"ai shaikh vo basit haqiqat hai kufr ki kuchh qaid-e-rasm ne jise iman bana diya"

Asghar Gondvi
Asghar Gondvi
Asghar Gondvi
Sherشعر
See all 57 →ai shaikh vo basit haqiqat hai kufr ki
اے شیخ وہ بسیط حقیقت ہے کفر کی کچھ قید رسم نے جسے ایماں بنا دیا
mujh ko khabar rahi na rukh-e-be-naqab ki
مجھ کو خبر رہی نہ رخ بے نقاب کی ہے خود نمود حسن میں شان حجاب کی
be-mahaba ho agar husn to vo baat kahan
بے محابا ہو اگر حسن تو وہ بات کہاں چھپ کے جس شان سے ہوتا ہے نمایاں کوئی
har ik jagah tiri barq-e-nigah dauD ga.i
ہر اک جگہ تری برق نگاہ دوڑ گئی غرض یہ ہے کہ کسی چیز کو قرار نہ ہو
ham us nigah-e-naz ko samjhe the neshtar
ہم اس نگاہ ناز کو سمجھے تھے نیشتر تم نے تو مسکرا کے رگ جاں بنا دیا
zulf thi jo bikhar ga.i rukh tha ki jo nikhar gaya
زلف تھی جو بکھر گئی رخ تھا کہ جو نکھر گیا ہائے وہ شام اب کہاں ہائے وہ اب سحر کہاں
Popular Sher & Shayari
114 total"mujh ko khabar rahi na rukh-e-be-naqab ki hai khud numud husn men shan-e-hijab ki"
"be-mahaba ho agar husn to vo baat kahan chhup ke jis shaan se hota hai numayan koi"
"har ik jagah tiri barq-e-nigah dauD ga.i gharaz ye hai ki kisi chiiz ko qarar na ho"
"ham us nigah-e-naz ko samjhe the neshtar tum ne to muskura ke rag-e-jan bana diya"
"zulf thi jo bikhar ga.i rukh tha ki jo nikhar gaya haa.e vo shaam ab kahan haa.e vo ab sahar kahan"
sau baar tiraa daaman haathon mein mire aayaa
jab aankh khuli dekhaa apnaa hi garebaan thaa
kyaa mastiyaan chaman mein hain josh-e-bahaar se
har shaakh-e-gul hai haath mein saaghar liye hue
chalaa jaataa huun hanstaa kheltaa mauj-e-havaadis se
agar aasaaniyaan hon zindagi dushvaar ho jaae
zaahid ne miraa haasil-e-imaan nahin dekhaa
rukh par tiri zulfon ko pareshaan nahin dekhaa
yuun muskuraae jaan si kaliyon mein paD gai
yuun lab-kushaa hue ki gulistaan banaa diyaa
pahli nazar bhi aap ki uff kis balaa ki thi
ham aaj tak vo choT hain dil par liye hue
Ghazalغزل
ye nang-e-aashiqi hai suud o haasil dekhne vaale
یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والے یہاں گمراہ کہلاتے ہیں منزل دیکھنے والے خط ساغر میں راز حق و باطل دیکھنے والے ابھی کچھ لوگ ہیں ساقی کی محفل دیکھنے والے مزے آ آ گئے ہیں عشوہ ہائے حسن رنگیں کے تڑپتے ہیں ابھی تک رقص بسمل دیکھنے والے یہاں تو عمر گزری ہے اسی موج و تلاطم میں وہ کوئی اور ہوں گے سیر حاصل دیکھنے والے مرے نغموں سے صہبائے کہن بھی ہو گئی پانی تعجب کر رہے ہیں رنگ محفل دیکھنے والے جنون عشق میں ہستی عالم پر نظر کیسی رخ لیلیٰ کو کیا دیکھیں گے محمل دیکھنے والے
majaaz kaisaa kahaan haqiqat abhi tujhe kuchh khabar nahin hai
مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے یہ سب ہے اک خواب کی سی حالت، جو دیکھتا ہے سحر نہیں ہے شمیم گلشن نسیم صحرا شعاع خورشید موج دریا ہر ایک گرم سفر ہے ان میں میرا کوئی ہم سفر نہیں ہے نظر میں وہ گل سما گیا ہے، تمام ہستی پہ چھا گیا ہے چمن میں ہوں یا قفس میں ہوں میں، مجھے اب اس کی خبر نہیں ہے چمک دمک پر مٹا ہوا ہے، یہ باغباں تجھ کو کیا ہوا ہے فریب شبنم میں مبتلا ہے چمن کی اب تک خبر نہیں ہے یہ مجھ سے سن لے تو راز پنہاں سلامتی خود ہے دشمن جاں کہاں سے راہ رو میں زندگی ہو کہ راہ جب پر خطر نہیں ہے میں سر سے پا تک ہوں مے پرستی تمام شورش تمام مستی کھلا ہے مجھ پر یہ راز ہستی کہ مجھ کو کچھ بھی خبر نہیں ہے ہوا کو موج شراب کر دے فضا کو مست و خراب کر دے یہ زندگی کو شباب کر دے نظر تمہاری نظر نہیں ہے پڑا ہے کیا اس کے در پہ اصغرؔ وہ شوخ مائل ہے امتحاں پر ثبوت دے زندگی کا مر کر نیاز اب کارگر نہیں ہے
aks kis chiiz kaa aaina-e-hairat mein nahin
عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیں تیری صورت میں ہے کیا جو میری صورت میں نہیں دونوں عالم تری نیرنگ ادائی کے نثار اب کوئی چیز یہاں جیب محبت میں نہیں دولت قرب کو خاصان محبت جانیں چند اشکوں کے سوا کچھ میری قسمت میں نہیں لوگ مرتے بھی ہیں، جیتے بھی ہیں، بیتاب بھی ہیں کون سا سحر تری چشم عنایت میں نہیں سب سے اک طرز جدا، سب سے اک آہنگ جدا رنگ محفل میں ترا جو ہے وہ خلوت میں نہیں نشۂ عشق میں ہر چیز اڑی جاتی ہے کون ذرہ ہے کہ سرشار محبت میں نہیں دعوئ دید غلط دعوئ عرفاں بھی غلط کچھ تجلی کے سوا چشم بصیرت میں نہیں ہو گئی جمع متاع غم حرماں کیوں کر میں سمجھتا تھا کوئی پردۂ غفلت میں نہیں ذرے ذرے میں کیا جوش ترنم پیدا خود مگر کوئی نوا ساز محبت میں نہیں نجد کی سمت سے یہ شور انا لیلیٰ کیوں شوخیٔ حسن اگر پردۂ وحشت میں نہیں
tu ek naam hai magar sadaa-e-khvaab ki tarah
تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح میں ایک حرف ہوں مگر نشان آب کی طرح مجھے سمجھ کہ میں ہی اصل راز کائنات ہوں دھرا ہوں تیرے سامنے کھلی کتاب کی طرح میں کوئی گیت ہوں مگر صدا کی بندشوں میں ہوں مرے لہو میں راگ ہے سم عذاب کی طرح مری پناہ گاہ تھی انہی خلاؤں میں کہیں میں سطح آب پر رہا حباب آب کی طرح میں اصغرؔ حزیں کبھی کسی کے دوستوں میں تھا وہ دن بھی مجھ کو یاد ہیں خیال خواب کی طرح
kaun thaa us ke havaa-khvaahon mein jo shaamil na thaa
کون تھا اس کے ہوا خواہوں میں جو شامل نہ تھا اب ہوا معلوم مجھ کو دل بھی میرا دل نہ تھا عشق کی بیتابیوں پر حسن کو رحم آ گیا جب نگاہ شوق تڑپی پردۂ محمل نہ تھا تھیں نگاہ شوق کی رنگینیاں چھائی ہوئی پردۂ محمل اٹھا تو صاحب محمل نہ تھا قہر ہے تھوڑی سی بھی غفلت طریق عشق میں آنکھ جھپکی قیس کی اور سامنے محمل نہ تھا
hai dil-e-naakaam-e-aashiq mein tumhaari yaad bhi
ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھی یہ بھی کیا گھر ہے کہ ہے برباد بھی آباد بھی دل کے مٹنے کا مجھے کچھ اور ایسا غم نہیں ہاں مگر اتنا کہ ہے اس میں تمہاری یاد بھی کس کو یہ سمجھایئے نیرنگ کار عاشقی تھم گئے اشک مسلسل رک گئی فریاد بھی سینے میں درد محبت راز بن کر رہ گیا اب وہ حالت ہے کہ کر سکتے نہیں فریاد بھی پھاڑ ڈالوں گا گریباں پھوڑ لوں گا اپنا سر ہے مرے آفت کدے میں قیس بھی فرہاد بھی کچھ تو اصغرؔ مجھ میں ہے قائم ہے جس سے زندگی جان بھی کہتے ہیں اس کو اور ان کی یاد بھی





