tire is phuul se chehre ne ab ke
mire zakhmon ko mahkaayaa bahut hai

Anwar Shadani
Anwar Shadani
Anwar Shadani
Popular Shayari
2 totalmeri nigaah-e-shauq kaa jaadu bhi kam nahin
aankhon mein aankhein Daal ke dekhaa na kijiye
Ghazalغزل
ہو جاتے ہیں جب آپ بھی حیران دیکھ کر ہنستا ہوں اپنا چاک گریبان دیکھ کر پھولوں کا رنگ و روپ نکھرتا چلا گیا نازک لبوں پہ آپ کے مسکان دیکھ کر اک بے وفا کا پیار مجھے یاد آ گیا دور خزاں میں باغ کو ویران دیکھ کر چلتے ہیں جب وہ ناز سے کہتی ہے یوں بہار اے دل ربا سنبھل کے مری جان دیکھ کر اہل وفا کو اپنی وفاؤں پہ ناز ہے جور و ستم پہ ان کو پشیمان دیکھ کر کچھ تو خدا کے واسطے بتلاؤ کیا ہوا بے چین ہوں میں تم کو پریشان دیکھ کر انور جناب شیخ کی نیت بدل گئی بازار میں شراب کی دوکان دیکھ کر
ho jaate hain jab aap bhi hairaan dekh kar
کبھی تو پیار سے لے گا وہ نام اپنا بھی قبول ہوگا کسی دن سلام اپنا بھی کبھی تو ہم بھی رگ گل سے کاٹ دیں پتھر جہاں میں کچھ تو ہو مشہور نام اپنا بھی کوئی تو جھانکے گا میری طرف دریچے سے کسی نگاہ میں ہوگا مقام اپنا بھی اس آرزو میں سر راہ بیٹھ جاتا ہوں وہاں سے لائے گا قاصد پیام اپنا بھی وہ جس کے دل میں جگہ ہے مسافروں کے لئے یہ کیا ضرور کرے انتظام اپنا بھی مچی ہیں شہر میں جس کے خلوص کی دھومیں وہ شخص کچھ تو کرے انتظام اپنا بھی مجھے یقین ہے ساقی کے لطف پر انورؔ شراب حسن سے بھر دے گا جام اپنا بھی
kabhi to pyaar se legaa vo naam apnaa bhi
یوں ہی کب تک مری تقدیر میں بل آئیں گے آج کی بات پہ کہتے ہو کہ کل آئیں گے پاؤں جب جذب محبت کے نکل آئیں گے وادیٔ حسن و جوانی میں خلل آئیں گے چل تو لے کر ہمیں اے مستیٔ ذوق سجدہ منہ پہ خاک در محبوب ہی مل آئیں گے حوصلہ شرط ہے حالات سے مایوس نہ ہو راستے خود ہی چٹانوں سے نکل آئیں گے کروٹیں لیتا ہے جب درد محبت دل میں کوئی چپکے سے یہ کہتا ہے سنبھل آئیں گے جب بہار آئے گی پھولوں پہ شباب آئے گا تذکرے میری تباہی کے نکل آئیں گے اب نہ آئے گا کوئی ثانیٔ شاداںؔ انورؔ گو بہت اہل سخن اہل غزل آئیں گے
yuun hi kab tak miri taqdir mein bal aaeinge
زندگی بے سر و سامان ہے قصہ کیا ہے جس کو دیکھو وہ پریشان ہے قصہ کیا ہے زلف عارض پہ پریشان ہے قصہ کیا ہے سایۂ کفر میں ایمان ہے قصہ کیا ہے آج کے دور میں بس چاک گریباں ہونا تیرے دیوانوں کی پہچان ہے قصہ کیا ہے یا ترے حسن کی تنویر سے روشن ہے جہاں یا مرے عشق کا عرفان ہے قصہ کیا ہے زہد شبلی و غزالی کا حیا حافظ کی ہاتھ میں میرؔ کا دیوان ہے قصہ کیا ہے عظمت باد بہاری مجھے تسلیم مگر پھول شرمندۂ احسان ہے قصہ کیا ہے اپنے انجام سے کیوں آج کا انساں انورؔ جانتے بوجھتے انجان ہے قصہ کیا ہے
zindagi be-sar-o-saamaan hai qissa kyaa hai
پڑے جو کام تو دل سے کسی کا ساتھ نہ دے وہ آدمی نہیں جو آدمی کا ساتھ نہ دے چراغ وہ ہے اندھیروں کو جو کرے روشن وہ کیا چراغ ہے جو روشنی کا ساتھ نہ دے چمن میں اب تو یہ حالت ہے ہم نشینوں کی کہ جیسے کوئی قفس میں کسی کا ساتھ نہ دے اندھیرا چھا نہیں سکتا کبھی اجالے پر تمہاری زلف اگر تیرگی کا ساتھ نہ دے خدا کرے او مرے دل کو توڑنے والے ترا شباب تری نازکی کا ساتھ نہ دے غم زمانہ سے ٹکرا سکے یہ نا ممکن اگر شراب مری زندگی کا ساتھ نہ دے اگر کہیں انہیں بے پردہ دیکھ لے انورؔ یقیں ہے چاند کبھی چاندنی کا ساتھ نہ دے
paDe jo kaam to dil se kisi kaa saath na de
جانتے ہی نہیں خوشی کیا ہے غم کے ماروں کی زندگی کیا ہے فیصلہ کر دیا زمانے نے دوستی کیا ہے دشمنی کیا ہے ماسوا اک حسین غفلت کے باغ میں پھول کی ہنسی کیا ہے ایک کے غم کو دوسرا سمجھے اور منشائے دوستی کیا ہے جانتے ہیں تمہارے دیوانے عظمت چاک دامنی کیا ہے زلف و رخسار ساغر و مینا جانے یہ شعر و شاعری کیا ہے انکسار و خلوص و ہمدردی اور معراج زندگی کیا ہے چودھویں شب کے چاند میں انورؔ عکس ان کا ہے چاندنی کیا ہے
jaante hi nahin khushi kyaa hai





