"chand nikla hai ba-andaz-e-digar aaj ki shaam barish-e-nur hai ta-hadd-e-nazar aaj ki shaam"

Arman Akbarabadi
Arman Akbarabadi
Arman Akbarabadi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalchaand niklaa hai ba-andaaz-e-digar aaj ki shaam
baarish-e-nur hai taa-hadd-e-nazar aaj ki shaam
Ghazalغزل
zahe zinda-dili gham ki gul-afshaani nahin jaati
زہے زندہ دلی غم کی گل افشانی نہیں جاتی کچھ ایسے اشک بھی ہیں جن کی تابانی نہیں جاتی تلاطم خیز موجوں کا تلاطم تھم گیا لیکن جو برپا ہے کناروں پر وہ طغیانی نہیں جاتی مرے رہبر مجھے یہ کونسی منزل پہ لے آئے کہ مجھ سے صورت منزل بھی پہچانی نہیں جاتی ہزاروں آشیانے پھونک ڈالے صحن گلشن میں مگر برق ستم کی شعلہ افشانی نہیں جاتی پلاتا ہی رہا ساقی ہمیں تو زہر کے ساغر ترے رندوں کی پھر بھی رند سامانی نہیں جاتی نہ جانے کیا ہوا ارمانؔ اثر اپنی دعاؤں کا دعائیں کرتے ہیں لیکن پریشانی نہیں جاتی
chaman mein ab koi ai dost zindagi na rahi
چمن میں اب کوئی اے دوست زندگی نہ رہی گلوں میں رنگ بہاروں میں دل کشی نہ رہی کہاں بنائیں نشیمن قفس سے چھٹنے پر کہ اب چمن میں کوئی ایسی شاخ ہی نہ رہی غم حیات نے سارا لہو نچوڑ لیا چراغ خانۂ مفلس میں روشنی نہ رہی تمہارے سامنے ہر حال میں جئے لیکن تمہارے بعد تمنائے زندگی نہ رہی شراب ناب ہے ساقی بھی ہے مغنی بھی مگر دلوں میں تمنائے مے کشی نہ رہی یہ کیفیت ہی رہی ان کی محفل نو میں چراغ جلتے رہے اور روشنی نہ رہی تمام عمر گزاری ہے رہ نوردی میں جنون شوق میں منزل کی یاد بھی نہ رہی اٹھ اور اشک محبت سے کر وضو ارمانؔ سحر قریب ہے تاروں میں روشنی نہ رہی
miraa dil bhi miraa ab dil kahaan hai
مرا دل بھی مرا اب دل کہاں ہے خدا جانے مری منزل کہاں ہے تلاطم ہی تلاطم ہیں نظر میں مری کشتی مرا ساحل کہاں ہے بظاہر ٹوٹ کر ملتا ہے لیکن وہ پہلا سا خلوص دل کہاں ہے تمازت خیز ہے راہ مسائل بتاؤ رہبرو منزل کہاں ہے نئے موسم نئی رنگینیاں ہیں مگر وہ رونق محفل کہاں ہے زمانہ کہہ رہا ہے جس کو قاتل نظر میں ان کی وہ قاتل کہاں ہے
hijr ki raatein kaise kaaTein puchho hijr ke maaron se
ہجر کی راتیں کیسے کاٹیں پوچھو ہجر کے ماروں سے پلکوں پلکوں اشک سجائے باتیں کیں دیواروں سے جیون نیا جوجھ رہی ہے ظلم کے بہتے دھاروں سے ہم نے کیا کیا درد سمیٹے روزانہ اخباروں سے آنگن آنگن پھول کھلیں گے پیار کی خوشبو مہکے گی امن کا پرچم ہاتھوں میں لیں کام نہ لیں تلواروں سے نظم زمانہ درہم و برہم اب تو ایسا لگتا ہے راہزنوں کا خوف ہے کم کم ڈر ہے پہرے داروں سے جہد و عمل کا دامن تھامیں عزم کا پرچم لہرائیں کشتی پار نہیں لگتی ہے باتوں کی پتواروں سے یارو جسم کی خوش پوشی سے تزئین و توقیر نہیں دل کو بھی تو روشن کیجے پاکیزہ افکاروں سے میرے وطن کی مٹی میں بھی یارو کتنی خوبی ہے سوندھی سوندھی خوشبو مہکے بارش کی بوچھاروں سے
ujDaa ujDaa shahr-e-tamannaa kaise ise aabaad karein
اجڑا اجڑا شہر تمنا کیسے اسے آباد کریں تم ہی قاتل تم ہی عادل ہم کس سے فریاد کریں امن و اخوت اپنا مسلک مہر و وفا ہے اپنا دین اپنا تو یہ کام نہیں ہے ظلم و استبداد کریں خوش فہمی کی پتواروں سے کشتی کھینا کیا معنی کچھ سوچیں کچھ راہ نکالیں وقت نہ یوں برباد کریں اہل جنوں نے جس بستی کو تاراج و پامال کیا اہل محبت آؤ مل کر پھر اس کو آباد کریں جھوٹے ہیں سب رشتے ناطے کوئی کسی کا میت نہیں کس کس کا ارمان کریں ہم کس کس کو ہم یاد کریں





