khaamushi hai har taraf har jaa musalsal khaamushi
khaamushi aisi ki khud ko sun nahin paataa huun main

Basit Ali Raja
Basit Ali Raja
Basit Ali Raja
Popular Shayari
4 totalaisi vahshat hai mire dost tumhaari tasvir
aaj divaar se girte hi jalaa di main se
ek hi shakhs gavaaraa hai zamin par mujh ko
vo bhi aavaaz lagaae to palaTtaa nahin huun
mujh se milnaa hai to us shakhs ke hamraah milein
jo mire saamne to aap ki taa'zim kare
Ghazalغزل
زندہ ہو کر بھی کئی روز سے زندہ نہیں ہوں اور اس پر میں کئی روز سے رویا نہیں ہوں ایک ہی شخص گوارا ہے زمیں پر مجھ کو وہ بھی آواز لگائے تو پلٹتا نہیں ہوں کچھ پرندے تو چہکتے ہیں مجھے وقت سحر کچھ پرندوں کو خبر ہے کہ میں سویا نہیں ہوں ناز کرتا ہے وہ خوش چشم مرے ہونے پر مجھ پہ کیا ناز کہ اے دوست میں خود کا نہیں ہوں وہ توجہ جو میسر ہی نہیں ہے مجھ کو ہو میسر تو سر بزم بکھرتا نہیں ہوں
zinda ho kar bhi kai roz se zinda nahin huun
1 views
اک شام کی اداسی کا غم آسماں کا دکھ پھر نیند لے اڑا ہے وہ پچھلی خزاں کا دکھ مدت سے کھوج میں ہوں کبھی تو پتا چلے مجھ کو کہاں ملا تھا یہ سارے جہاں کا دکھ سالار کھو گیا ہے مری فوج کا کہیں تم کو خبر کہاں ہے مرے کارواں کا دکھ سرحد پہ جس کا بیٹا ابھی کل ہی مر گیا محسوس کر رہا ہوں میں اس ایک ماں کا دکھ اشکوں سے جس کے گاؤں کے سب پیڑ جل گئے صدیاں نگل چکا ہے اس آتش فشاں کا دکھ
ik shaam ki udaasi kaa gham aasmaan kaa dukh
نقش پا ڈھونڈنے نکلا تھا جہاں تک آیا نت نئے نقش بناتا میں یہاں تک آیا گاؤں کو چھوڑ کے آنے کا ارادہ تھا مرا شہر میں ایک رفوگر کی دکاں تک آیا آبلے پھوڑ کے چلتا ہوا آیا لیکن سرخ پھولوں کے تعاقب میں یہاں تک آیا اگلے ہی موڑ پہ وہ عکس ملے گا مجھ کو میں اسی زعم میں قدموں کے نشاں تک آیا
naqsh-e-paa DhunDne niklaa thaa jahaan tak aayaa
کوئی افسانۂ زندان سناتا ہے مجھے اور جینے کی تدابیر بتاتا ہے مجھے ایک ہی دکھ ہے کہ دیوار سے لگ کر کوئی روئے جاتا ہے مجھے گھورتا جاتا ہے مجھے ایک سایہ ہے مرا ڈل کے کنارے بیٹھا اور ہر روز وہ اس پار بلاتا ہے مجھے یہ جو موسم کا چلن عین ترے جیسا ہے یہ تو ہر روز ترے خواب دکھاتا ہے مجھے رنج و آلام کی تعظیم مجھے آتی ہے اس پہ کہنے کا سلیقہ بھی تو آتا ہے مجھے وقت سے قبل وہ آتا ہے ہمیشہ باسطؔ پر بتانے کو بہت دیر بتاتا ہے مجھے
koi afsaana-e-zindaan sunaataa hai mujhe
ہو کے عالم میں بھی اک شور سنائی دے گا جو سماعت کو بہت میٹھا سجھائی دے گا حیف نفرت کے جزیروں میں بھٹکتے رہ کر ایک انسان محبت کی دہائی دے گا ایک دن لوگ محبت سے شناسا ہوں گے اور یہ ساز بہت دور سنائی دے گا ایک دنیا مجھے روتے ہوئے رخصت ہوگی اور اک شخص کہیں بھی نہ دکھائی دے گا گو کہ ہر سمت میں پھیلا ہے اندھیرا باسطؔ کوئی ہوگا جو اندھیرے میں دکھائی دے گا
hu ke 'aalam mein bhi ik shor sunaai degaa
کوئی ویران ہے مرے اندر ایک طوفان ہے مرے اندر میں قدامت پرست شہزادہ شہر سنسان ہے مرے اندر ارض کشمیر سن ترے غم کا اک دبستان ہے مرے اندر الفت مرتضیٰ میں جیتا ہوں یعنی قرآن ہے مرے اندر
koi viraan hai mire andar





