baadal ke ek TukDe mein kyon dab gai tapish
suraj hazaar darja jalaali banaa rahaa

Ashhad Karim Ulfat
Ashhad Karim Ulfat
Ashhad Karim Ulfat
Popular Shayari
4 totalzindagi se bahut der tak
zindagi par hi chiq chiq hui
meri fikr nahin hai tujh ko apni fikr to karni hogi
teraa naam bhi mailaa hogaa meri bhi rusvaai mein
du’aa-e-dast-e-fazilat se sar ki raunaq hai
hamaare ghar ke buzurgon se ghar ki raunaq hai
Ghazalغزل
آپ ناراض ہیں اور ہم بھی تو شرمندہ ہیں دونوں دن رات تڑپتے ہیں مگر زندہ ہیں شاخ مژگاں پہ ابھر آئے ہیں کچھ نقش جمال ذہن کی خاک میں چہرے کئی تابندہ ہیں شبنمی رات کے پھولوں نے اتارے ہیں لباس گرم پوشاک میں سورج کے نمائندہ ہیں دل کی دھڑکن بھی وہی سانس کے نغمے بھی وہی ہر رگ و ریشے ترے نام کے سازندہ ہیں سرخ آنکھوں نے جلا رکھے ہیں پانی کے چراغ کچھ ستارے بھی سر شام درخشندہ ہیں امن کی بھیک بھی ملتی نہیں جینے کے لئے جانے کس ملک کے اجڑے ہوئے باشندہ ہیں دیکھیے حال پریشاں کو الٹ کر الفتؔ ہم کسی ماضی کے کھوئے ہوئے آئندہ ہیں
aap naaraaz hain aur ham bhi to sharminda hain
اپنے آپ میں اکثر خوش ہوں رو کر خوش ہوں ہنس کر خوش ہوں جھیل کے جیسی آنکھیں بولیں چاند کا چما لے کر خوش ہوں ہرے دوپٹے کھیت نے اوڑھے بادل بجلی تجھ پر خوش ہوں کھول کے کاپی سادے ورق پر نام تمہارا لکھ کر خوش ہوں سنڈے کو کچھ موج کریں گے سوچ کے گھر کا منظر خوش ہوں
apne aap mein aksar khush huun
چراغوں کا کلیجہ بھن رہی ہیں ہوائیں درد کس کا سن رہی ہیں بہت مصروف ہیں سانسیں ہماری ابھی جینے کی چادر بن رہی ہیں یہ اڑتی رنگ برنگی تتلیاں کیا شگفتہ پھول دل کا چن رہی ہیں پہاڑی راگ جب ندیوں نے چھیڑے اچھلتی لہریں خود سر دھن رہی ہیں چمکتی بجلیوں پہ غور کرنا ہمارے ہوش کا ناخن رہی ہیں
charaaghon kaa kaleja bhun rahi hain
عجیب شخص ہے تیور ہے باغیانہ سا بنائے رکھتا ہے سولی پہ آشیانہ سا عجیب شوق ہے شوق وصال بھی اس کا گلال چہرہ تبسم ہے فاتحانہ سا نگاہ ناز لیے خواب خواب صورت ہے ہر آدمی ہے یہاں گمشدہ فسانہ سا تصورات کے بت ٹوٹتے بکھرتے ہیں ہر اک جمود پہ لگتا ہے تازیانہ سا تڑپتی مچھلی کی آنکھیں پھڑک گئی سی ہیں غضب کا سادھ رہا ہے کوئی نشانہ سا زمانہ ساز قلندر ہے کس خیال میں گم اور اس کے زیر قدم ہے پڑا زمانہ سا جھکائے رکھتی ہے اس کے کلام کی قوت لباس ڈال رکھا ہے پھٹا پرانا سا کسی نے موت کی پرچی پہ لکھ دیا الفتؔ یہ زندگی سے تعارف ہے غائبانہ سا
ajiib shakhs hai tevar hai baaghiyaana saa
اک دیا جل رہا ہے ہوا تیز ہے دل مگر کانپتا ہے ہوا تیز ہے عارضوں کے پر پنکھ کیا ہو گئے شوق محو دعا ہے ہوا تیز ہے ایک جھونکے میں خوشبو کہاں اڑ گئی کون سا گل کھلا ہے ہوا تیز ہے دشت در دشت اڑتی ہوئی خاک میں زندگی لاپتہ ہے ہوا تیز ہے کہہ رہی ہیں سمندر کی خاموشیاں میرے سینے میں کیا ہے ہوا تیز ہے مست ہاتھی سے بادل کہاں کھو گئے چیونٹیوں سی گھٹا ہے ہوا تیز ہے کون روتا ہے وقت سحر دل دکھا اک سسکتی صدا ہے ہوا تیز ہے کیا وہ آیا کہ زنجیر ہلنے لگی یا مرا واہمہ ہے ہوا تیز ہے اس بلندی سے گزرے تو ایسا لگا کیا کھلی سی فضا ہے ہوا تیز ہے ہم کہاں جا رہے ہیں زمیں چھوڑ کر یہ سفر کون سا ہے ہوا تیز ہے
ik diyaa jal rahaa hai havaa tez hai
زندگی باندھی گئی ہے جب ہوا کی ڈور سے میں نے طوفاں کو دبا رکھا ہے اپنی اور سے روز و شب کی آڑی ترچھی سی کئی پرچھائیاں شام جیسے بیٹھی ہو کاجل لگا کر بھور سے تھرتھراتے ہونٹ پر کچھ ٹوٹتے الفاظ ہیں دل دھڑکتا جا رہا ہے اور بھی کچھ زور سے سرخ آنکھوں کی لکیروں نے نچوڑا دل کا خوں ریت کے ذروں کو سورج دیکھتا ہے غور سے ظلم کی طاقت الگ ہے صبر کی طاقت الگ درد کا رشتہ وفا سے ہے ستم کا جور سے کون سنتا ہے کسی کی سانس کے نغموں کی دھن سب نے اپنا راگ چھیڑا اپنے اپنے طور سے وقت گردش کر رہا ہے سوئی کی اک نوک پر ہم بھی لڑ کر جی رہے ہیں کیسے نازک دور سے
zindagi baandhi gai hai jab havaa ki Dor se





