koi kirdaar adaa kartaa hai qimat is ki
jab kahaani ko nayaa moD diyaa jaataa hai

Azhar Nawaz
Azhar Nawaz
Azhar Nawaz
Popular Shayari
7 totalkisi buzdil ki surat ghar se ye baahar nikaltaa hai
miraa ghussa kisi kamzor ke uupar nikaltaa hai
jo meraa jhuuT hai akasr mire andar nikaltaa hai
jise kam-tar samajhtaa huun vahi behtar nikaltaa hai
mujh ko har samt le ke jaataa hai
ek imkaan tere hone kaa
chaarasaazo miraa ilaaj karo
aaj kuchh dard mein kami si hai
khubsurat hai sirf baahar se
ye imaarat bhi aadmi si hai
mohtaram kah ke mujhe us ne pashemaan kiyaa
koi pahlu na milaa jab miri rusvaai kaa
Ghazalغزل
داغ چہرے کا یونہی چھوڑ دیا جاتا ہے آئنہ ضد میں مگر توڑ دیا جاتا ہے تیری شہرت کے پس پردہ مرا نام بھی ہے تیری لغزش سے مجھے جوڑ دیا جاتا ہے کوئی کردار ادا کرتا ہے قیمت اس کی جب کہانی کو نیا موڑ دیا جاتا ہے اک توازن جو بگڑتا ہے کبھی روح کے ساتھ شیشۂ جسم وہیں پھوڑ دیا جاتا ہے
daagh chehre kaa yunhi chhoD diyaa jaataa hai
ملتے جلتے ہیں یہاں لوگ ضرورت کے لئے ہم ترے شہر میں آئے ہیں محبت کے لئے وہ بھی آخر تری تعریف میں ہی خرچ ہوا میں نے جو وقت نکالا تھا شکایت کے لئے میں ستارہ ہوں مگر تیز نہیں چمکوں گا دیکھنے والے کی آنکھوں کی سہولت کے لئے تم کو بتلاؤں کہ دن بھر وہ مرے ساتھ رہا ہاں وہی شخص جو مشہور ہے عجلت کے لئے سر جھکائے ہوئے خاموش جو تم بیٹھے ہو اتنا کافی ہے مرے دوست ندامت کے لئے وہ بھی دن آئے کہ دہلیز پہ آ کر اظہرؔ پاؤں رکتے ہیں مرے تیری اجازت کے لئے
milte julte hain yahaan log zarurat ke liye
تیرا یہی ہے حکم تو کم کر رہے ہیں دوست جتنا مگر ضروری ہے غم کر رہے ہیں دوست حالانکہ پست ہونے کا خطرہ بھی اس میں ہے دیوار دل کو اور بھی نم کر رہے ہیں دوست اک روز جاتے جاتے تجھے سونپ جائیں گے یہ واردات دل جو رقم کر رہے ہیں دوست جس راہ سے تو آیا ادھر دیکھتے ہوئے آنکھوں کو اعتبار بہم کر رہے ہیں دوست کار فضول ہی سہی یہ کاروبار عشق کوئی کرے یا نہ کرے ہم کر رہے ہیں دوست
teraa yahi hai hukm to kam kar rahe hain dost
ملو تو ایسے کہ رہ جائے شان خوابوں کی کوئی گھڑی تو بنے ترجمان خوابوں کی جو خواب دیکھنے والے تھے سن رہے تھے اسے وہ شخص بول رہا تھا زبان خوابوں کی میں کس سے جا کے کہوں تیرے خواب دکھلائے سنبھال رکھی ہے کس نے کمان خوابوں کی کبھی کبھی تو یہ لگتا ہے جیسے دنیا بھی بہت قدیم ہے اک داستان خوابوں کی
milo to aise ki rah jaae shaan khvaabon ki
قلم پہ اس کے نہیں ہے اب اعتبار مجھے مٹا چکا ہے وہ لکھ لکھ کے بار بار مجھے اگر میں زخم ہوں تو مجھ کو درمیان میں رکھ اگر میں تیر ہوں تو کر لے آر پار مجھے اسے پکار رہا تھا میں اپنی آنکھوں سے پلٹ کے دیکھ تو لیتا وہ ایک بار مجھے نشے کو جس کا نشہ ہو وہ آنکھ ایسی ہے نشہ جس آنکھ سے کہتا ہے مت اتار مجھے یہ پھول تازہ رہیں گے تری رفاقت کے ترا خیال رکھے گا سدا بہار مجھے رفو کی کوششیں مجھ کو ادھیڑ دیتی ہیں سنبھل کے یار نہ کر دینا تار تار مجھے دوا ضروری نہیں کام بھی کرے اظہرؔ خوشی تو کر کے گئی اور سوگوار مجھے
qalam pe us ke nahin hai ab e'tibaar mujhe
آنکھ کے نام کر رہا ہے ہمیں شامل جام کر رہا ہے ہمیں مسکرا کر خرید لو ہم کو درد نیلام کر رہا ہے ہمیں یار توبہ کرو بھلے اور ہم کوئی بدنام کر رہا ہے ہمیں دل میں بسنے کی کس لیے ٹھانی کیوں در و بام کر رہا ہے ہمیں روز چہرہ بگڑتا جاتا ہے آئنہ خام کر رہا ہے ہمیں حرف پوشیدگی بھی اب اظہرؔ طشت از بام کر رہا ہے ہمیں
aankh ke naam kar rahaa hai hamein





