"mera har sher haqiqat ki hai zinda tasvir apne ash.ar men qissa nahin likhkha main ne"

Anwar Jalalpuri
Anwar Jalalpuri
Anwar Jalalpuri
Sherشعر
See all 9 →mera har sher haqiqat ki hai zinda tasvir
میرا ہر شعر حقیقت کی ہے زندہ تصویر اپنے اشعار میں قصہ نہیں لکھا میں نے
koi puchhega jis din vaqa.i ye zindagi kya hai
کوئی پوچھے گا جس دن واقعی یہ زندگی کیا ہے زمیں سے ایک مٹھی خاک لے کر ہم اڑا دیں گے
sabhi ke apne masa.il sabhi ki apni ana
سبھی کے اپنے مسائل سبھی کی اپنی انا پکاروں کس کو جو دے ساتھ عمر بھر میرا
musalsal dhuup men chalna charaghon ki tarah jalna
مسلسل دھوپ میں چلنا چراغوں کی طرح جلنا یہ ہنگامے تو مجھ کو وقت سے پہلے تھکا دیں گے
ab naam nahin kaam ka qaa.el hai zamana
اب نام نہیں کام کا قائل ہے زمانہ اب نام کسی شخص کا راون نہ ملے گا
na jaane kyuun adhuri hi mujhe tasvir jachti hai
نہ جانے کیوں ادھوری ہی مجھے تصویر جچتی ہے میں کاغذ ہاتھ میں لےکر فقط چہرہ بناتا ہوں
Popular Sher & Shayari
18 total"koi puchhega jis din vaqa.i ye zindagi kya hai zamin se ek muTThi khaak le kar ham uDa denge"
"sabhi ke apne masa.il sabhi ki apni ana pukarun kis ko jo de saath umr bhar mera"
"musalsal dhuup men chalna charaghon ki tarah jalna ye hangame to mujh ko vaqt se pahle thaka denge"
"ab naam nahin kaam ka qaa.el hai zamana ab naam kisi shakhs ka ravan na milega"
"na jaane kyuun adhuri hi mujhe tasvir jachti hai main kaghaz haath men lekar faqat chehra banata huun"
meraa har sher haqiqat ki hai zinda tasvir
apne ashaar mein qissa nahin likhkhaa main ne
koi puchhegaa jis din vaaqai ye zindagi kyaa hai
zamin se ek muTThi khaak le kar ham uDaa deinge
sabhi ke apne masaail sabhi ki apni anaa
pukaarun kis ko jo de saath umr bhar meraa
musalsal dhuup mein chalnaa charaaghon ki tarah jalnaa
ye hangaame to mujh ko vaqt se pahle thakaa deinge
ab naam nahin kaam kaa qaael hai zamaana
ab naam kisi shakhs kaa raavan na milegaa
na jaane kyuun adhuri hi mujhe tasvir jachti hai
main kaaghaz haath mein lekar faqat chehra banaataa huun
Ghazalغزل
qayaam-gaah na koi na koi ghar meraa
قیام گاہ نہ کوئی نہ کوئی گھر میرا ازل سے تا بہ ابد صرف اک سفر میرا خراج مجھ کو دیا آنے والی صدیوں نے بلند نیزے پہ جب ہی ہوا ہے سر میرا عطا ہوئی ہے مجھے دن کے ساتھ شب بھی مگر چراغ شب میں جلا دیتا ہے ہنر میرا سبھی کے اپنے مسائل سبھی کی اپنی انا پکاروں کس کو جو دے ساتھ عمر بھر میرا میں غم کو کھیل سمجھتا رہا ہوں بچپن سے بھرم یہ آج بھی رکھ لینا چشم تر میرا مرے خدا میں تری راہ جس گھڑی چھوڑوں اسی گھڑی سے مقدر ہو در بہ در میرا
