SHAWORDS
Azhar Faragh

Azhar Faragh

Azhar Faragh

Azhar Faragh

poet
48Shayari
21Ghazal

Popular Shayari

48 total

Ghazalغزل

See all 21
غزل · Ghazal

جاتے ہوئے نہیں رہا پھر بھی ہمارے دھیان میں دیکھی بھی ہم نے مچھلیاں شیشے کے مرتبان میں پہلے بھی اپنی جھولیاں جھاڑ کر اٹھ گئے تھے ہم ایسی ہی ایک رات تھی ایسی ہی داستان میں ساتھ ضعیف باپ کے لگ گئیں کام کاج پر گہنے چھپا کے لڑکیاں دادی کے پان دان میں گھنٹی بجا کے بھاگتے بچوں کو تھوڑی علم ہے رہتا نہیں ہے کوئی بھی آدمی اس مکان میں یعنی مجال کچھ نہیں ذروں کے اجتماع کی یعنی سبھی مہہ‌ و نجوم ایک ہی خاندان میں اتنا بھی مختلف نہیں میرا تمہارا تجربہ جیسے کہ تم مقیم ہو اور کسی جہان میں

jaate hue nahin rahaa phir bhi hamaare dhyaan mein

غزل · Ghazal

بھنور سے یہ جو مجھے بادبان کھینچتا ہے ضرور کوئی ہواؤں کے کان کھینچتا ہے کسی بدن کی سیاحت نڈھال کرتی ہے کسی کے ہاتھ کا تکیہ تھکان کھینچتا ہے نشست کے تو طلب گار ہی نہیں ہم لوگ ہمارے پاؤں سے کیوں پائیدان کھینچتا ہے بدل کے دیکھ چکی ہے رعایا صاحب تخت جو سر قلم نہیں کرتا زبان کھینچتا ہے دکھا رہا ہے خریدار بن کے آج مجھے جسے لپیٹ کے رکھوں وہ تھان کھینچتا ہے چراغوں میں وہ چراغ اس لیے نمایاں ہے ہم ایسے دیکھنے والوں کا دھیان کھینچتا ہے یہ سارا جھگڑا ترے انہماک کا ہی تو ہے سمیٹتا ہے کوئی داستان کھینچتا ہے

bhanvar se ye jo mujhe baadbaan khinchtaa hai

غزل · Ghazal

ڈرے ہوئے ہیں سبھی لوگ ابر چھانے سے وہ آئی بام پہ کیا دھوپ کے بہانے سے وہ قصہ گو تو بہت جلدباز آدمی تھا بہت سی لکڑیاں ہم رہ گئے جلانے سے نظر تو ڈال روانی کی استقامت پر یہ آبشار ہے کہسار کے گھرانے سے مسافران محبت مجھے معاف کریں میں باز آیا انہیں راستہ دکھانے سے اگر میں آخری بازی نہ کھیلتا اظہرؔ تو خالی ہاتھ نہ آتا قمار خانے سے

Dare hue hain sabhi log abr chhaane se

غزل · Ghazal

باغ سے جھولے اتر گئے سندر چہرے اتر گئے لٹک گئے دیوار سے ہم سیڑھی والے اتر گئے گھر میں کس کا پاؤں پڑا چھت کے جالے اتر گئے بھینٹ چڑھے تم عجلت کی پیڑ سے کچے اتر گئے وصل کے ایک ہی جھونکے میں کان سے بالے اتر گئے بھاگوں والی بستی تھی جہاں پرندے اتر گئے اک دن ایسا ہوش آیا سارے نشے اتر گئے

baagh se jhule utar gae

غزل · Ghazal

اس لب کی خامشی کے سبب ٹوٹتا ہوں میں دست دعا میں رکھا ہوا آئنہ ہوں میں اب جا کے ہو سکے گی محبت وثوق سے خود سے بچھڑتے وقت کسی سے ملا ہوں میں آباد ہے خزانے کی افواہ سے وجود متروک جنگلوں کا کوئی راستہ ہوں میں دستار کاغذی ہے فضیلت ہے نام کی چھوٹوں کی مہربانی سے گھر میں بڑا ہوں میں رو کر نہ سویا جائے تو کیا نیند کا جواز بستر کی ہر شکن میں پڑا جاگتا ہوں میں ہوں اپنی روشنی کی اذیت میں مبتلا جلتا ہوا چراغ ہوں الٹا پڑا ہوں میں

us lab ki khaamushi ke sabab TuTtaa huun main

غزل · Ghazal

اک جیسا برتاؤ ہو کیسے کچے سچ اور جھوٹ کے ساتھ کوئی قطار میں لگ کر آیا کوئی پیراشوٹ کے ساتھ اس نے بھی کم وقت لگایا آج اپنی تیاری میں میں بھی میچ نہیں کر پایا ٹائی اس کے سوٹ کے ساتھ میرا عشق تو خیر مری محرومی کا پروردہ تھا کیا معلوم تھا وہ بھی دے گا میرا اتنا ٹوٹ کے ساتھ ہوتے ہوتے ہوگا وصل ہمارا پاک تکلف سے پیر ابھی مانوس نہیں ہے نئے نویلے بوٹ کے ساتھ ہار اور جیت کی پوری ذمہ داری لینی پڑتی ہے عذر اس چالاک سے کوئی کیسے کھیلے چھوٹ کے ساتھ

ik jaisaa bartaav ho kaise kachche sach aur jhuuT ke saath

Similar Poets