SHAWORDS
Arifa Shahzad

Arifa Shahzad

Arifa Shahzad

Arifa Shahzad

poet
6Shayari
3Ghazal

Popular Shayari

6 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

تباہی کا بہانہ ڈھونڈتی ہے ہوا ایڑی کے بل پھر گھومتی ہے اندھیرے سرمئی بادل ہیں ایسے زمیں اب آسماں کو ڈھونڈھتی ہے خموشی مرتعش ہونے لگی ہے کہیں بربط کی لے کیوں گونجتی ہے

tabaahi kaa bahaana DhunDti hai

غزل · Ghazal

طعن طنز آوازے سن رہے ہو اب بولو بولنے کے خمیازے سن رہے ہو اب بولو بات بس ذرا سی تھی بات ہی تو کی تم سے شہر بھر کے آوازے سن رہے ہو اب بولو سر پھری ہواؤں میں گھر سے کیوں نکل آئے بج رہے ہیں دروازے سن رہے ہو اب بولو جس کے جی میں جو آئے مشورے تو دے گا نا مشورے نئے تازے سن رہے ہو اب بولو دل کے اس تعلق میں اب بدن کہاں جائے خواہشوں کے آوازے سن رہے ہو اب بولو قفل کوئی کھنکا ہے ساز ہیں کواڑوں کے بج رہے ہیں دروازے سن رہے ہو اب بولو دل کے اک دھڑکنے کی اتنی ساری تاویلیں سب غلط ہیں اندازے سن رہے ہو اب بولو

taan tanz aavaaze sun rahe ho ab bolo

غزل · Ghazal

وہ عادت ہے تو عادت سے کنارے ہو بھی سکتا ہے مگر اس ساری کوشش میں خسارہ ہو بھی سکتا ہے رہیں گے ساتھ پھر بھی ہم محبت مر گئی کیا غم کہ مصنوعی تنفس پر گزارا ہو بھی سکتا ہے اگر آنکھیں نہ بھر آئیں تو دل مٹھی میں آئے گا ہوا ہے حال جو میرا تمہارا ہو بھی سکتا ہے کھلی آنکھوں میں ٹھہرا خواب کیسے ٹوٹ سکتا ہے گماں یہ زندگی بھر کا سہارا ہو بھی سکتا ہے جو اتنی جگمگاہٹ دیکھتے ہو آس پاس اپنے یہ میری آنکھ سے ٹوٹا ستارہ ہو بھی سکتا ہے ہمیں حیرت سے مت دیکھو اب ایسا کیا کیا ہم نے زمینی عشق ہے صاحب دوبارہ ہو بھی سکتا ہے

vo aadat hai to aadat se kinaare ho bhi saktaa hai

Similar Poets