SHAWORDS
Asghar Gondvi

Asghar Gondvi

Asghar Gondvi

Asghar Gondvi

poet
57Sher
57Shayari
37Ghazal

Sherشعر

See all 57

Popular Sher & Shayari

114 total

Ghazalغزل

See all 37
غزل · Ghazal

ye nang-e-aashiqi hai suud o haasil dekhne vaale

یہ ننگ عاشقی ہے سود و حاصل دیکھنے والے یہاں گمراہ کہلاتے ہیں منزل دیکھنے والے خط ساغر میں راز حق و باطل دیکھنے والے ابھی کچھ لوگ ہیں ساقی کی محفل دیکھنے والے مزے آ آ گئے ہیں عشوہ ہائے حسن رنگیں کے تڑپتے ہیں ابھی تک رقص بسمل دیکھنے والے یہاں تو عمر گزری ہے اسی موج و تلاطم میں وہ کوئی اور ہوں گے سیر حاصل دیکھنے والے مرے نغموں سے صہبائے کہن بھی ہو گئی پانی تعجب کر رہے ہیں رنگ محفل دیکھنے والے جنون عشق میں ہستی عالم پر نظر کیسی رخ لیلیٰ کو کیا دیکھیں گے محمل دیکھنے والے

غزل · Ghazal

majaaz kaisaa kahaan haqiqat abhi tujhe kuchh khabar nahin hai

مجاز کیسا کہاں حقیقت ابھی تجھے کچھ خبر نہیں ہے یہ سب ہے اک خواب کی سی حالت، جو دیکھتا ہے سحر نہیں ہے شمیم گلشن نسیم صحرا شعاع خورشید موج دریا ہر ایک گرم سفر ہے ان میں میرا کوئی ہم سفر نہیں ہے نظر میں وہ گل سما گیا ہے، تمام ہستی پہ چھا گیا ہے چمن میں ہوں یا قفس میں ہوں میں، مجھے اب اس کی خبر نہیں ہے چمک دمک پر مٹا ہوا ہے، یہ باغباں تجھ کو کیا ہوا ہے فریب شبنم میں مبتلا ہے چمن کی اب تک خبر نہیں ہے یہ مجھ سے سن لے تو راز پنہاں سلامتی خود ہے دشمن جاں کہاں سے راہ رو میں زندگی ہو کہ راہ جب پر خطر نہیں ہے میں سر سے پا تک ہوں مے پرستی تمام شورش تمام مستی کھلا ہے مجھ پر یہ راز ہستی کہ مجھ کو کچھ بھی خبر نہیں ہے ہوا کو موج شراب کر دے فضا کو مست و خراب کر دے یہ زندگی کو شباب کر دے نظر تمہاری نظر نہیں ہے پڑا ہے کیا اس کے در پہ اصغرؔ وہ شوخ مائل ہے امتحاں پر ثبوت دے زندگی کا مر کر نیاز اب کارگر نہیں ہے

غزل · Ghazal

aks kis chiiz kaa aaina-e-hairat mein nahin

عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیں تیری صورت میں ہے کیا جو میری صورت میں نہیں دونوں عالم تری نیرنگ ادائی کے نثار اب کوئی چیز یہاں جیب محبت میں نہیں دولت قرب کو خاصان محبت جانیں چند اشکوں کے سوا کچھ میری قسمت میں نہیں لوگ مرتے بھی ہیں، جیتے بھی ہیں، بیتاب بھی ہیں کون سا سحر تری چشم عنایت میں نہیں سب سے اک طرز جدا، سب سے اک آہنگ جدا رنگ محفل میں ترا جو ہے وہ خلوت میں نہیں نشۂ عشق میں ہر چیز اڑی جاتی ہے کون ذرہ ہے کہ سرشار محبت میں نہیں دعوئ دید غلط دعوئ عرفاں بھی غلط کچھ تجلی کے سوا چشم بصیرت میں نہیں ہو گئی جمع متاع غم حرماں کیوں کر میں سمجھتا تھا کوئی پردۂ غفلت میں نہیں ذرے ذرے میں کیا جوش ترنم پیدا خود مگر کوئی نوا ساز محبت میں نہیں نجد کی سمت سے یہ شور انا لیلیٰ کیوں شوخیٔ حسن اگر پردۂ وحشت میں نہیں

غزل · Ghazal

tu ek naam hai magar sadaa-e-khvaab ki tarah

تو ایک نام ہے مگر صدائے خواب کی طرح میں ایک حرف ہوں مگر نشان آب کی طرح مجھے سمجھ کہ میں ہی اصل راز کائنات ہوں دھرا ہوں تیرے سامنے کھلی کتاب کی طرح میں کوئی گیت ہوں مگر صدا کی بندشوں میں ہوں مرے لہو میں راگ ہے سم عذاب کی طرح مری پناہ گاہ تھی انہی خلاؤں میں کہیں میں سطح آب پر رہا حباب آب کی طرح میں اصغرؔ حزیں کبھی کسی کے دوستوں میں تھا وہ دن بھی مجھ کو یاد ہیں خیال خواب کی طرح

غزل · Ghazal

kaun thaa us ke havaa-khvaahon mein jo shaamil na thaa

کون تھا اس کے ہوا خواہوں میں جو شامل نہ تھا اب ہوا معلوم مجھ کو دل بھی میرا دل نہ تھا عشق کی بیتابیوں پر حسن کو رحم آ گیا جب نگاہ شوق تڑپی پردۂ محمل نہ تھا تھیں نگاہ شوق کی رنگینیاں چھائی ہوئی پردۂ محمل اٹھا تو صاحب محمل نہ تھا قہر ہے تھوڑی سی بھی غفلت طریق عشق میں آنکھ جھپکی قیس کی اور سامنے محمل نہ تھا

غزل · Ghazal

hai dil-e-naakaam-e-aashiq mein tumhaari yaad bhi

ہے دل ناکام عاشق میں تمہاری یاد بھی یہ بھی کیا گھر ہے کہ ہے برباد بھی آباد بھی دل کے مٹنے کا مجھے کچھ اور ایسا غم نہیں ہاں مگر اتنا کہ ہے اس میں تمہاری یاد بھی کس کو یہ سمجھایئے نیرنگ کار عاشقی تھم گئے اشک مسلسل رک گئی فریاد بھی سینے میں درد محبت راز بن کر رہ گیا اب وہ حالت ہے کہ کر سکتے نہیں فریاد بھی پھاڑ ڈالوں گا گریباں پھوڑ لوں گا اپنا سر ہے مرے آفت کدے میں قیس بھی فرہاد بھی کچھ تو اصغرؔ مجھ میں ہے قائم ہے جس سے زندگی جان بھی کہتے ہیں اس کو اور ان کی یاد بھی

Similar Poets