hazaar rang ke phulon se baagh ki zinat
bahaar aai to laai hai itne hangaame
Anees Sultana
Anees Sultana
Anees Sultana
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
جہان رنگ و بو میں تھی یہ ویرانی مگر کب تک ہمارے پیار کی خوشبو نہ پہنچی تھی یہاں جب تک تمہاری مصلحت کوشی کو ہے میرا سلام اے دل انہیں چاہا انہیں پوجا مگر دیکھا کہاں اب تک ازل کی پیاس ہونٹوں پر لیے پھرتا رہا ناداں اٹھایا جام کتنوں نے زبس پہنچا کسی لب تک چلو اچھا ہوا تم نے تو سارے داغ دھو ڈالے مرے دامن پہ یہ دھبا رہے گا ضو فشاں کب تک خموشی نے مری کیا کہہ دیا تجھ سے کہ اے دوراں تھمے آنسو نہ شبنم کے گریباں چاک گل کب تک غلط ہے تجھ سے امید وفا اے فتنۂ دوراں یوں ہی باقی ہیں ہنگامے رہے تو مہرباں جب تک انیسؔ اس کیفیت میں یہ غزل لکھنا قیامت ہے لگے گی آگ جب دل میں تو پہنچے گا دھواں لب تک
jahaan-e-rang-o-bu mein thi ye viraani magar kab tak
فریب ذات کے دل کش بتوں کو کس نے یوں توڑا ہمیں تھے جس نے ہستی کے حقائق سے نہ منہ موڑا در حسرت یہ کیا تکتا ہے اے دل نو بہ نو جلوے کسی کی سرفرازی دیکھ کر کریے نہ دل تھوڑا یہ غم کیا کم ہے اے ہمدم کہ بستی کے غزالوں کو ابھی دشت تغافل کی تمنا نے نہیں چھوڑا نئی دیوار اٹھا کر ہم یہ سمجھے دل بدل ڈالے مگر بنیاد کے پتھر نے وہ رشتہ نہیں توڑا مقدر سے شکایت کب تلک کریے انیسؔ آخر تمہیں پاس تکلف نے کسی قابل نہیں چھوڑا
fareb-e-zaat ke dilkash buton ko kis ne yuun toDaa
چمن چمن میں ہیں برپا یہ کیسے ہنگامے کلی کے تتلی کے بھونروں کے گل کے ہنگامے ہزار رنگ کے پھولوں سے باغ کی زینت بہار آئی تو لائی ہے اتنے ہنگامے مری خموشی کے معنی کچھ اور ہی سمجھے اسی لئے تو اٹھائے ہیں اتنے ہنگامے وہ راہ بھول چکے تھے میں بچ کے کیا کرتی مری گلی میں مگر کس قدر تھے ہنگامے ہوئی تجھے کبھی اے دل مآل کی پرواہ ہر ایک سانس کی دھڑکن میں کتنے ہنگامے ذرا پتہ تو لگا نفرتوں کے سوداگر اٹھے ہیں کون گلی سے مچائے ہنگامے ہماری بے خبری ہے سزا ہمارے لیے اندھیری راہوں میں اگتے ہیں سارے ہنگامے غم حیات سے بچنے کے سو بہانے ہیں عزیز تر ہیں مجھے زندگی کے ہنگامے ہزار بار مجھے ڈھونڈ کر پلٹ آئے ہیں کتنے ظرف نظر شہر کے یہ ہنگامے یہ دل کہ دست طلب کر سکا کبھی نہ دراز نہ بھول پایا کبھی آرزو کے ہنگامے انیسؔ تم نے بسائے ہیں دل کی دھڑکن میں تخیلات کے آنچل سے لے کے ہنگامے
chaman chaman mein hain barpaa ye kaise hangaame
راہ کا ہر خار اک دن گلستاں بن جائے گا ذرہ ذرہ خاک کا پھر آسماں بن جائے گا نفرتیں مٹ جائیں گی حرف غلط کی طرح سے ہاں مگر حرف غلط اک داستاں بن جائے گا بن کہے وہ دل کی باتیں جان جائیں گے ضرور ہر بن مو ایک دن نوک زباں بن جائے گا صرف خاکستر نہیں ہیں جا بجا چنگاریاں ٹوٹتا تارا بھی اک دن کہکشاں بن جائے گا دیکھنا ہے خواب دیکھو بس اسی ایقاں کے ساتھ اٹھنے والا ہر قدم تازہ جہاں بن جائے گا
raah kaa har khaar ik din gulsitaan ban jaaegaa
وہ یقیں پھر کسی چہرے پہ نظر آئے گا جو مرے خواب کی تعبیر سنا جائے گا جھیل سی آنکھوں میں کھل جائیں امیدوں کے کنول جن سے یہ مہر جہاں تاب بھی شرمائے گا پھر لکھی جائے گی ان چاند سے چہروں کی کتاب وقت صفحات پلٹتا ہوا رہ جائے گا درد کی شب ہے گزر جائے گی پل دو پل میں اک ستارہ سر مژگاں جو ٹھہر جائے گا قہر ڈھاتے ہیں مری ذات پہ سرکش لمحے گر مداوا نہ کیا حوصلہ پچھتائے گا زیر خنجر بھی مجھے یاد رہے گا وہ شخص جو مری لاش کو اپنا عدو ٹھہرائے گا شاید اس بات کا الزام مجھی پر آئے گر کبھی کوئی مورخ اسے دہرائے گا
vo yaqin phir kisi chehre pe nazar aaegaa
میرا ماضی مرے چہرے سے جھلکتا ہے ضرور مجھ کو حالات کی گرمی کی شکایت نہ غرور مصلحت جان کے کانٹوں کی قبا لائے تھے گل کی رنگین قبائی کو پرکھنا تھا ضرور کون سے بھیس میں مل جائیں فرشتے ہمدم خدمت انس و بشر اپنا فریضہ ہے حضور وقت کے ساتھ بدلنے لگا احساس کا رنگ مجھ کو اس بات کا پہلے سے نہ تھا کوئی شعور بارہا ان کو رگ جاں سے قریں پایا ہے پھر جو دیکھا تو نظر آتے ہیں وہ آج بھی دور آپ بے وجہ انیسؔ آج پریشان نہ ہوں اب کہاں یاد انہیں وہ دل سادہ کا قصور
meraa maazi mire chehre se jhalaktaa hai zarur





