din ki aankhein band hui hain
aankhon mein hai raat khabar lo

Arifa Shahzad
Arifa Shahzad
Arifa Shahzad
Popular Shayari
6 totaltujhe aaghaaz hi se paDh liyaa thaa
tire chehre pe sab likhaa huaa thaa
nashtar jaisaa andar ik chubhtaa kaanTaa hai
jaane us ne dukh baanTaa yaa dil baanTaa hai
ab bhi mat puchh mire dil mein hai kyaa rahne de
baat vaise bhi nahin tujh ko bataane vaali
sab mumkin hai farz hi kar lo
khushbu apni ok mein bhar lo
khvaab mein jaagti be-khvaabi pataa puchhti hai
kyaa kahein niind bhi hoti hai sulaane vaali
Ghazalغزل
تباہی کا بہانہ ڈھونڈتی ہے ہوا ایڑی کے بل پھر گھومتی ہے اندھیرے سرمئی بادل ہیں ایسے زمیں اب آسماں کو ڈھونڈھتی ہے خموشی مرتعش ہونے لگی ہے کہیں بربط کی لے کیوں گونجتی ہے
tabaahi kaa bahaana DhunDti hai
طعن طنز آوازے سن رہے ہو اب بولو بولنے کے خمیازے سن رہے ہو اب بولو بات بس ذرا سی تھی بات ہی تو کی تم سے شہر بھر کے آوازے سن رہے ہو اب بولو سر پھری ہواؤں میں گھر سے کیوں نکل آئے بج رہے ہیں دروازے سن رہے ہو اب بولو جس کے جی میں جو آئے مشورے تو دے گا نا مشورے نئے تازے سن رہے ہو اب بولو دل کے اس تعلق میں اب بدن کہاں جائے خواہشوں کے آوازے سن رہے ہو اب بولو قفل کوئی کھنکا ہے ساز ہیں کواڑوں کے بج رہے ہیں دروازے سن رہے ہو اب بولو دل کے اک دھڑکنے کی اتنی ساری تاویلیں سب غلط ہیں اندازے سن رہے ہو اب بولو
taan tanz aavaaze sun rahe ho ab bolo
وہ عادت ہے تو عادت سے کنارے ہو بھی سکتا ہے مگر اس ساری کوشش میں خسارہ ہو بھی سکتا ہے رہیں گے ساتھ پھر بھی ہم محبت مر گئی کیا غم کہ مصنوعی تنفس پر گزارا ہو بھی سکتا ہے اگر آنکھیں نہ بھر آئیں تو دل مٹھی میں آئے گا ہوا ہے حال جو میرا تمہارا ہو بھی سکتا ہے کھلی آنکھوں میں ٹھہرا خواب کیسے ٹوٹ سکتا ہے گماں یہ زندگی بھر کا سہارا ہو بھی سکتا ہے جو اتنی جگمگاہٹ دیکھتے ہو آس پاس اپنے یہ میری آنکھ سے ٹوٹا ستارہ ہو بھی سکتا ہے ہمیں حیرت سے مت دیکھو اب ایسا کیا کیا ہم نے زمینی عشق ہے صاحب دوبارہ ہو بھی سکتا ہے
vo aadat hai to aadat se kinaare ho bhi saktaa hai