main har be-jaan harf-o-lafz ko goyaa banaataa huun
میں ہر بے جان حرف و لفظ کو گویا بناتا ہوں کہ اپنے فن سے پتھر کو بھی آئینہ بناتا ہوں میں انساں ہوں مرا رشتہ براہیمؔ اور آزرؔ سے کبھی مندر کلیسا اور کبھی کعبہ بناتا ہوں مری فطرت کسی کا بھی تعاون لے نہیں سکتی عمارت اپنے غم خانے کی میں تنہا بناتا ہوں نہ جانے کیوں ادھوری ہی مجھے تصویر جچتی ہے میں کاغذ ہاتھ میں لےکر فقط چہرہ بناتا ہوں مری خواہش کا کوئی گھر خدا معلوم کب ہوگا ابھی تو ذہن کے پردے پہ بس نقشہ بناتا ہوں میں اپنے ساتھ رکھتا ہوں سدا اخلاق کا پارس اسی پتھر سے مٹی چھو کے میں سونا بناتا ہوں
shaadaab-o-shagufta koi gulshan na milegaa
شاداب و شگفتہ کوئی گلشن نہ ملے گا دل خشک رہا تو کہیں ساون نہ ملے گا تم پیار کی سوغات لیے گھر سے تو نکلو رستے میں تمہیں کوئی بھی دشمن نہ ملے گا اب گزری ہوئی عمر کو آواز نہ دینا اب دھول میں لپٹا ہوا بچپن نہ ملے گا سوتے ہیں بہت چین سے وہ جن کے گھروں میں مٹی کے علاوہ کوئی برتن نہ ملے گا اب نام نہیں کام کا قائل ہے زمانہ اب نام کسی شخص کا راون نہ ملے گا چاہو تو مری آنکھوں کو آئینہ بنا لو دیکھو تمہیں ایسا کوئی درپن نہ ملے گا
zulf ko abr kaa TukDaa nahin likhkhaa main ne
زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نے آج تک کوئی قصیدہ نہیں لکھا میں نے جب مخاطب کیا قاتل کو تو قاتل لکھا لکھنوی بن کے مسیحا نہیں لکھا میں نے میں نے لکھا ہے اسے مریم و سیتا کی طرح جسم کو اس کے اجنتا نہیں لکھا میں نے کبھی نقاش بتایا کبھی معمار کہا دست فنکار کو کاسہ نہیں لکھا میں نے تو مرے پاس تھا یا تیری پرانی یادیں کوئی اک شعر بھی تنہا نہیں لکھا میں نے نیند ٹوٹی کہ یہ ظالم مجھے مل جاتی ہے زندگی کو کبھی سپنا نہیں لکھا میں نے میرا ہر شعر حقیقت کی ہے زندہ تصویر اپنے اشعار میں قصہ نہیں لکھا میں نے
paraayaa kaun hai aur kaun apnaa sab bhulaa deinge
پرایا کون ہے اور کون اپنا سب بھلا دیں گے متاع زندگانی ایک دن ہم بھی لٹا دیں گے تم اپنے سامنے کی بھیڑ سے ہو کر گزر جاؤ کہ آگے والے تو ہرگز نہ تم کو راستہ دیں گے جلائے ہیں دیئے تو پھر ہواؤں پر نظر رکھو یہ جھونکے ایک پل میں سب چراغوں کو بجھا دیں گے کوئی پوچھے گا جس دن واقعی یہ زندگی کیا ہے زمیں سے ایک مٹھی خاک لے کر ہم اڑا دیں گے گلہ شکوہ حسد کینہ کے تحفے میری قسمت ہیں مرے احباب اب اس سے زیادہ اور کیا دیں گے مسلسل دھوپ میں چلنا چراغوں کی طرح جلنا یہ ہنگامے تو مجھ کو وقت سے پہلے تھکا دیں گے اگر تم آسماں پر جا رہے ہو شوق سے جاؤ مرے نقش قدم آگے کی منزل کا پتا دیں گے





