main mariz huun tire hijr kaa zaraa haath mein miraa haath le
tu ghamon kaa mere ilaaj kar miri baat sun tu abhi na jaa

Arpit Sharma Arpit
Arpit Sharma Arpit
Arpit Sharma Arpit
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
یک بہ یک چھوڑ کے مانو کوئی تنہا ٹوٹے جیسے پت جھڑ میں کوئی شاخ سے پتا ٹوٹے اب کوئی حد ہی نہیں میرے بکھر جانے کی جو مجھے دیکھ لے وہ دیکھ کے کتنا ٹوٹے جیسے ساون کی گھٹا جم کے برس جائے ہے تو مرے پاس میں آ جائے تو ایسا ٹوٹے فکر و احساس کی یہ گرد بہت چھائی ہے آنکھ سے دھندھ چھٹے تب کہیں نشہ ٹوٹے ایک مدت ہوئی اس کو نہیں دیکھا میں نے ایک مدت ہوئی آنکھوں سے اجالا ٹوٹے یا مری نیند کا یہ خواب ہو پیغام اجل یا ترے سامنے سے خواب کا دریا ٹوٹے تیری آواز ہر اک درد بیاں کرتی ہے تو اگر سامنے آ جائے تو کتنا ٹوٹے دل دھڑکتا ہوا محراب محبت کے قریب وہ چلا جائے تو پھر دیکھیے کیا کیا ٹوٹے ایسی ویرانیاں ہر گھر کو مٹا دیتی ہیں جیسے مرتے ہوئے خود گھر میں اکیلا ٹوٹے زیست میں ایسی ہی اک شام بھی آ جائے کبھی پھر مری یاد میں ایک دم سے وہ تنہا ٹوٹے آسماں آنکھوں کا بے نور ہوا جاتا ہے میں ترا نام لوں اور ایک ستارا ٹوٹے میں سر شام دعا گو ہوں خدا سے ارپتؔ وہ جو آ جائے تو اس گھر کا اندھیرا ٹوٹے
yak-ba-yak chhoD ke maano koi tanhaa TuuTe
ہے تعجب آج تک بھی عشق کیوں رسوا نہیں درد بے آواز سا ہے غم کا بھی سایہ نہیں جو ہوا انجام دیوانے کا وہ ہوتا نہیں وہ سمجھ جاتا مگر کچھ ہم نے سمجھایا نہیں میرے کمرے کی بھی دیواروں سے یہ پوچھے کوئی کوئی کیا جانے کہ میں کیوں رات بھر سویا نہیں میں کہیں جاؤں میرے ہم رہ اس کی یاد ہے تم مجھے تنہا سمجھتے ہو تو میں تنہا نہیں ہو سکے تو آپ رکھیے اپنے عیبوں پر نظر دوسروں کی خامیوں پر تبصرہ اچھا نہیں کس قدر بدلہ ہے مجھ کو وقت نے حالات نے آئنہ ہے سامنے لیکن میرا چہرہ نہیں دور تک ملتا نہیں ہے اس میں عاشق کا وجود عشق ایسی دھوپ ہے جس میں کوئی سایہ نہیں شام غم سو جاؤں تجھ کو ساتھ لے کر صبح تک اپنے وعدے پر اسے آنا تھا وہ آیا نہیں بے خبر بے سمت ہی اپنا رہا ہے یہ سفر جا رہے ہیں ہم کدھر خود کو بھی بتلایا نہیں اس قدر بیگانگی خود سے رہی ہے عمر بھر اپنے حال زار پر ارپتؔ کبھی سوچا نہیں
hai taajjub aaj tak bhi ishq kyon rusvaa nahin
پورا نہ شب غم کا کبھی سلسلہ ہوا وقت سحر اٹھا میں دعا مانگتا ہوا ہر ہر نفس میں لفظ محبت زباں پہ ہے مجھ میں نہ جانے کون ہے یہ بولتا ہوا پایا نہیں کسی نے بھی یہ راز کائنات ایک شخص کھو گیا ہے خدا ڈھونڈھتا ہوا اس سے چھپا نہ پائے گا تو اپنا حال دل آنکھوں کا آئینہ ہے ابھی بولتا ہوا بیمار تھا تو پوچھنے آئے نہیں مزاج میت پہ آج اس کی ہے میلہ لگا ہوا کل چودھویں کی رات بھی ارپتؔ تمام رات بھٹکا ہوں اپنے آپ کو میں ڈھونڈھتا ہوا
