vasl ke ek hi jhonke mein
kaan se baale utar gae

Azhar Faragh
Azhar Faragh
Azhar Faragh
Popular Shayari
48 totalteri sharton pe hi karnaa hai agar tujh ko qubul
ye suhulat to mujhe saaraa jahaan detaa hai
daftar se mil nahin rahi chhuTTi vagarna main
baarish ki ek buund na be-kaar jaane duun
jab tak maathaa chuum ke rukhsat karne vaali zinda thi
darvaaze ke baahar tak bhi munh mein luqma hotaa thaa
ye nahin dekhte kitni hai riyaazat kis ki
log aasaan samajh lete hain aasaani ko
divaarein chhoTi hoti thiin lekin parda hotaa thaa
taalon ki ijaad se pahle sirf bharosa hotaa thaa
khaton ko kholti dimak kaa shukriya varna
taDap rahi thi lifaafon mein be-zabaani paDi
achchhe-khaase logon par bhi vaqt ik aisaa aa jaataa hai
aur kisi par hanste hanste khud par ronaa aa jaataa hai
bataa rahaa hai jhaTaknaa tiri kalaai kaa
zaraa bhi ranj nahin hai tujhe judaai kaa
vo dastiyaab hamein is liye nahin hotaa
ham istifaada nahin dekh-bhaal karte hain
izaala ho gayaa taakhir se nikalne kaa
guzar gai hai safar mein mire qayaam ki shaam
main jaantaa huun mujhe mujh se maangne vaale
paraai chiiz kaa jo log haal karte hain
Ghazalغزل
جاتے ہوئے نہیں رہا پھر بھی ہمارے دھیان میں دیکھی بھی ہم نے مچھلیاں شیشے کے مرتبان میں پہلے بھی اپنی جھولیاں جھاڑ کر اٹھ گئے تھے ہم ایسی ہی ایک رات تھی ایسی ہی داستان میں ساتھ ضعیف باپ کے لگ گئیں کام کاج پر گہنے چھپا کے لڑکیاں دادی کے پان دان میں گھنٹی بجا کے بھاگتے بچوں کو تھوڑی علم ہے رہتا نہیں ہے کوئی بھی آدمی اس مکان میں یعنی مجال کچھ نہیں ذروں کے اجتماع کی یعنی سبھی مہہ و نجوم ایک ہی خاندان میں اتنا بھی مختلف نہیں میرا تمہارا تجربہ جیسے کہ تم مقیم ہو اور کسی جہان میں
jaate hue nahin rahaa phir bhi hamaare dhyaan mein
بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے کسی بدن کی سیاحت نڈھال کرتی ہے کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے نشست کے تو طلب گار ہی نہیں ہم لوگ ہمارے پاؤں سے کیوں پائیدان کھینچتا ہے بدل کے دیکھ چکی ہے رعایا صاحب تخت جو سر قلم نہیں کرتا زبان کھینچتا ہے دکھا رہا ہے خریدار بن کے آج مجھے جسے لپیٹ کے رکھوں وہ تھان کھینچتا ہے چراغوں میں وہ چراغ اس لیے نمایاں ہے ہم ایسے دیکھنے والوں کا دھیان کھینچتا ہے یہ سارا جھگڑا ترے انہماک کا ہی تو ہے سمیٹتا ہے کوئی داستان کھینچتا ہے
bhanvar se ye jo mujhe baadbaan khinchtaa hai
ڈرے ہوئے ہیں سبھی لوگ ابر چھانے سے وہ آئی بام پہ کیا دھوپ کے بہانے سے وہ قصہ گو تو بہت جلدباز آدمی تھا بہت سی لکڑیاں ہم رہ گئے جلانے سے نظر تو ڈال روانی کی استقامت پر یہ آبشار ہے کہسار کے گھرانے سے مسافران محبت مجھے معاف کریں میں باز آیا انہیں راستہ دکھانے سے اگر میں آخری بازی نہ کھیلتا اظہرؔ تو خالی ہاتھ نہ آتا قمار خانے سے
Dare hue hain sabhi log abr chhaane se
باغ سے جھولے اتر گئے سندر چہرے اتر گئے لٹک گئے دیوار سے ہم سیڑھی والے اتر گئے گھر میں کس کا پاؤں پڑا چھت کے جالے اتر گئے بھینٹ چڑھے تم عجلت کی پیڑ سے کچے اتر گئے وصل کے ایک ہی جھونکے میں کان سے بالے اتر گئے بھاگوں والی بستی تھی جہاں پرندے اتر گئے اک دن ایسا ہوش آیا سارے نشے اتر گئے
baagh se jhule utar gae
اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں دست دعا میں رکھا ہوا آئنہ ہوں میں اب جا کے ہو سکے گی محبت وثوق سے خود سے بچھڑتے وقت کسی سے ملا ہوں میں آباد ہے خزانے کی افواہ سے وجود متروک جنگلوں کا کوئی راستہ ہوں میں دستار کاغذی ہے فضیلت ہے نام کی چھوٹوں کی مہربانی سے گھر میں بڑا ہوں میں رو کر نہ سویا جائے تو کیا نیند کا جواز بستر کی ہر شکن میں پڑا جاگتا ہوں میں ہوں اپنی روشنی کی اذیت میں مبتلا جلتا ہوا چراغ ہوں الٹا پڑا ہوں میں
us lab ki khaamushi ke sabab TuTtaa huun main
اک جیسا برتاؤ ہو کیسے کچے سچ اور جھوٹ کے ساتھ کوئی قطار میں لگ کر آیا کوئی پیراشوٹ کے ساتھ اس نے بھی کم وقت لگایا آج اپنی تیاری میں میں بھی میچ نہیں کر پایا ٹائی اس کے سوٹ کے ساتھ میرا عشق تو خیر مری محرومی کا پروردہ تھا کیا معلوم تھا وہ بھی دے گا میرا اتنا ٹوٹ کے ساتھ ہوتے ہوتے ہوگا وصل ہمارا پاک تکلف سے پیر ابھی مانوس نہیں ہے نئے نویلے بوٹ کے ساتھ ہار اور جیت کی پوری ذمہ داری لینی پڑتی ہے عذر اس چالاک سے کوئی کیسے کھیلے چھوٹ کے ساتھ
ik jaisaa bartaav ho kaise kachche sach aur jhuuT ke saath





