SHAWORDS
A

Azeem Hyderabadi

Azeem Hyderabadi

Azeem Hyderabadi

poet
3Shayari
9Ghazal

Popular Shayari

3 total

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

راز جور و جفا نہیں معلوم درد دل کی دوا نہیں معلوم اے مسیحا تری عنایت سے درد کیوں بڑھ گیا نہیں معلوم ہائے اس شوخیٔ نظر کا عتاب کیا غضب ڈھائے گا نہیں معلوم میرا اللہ پر بھروسہ ہے کرم ناخدا نہیں معلوم ان کی بیگانگی عظیمؔ آخر رنگ لائے گی کیا نہیں معلوم

raaz-e-jaur-o-jafaa nahin maalum

غزل · Ghazal

مزاج دوست میں کچھ برہمی نظر آئی مرے خلوص میں شاید کمی نظر آئی تمہارے آنے سے سارا چمن مہک اٹھا کلی کلی پہ تر و تازگی نظر آئی یہ انقلاب زمانہ ہے یا فسون نظر ہنسی بھی آپ کی محبوب سی نظر آئی یہی تو درد جدائی کا فیض ہے مجھ پر سسکتی سانس اکھڑتی ہوئی نظر آئی یہ زخم عشق کا احساں ہے راہ الفت میں اداس دل میں بھی اک روشنی نظر آئی ہے پر فریب یہ طرز عمل حسینوں کا ذرا سی چھیڑ پہ وارفتگی نظر آئی ہجوم ماہ وشاں میں عظیمؔ رہ کے مجھے قدم قدم پہ بڑی بے بسی نظر آئی

mizaaj-e-dost mein kuchh barhami nazar aai

غزل · Ghazal

رہوں گا عشق میں محروم تاثیر فغاں کب تک فریب زندگی کھاتی رہے عمر رواں کب تک خدا کے واسطے او فتنہ ساماں یہ تو سمجھا دے ہوس کے نام پر پابندیٔ سود و زیاں کب تک نہ دنیا سے تعلق ہے نہ عقبیٰ سے مجھے مطلب رہے میری طبیعت بے نیاز دو جہاں کب تک تصور بھی ترا ہے ماورائے فکر انسانی تری ہستی رہے گی میرے حق میں چیستاں کب تک یہ فیضان محبت ہے کہ میں اب تک سلامت ہوں مگر طوفان میں یہ کشتیٔ عمر رواں کب تک وہی گردش وہی جلوے وہی منظر وہی عالم رہیں گے ایک حالت میں زمین و آسماں کب تک عظیمؔ ان کے تغافل نے کہیں کا بھی نہیں رکھا بہ فیض حور یوں زندہ رہے یہ خستہ جاں کب تک

rahungaa ishq mein mahrum-e-taasir-e-fughaan kab tak

غزل · Ghazal

ان سے ملنے کی التجا کی ہے دل ناداں نے یہ خطا کی ہے میں کھنچا جا رہا ہوں اس کی طرف یہ کشش حسن فتنہ زا کی ہے خود فریبی میں مبتلا رکھ کر ظلم کی تم نے انتہا کی ہے قول اور فعل میں تضاد روا بات کچھ پیر پارسا کی ہے دور حاضر کے پیشواؤں میں خواہش سیم و زر بلا کی ہے جیتے جی مغفرت کا خواہاں ہوں بات اب زحمت دعا کی ہے یہ من و تو کی کار فرمائی ذہن آدم نے جا بہ جا کی ہے مقصد زندگی سمجھ بیٹھا چشم بینا جو اس نے وا کی ہے جھک رہی ہے عظیمؔ اپنی جبیں یہ کرامت تو نقش پا کی ہے

un se milne ki iltijaa ki hai

غزل · Ghazal

پر کشش جلوۂ جاناں ہے خدا خیر کرے جیتے جی موت کا ساماں ہے خدا خیر کرے حسن بے پردہ خراماں ہے خدا خیر کرے اک نئے حشر کا ساماں ہے خدا خیر کرے نغمۂ زیست کی بے ساختہ لے کو سن کر درد پھر سلسلہ جنباں ہے خدا خیر کرے ہر اشارا نئے افکار کا آئینہ ہے ہر سخن عقدۂ پیچاں ہے خدا خیر کرے جانے کس رنگ پہ آ جائے مرا جوش جنوں آمد فصل بہاراں ہے خدا خیر کرے جس تصور سے کہ گھبرائی تھی میری فطرت پھر وہی خواب پریشاں ہے خدا خیر کرے التباس آپ کو جب سے ہے وفاؤں پہ مری دل غریق غم و حرماں ہے خدا خیر کرے بندۂ حرس و ہوس آج ہے مذہب کا نقیب کتنا بدلا ہوا انسان ہے خدا خیر کرے جلوۂ دوست نے وہ سحر کیا ہے کہ عظیمؔ دل شراروں سے فروزاں ہے خدا خیر کرے

pur-kashish jalva-e-jaanaan hai khudaa khair kare

غزل · Ghazal

اضطراب دل بیمار سے ڈر لگتا ہے نبض کی سرعت رفتار سے ڈر لگتا ہے حسن کے عشوۂ طرار سے ڈر لگتا ہے لغزش فطرت خوددار سے ڈر لگتا ہے منزل حشر بہت دور سہی پر اب بھی پرسش بخت سیہ کار سے ڈر لگتا ہے اک المناک فسانہ ہے جنون الفت جس کی تفسیر کے اظہار سے ڈر لگتا ہے جادۂ ہوش سے ہٹ جائیں نہ مے کش کے قدم جام کی گرمئ رفتار سے ڈر لگتا ہے یا تو ناموس محبت پہ تھا مرنا برحق یا تو ذکر رسن و دار سے ڈر لگتا ہے رخ بدل دے نہ محبت کا یہ آشفتہ سری اعتبار نگہ یار سے ڈر لگتا ہے یہ عقیدت ہی کہیں درپئے آزار نہ ہو شرف پا بوسیٔ اغیار سے ڈر لگتا ہے توڑ ڈالیں نہ کہیں آپ مرا شیشۂ دل آپ کی شومیٔ گفتار سے ڈر لگتا ہے غم و آلام سے اس درجہ سراسیمہ ہوں کہ مجھے عکس رخ یار سے ڈر لگتا ہے بھول جاؤں نہ کہیں اپنی ہی ہستی کا مقام آپ کی چشم فسوں بار سے ڈر لگتا ہے بد گمانی ہوئی اس درجہ دخیل فطرت ان کو اب سایۂ دیوار سے ڈر لگتا ہے پھر برانگیختہ ہو جائیں نہ جذبات نہاں شعلہ سامانیٔ رخسار سے ڈر لگتا ہے باہمی ربط میں بن جائے نہ حد فاصل اختلافات کی دیوار سے ڈر لگتا ہے کچھ تو بدلے ہوئے حالات سے وحشت ہے عظیمؔ کچھ تو بگڑے ہوئے آثار سے ڈر لگتا ہے

iztiraab-e-dil-e-bimaar se Dar lagtaa hai

Similar Poets