puuraa na shab-e-gham kaa kabhi silsila huaa
یہ ہوائیں اور یہ بادل سب مرے قابو میں ہے مان لے یہ بات پاگل سب مرے قابو میں ہے تو یہاں سے تو چلا جائے گا اے خانہ بدوش یہ ہوا یہ آگ جل تھل سب مرے قابو میں ہے تجھ کو میں نے جو دکھائی وہ تھیں ساری بستیاں اب دکھاؤں گا میں جنگل سب مرے قابو میں ہے میں جو چاہوں تو اسے مجبور کر دوں عشق میں اس کی سانسیں اس کا ہر پل سب مرے قابو میں ہے یہ رہے ہیں پیڑ پکشی یہ رہی آدم کی ذات اور ذرا اب ساتھ میں چل سب مرے قابو میں ہے یہ جہاں اور وہ جہاں دونوں ہے میری داسیاں ساتھ کس کے ہوگا کیا کل سب مرے قابو میں ہے وہ تو کہتا ہے الٹ سکتا ہے ساری کائنات پوچھو تو کہتا ہے پاگل سب مرے قابو میں ہے میں ہوں سیلاب رواں ارپتؔ کبھی مٹی کا ڈھیر یہ سمندر اور یہ دلدل سب مرے قابو میں ہے
ye havaaein aur ye baadal sab mire qaabu mein hai
آپ بیٹھیں بھی ہیں ایسے کے ہوا کچھ بھی نہیں اس کے جانے سے مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں ہائے کیا شخص تھا پھولوں میں گلابوں کی طرح اب نہ جانے کہاں کیسا ہے پتہ کچھ بھی نہیں تم مجھے دیکھ تو سکتے ہو مگر دھیان رہے میری آنکھوں میں ہے اب غم کے سوا کچھ بھی نہیں اس نے چپ رہ کے مرے سارے بھرم توڑ دئے بولتا میں ہی رہا اس نے کہا کچھ بھی نہیں جس کے ہونے سے تھا پت جھڑ میں بہاروں کا سماں نہ رہا وہ تو چمن میں بھی بچا کچھ بھی نہیں آپ دیکھو مجھے یوں غور سے دیکھو ارپتؔ پھر کہو مجھ سے محبت میں رکھا کچھ بھی نہیں
aap baiThein bhi hain aise ke huaa kuchh bhi nahin
اب دل بجھا بجھا ہے مجھے مار دیجیے جینے میں کیا رکھا ہے مجھے مار دیجیے دل کے مرض کا اب نہیں دنیا میں کچھ علاج یہ عشق لا دوا ہے مجھے مار دیجیے میں بے گناہ ہوں تو یہی ہے مری سزا یہ فیصلہ ہوا ہے مجھے مار دیجیے ڈرتا ہوں آئنے کو لگانے سے ہاتھ میں کہتا یہ آئینہ ہے مجھے مار دیجیے میں ہوں وفا شعار یہاں جی کے کیا کروں یہ دور بے وفا ہے مجھے مار دیجیے واللہ بے نشہ نہ رہی میری کوئی شام اکھڑا ہوا نشہ ہے مجھے مار دیجیے اے جان دل بہار تیری بے رخی کے بعد اب میرے پاس کیا ہے مجھے مار دیجیے تنہائیوں کی قید سے گھبرا کے ایک شخص آواز دے رہا ہے مجھے مار دیجیے ایک بات جوش جوش میں سچ کہہ گیا ہوں میں تم کو برا لگا ہے مجھے مار دیجیے تنہائی میری اس سے بھی دیکھی نہیں گئی اس نے بھی یہ کہا ہے مجھے مار دیجیے رشک چمن بنا ہے یہ ارپتؔ مرا وجود خوشبو کو چھو لیا ہے مجھے مار دیجیے
ab dil bujhaa bujhaa hai mujhe maar dijiye





