس طرح کی سعئ لا حاصل میں ہے پیکر شوق و طلب بن کر جو ہے گرم سفر ہر قدم اس راہ رو کا سرحد منزل میں ہے مرجع الہام بن سکتا ہے کوشش ہو اگر اک مقام ایسا بھی پنہاں آدمی کے دل میں ہے آفتاب دل سے گرما اور چمکا دے اسے ذرۂ حق جو نہاں گرد رہ باطل میں ہے دل تو ہے نا آشنائے بادہ ہائے زندگی جام و مینا کا مگر سودا سر غافل میں ہے ڈھونڈتے رہیے مگر امجدؔ کو پا سکتے نہیں وہ تو اب اک نور کے دریائے بے ساحل میں ہے

naghma jo mahmil ke baahar hai vahi mahmil mein hai

غزل · Ghazal

نیا دل نیا حوصلہ چاہتا ہوں ہر اک گام شوق آشنا چاہتا ہوں نہ منزل نہ اس کا پتا چاہتا ہوں فقط آپ کا نقش پا چاہتا ہوں وفاؤں کے بدلے وفا چاہتا ہوں مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں جو ذوق جنوں عام کر دے جہاں میں میں وہ نغمۂ جاں فزا چاہتا ہوں ملا دے جو آپس میں لوگوں کے دل کو وطن میں وہ آب و ہوا چاہتا ہوں جو اٹھ کر برس جائے دیر و حرم پر فضاؤں میں ایسی گھٹا چاہتا ہوں ہر اک رند کے ہاتھ میں جام جم ہو کچھ اس شان کا میکدہ چاہتا ہوں گل و لالہ صحن چمن میں کھلا کر بہاروں کے ہاتھوں لٹا چاہتا ہوں

nayaa dil nayaa hausla chaahtaa huun

غزل · Ghazal

یہ دل جو درد محبت سے بے قرار نہیں وہ صبح شوق نہیں شام انتظار نہیں کسی نگاہ میں مستی نہیں خمار نہیں یہ کوئی اور ہیں ساقی یہ بادہ خوار نہیں تمہاری شاخ نشیمن میں برگ و بار نہیں بہار میں بھی تمہارے لئے بہار نہیں گلوں کی غنچوں کی پژمردگی سے ظاہر ہے چمن میں آج بھی حالات سازگار نہیں روش روش پہ یہ کانٹے تو خیر کانٹے ہیں یہاں تو لالہ و گل کا بھی اعتبار نہیں رہ خرد میں بہ ہر گام لاکھ کانٹے ہیں جنوں کی راہ میں حائل یہ خار زار نہیں تمہارا دست جنوں کیا ابھی نہیں اٹھا تعینات کے پردے جو تار تار نہیں عجیب حال ہے اس گلستان ہستی کا کبھی بہار ہے اس میں کبھی بہار نہیں وہ دوسروں کے لئے کیا بنیں گے چشمۂ فیض جو آپ اپنے گناہوں پہ شرمسار نہیں یہ سنگ و خشت جو ہوں معتبر تو ہوں لیکن اس آدمی کا بہر حال اعتبار نہیں یہ آج کل کی بہاریں بھی روح فرسا ہیں وہیں سکوں ہے بظاہر جہاں بہار نہیں اٹھا کے جام و سبو خود انڈیل لیتے ہیں ہماری بزم میں ساقی کا انتظار نہیں یہ دیکھتے ہو جو امجدؔ کو میکدہ بر دوش وہ مے فروش ہے مے نوش و مےگسار نہیں

ye dil jo dard-e-mohabbat se be-qaraar nahin

غزل · Ghazal

اب امتیاز جلوہ گہہ و جلوہ گر کہاں میری نظر میں پردۂ شمس و قمر کہاں وہ دل کا اضطراب وہ سودائے سر کہاں اب اس بشر میں کوئی کمال بشر کہاں جوش جنون شوق میں اب یہ خبر کہاں منزل کہاں ہے راہ کہاں راہبر کہاں صدقے تھی جس پہ رفعت عرش بریں کبھی وہ بال و پر وہ حوصلۂ بال و پر کہاں میری جبیں کو خاک در او سنگ در ملے ان کے حریم حسن میں دیوار و در کہاں آنکھیں اٹھا کے دیکھ اسیر شعاع تو دیکھا ہے تو نے پرتو حسن بشر کہاں ہے نغمہ ریز ساز حیات آج بھی یہاں لیکن وہ گوش ہوش و دل باخبر کہاں مے بھی وہی ہے جام وہی میکدہ وہی ان میکشوں پہ مے کا مگر وہ اثر کہاں ملتی تھی جس سے غنچہ و گل کو حیات نو اب وہ نسیم صبح وہ باد سحر کہاں آنسو بہا کے جان مسرت کی بزم میں تو نے ڈبو دیا مجھے اے چشم تر کہاں وہ فرش خاک اور کہاں یہ مقام قدس لائے مجھے کہاں سے مرے بال و پر کہاں اب تو ہر ایک خیر ہے امجدؔ اسیر شر اس دور غم میں معرکۂ خیر و شر کہاں

ab imtiyaaz-e-jalva-gah-o-jalva-gar kahaan

غزل · Ghazal

رنگ و بو پھول میں کلی میں نہیں حسن بھی اب وہ چاندنی میں نہیں آدمیت جو آدمی میں نہیں غم کا احساس اب کسی میں نہیں زہر بر لب ہر ایک گل ہے آج زندگی پھول کی ہنسی میں نہیں بادۂ انتقام پی پی کر آدمی جیسے آپ ہی میں نہیں دشمنی کا بھی پست ہے معیار اب بلندی بھی دوستی میں نہیں مے کدوں میں ہے ذکر دیر و حرم کیف و مستی جو مے کشی میں نہیں اب پیام سکون و راحت دل لالہ و گل کی تازگی میں نہیں زیست اس کی ہے ایک مرگ دوام زندگی جس کی زندگی میں نہیں کون کس کا گلہ کرے امجدؔ نور انسانیت کسی میں نہیں

rang-o-bu phuul mein kali mein nahin

غزل · Ghazal

ارے یہ عدل یہ انصاف الاماں ان کا کہ ہر زمین مری اور ہر آسماں ان کا دلوں میں جن کے غم اہل کارواں نہ رہا پہنچ سکے گا نہ منزل پہ کارواں ان کا ہزار کعبۂ ایماں وہیں وہیں پہ بنے قدم پڑا تھا چمن میں جہاں جہاں ان کا اسیر جلوۂ منزل کی قید کی خاطر بچھے گا دام اسیری کہاں کہاں ان کا دلوں کو جیت کے شاہنشہ جہاں بن جا کہ یہ جہان ہے تیرا نہ یہ جہاں ان کا کہاں پہ کیجئے سجدہ کہ بن گئی امجدؔ جبین شوق مری سنگ آستاں ان کا

are ye adl ye insaaf al-amaan un kaa

Similar Poets