zamaane mein hai us ki khush-nasibi
jo khud ko jabr-e-hasti se bachaa le

Batool Mussarat
Batool Mussarat
Batool Mussarat
Popular Shayari
5 totalvo kaise toD lein rishta kisi se
ho jin ki ziist kaa naa'ra ta'alluq
main kahaan rakkhun phir masarrat ko
ruuh mein gar udaasi bhar jaae
main huun naa-samajh kitni ye dekh lo tum
main samjhi nahin vo jo samjhaa hai tum ne
sune is dil ki koi baat aa kar
koi to de mohabbat ke ujaale
Ghazalغزل
حال دل کا تو نگاہوں سے بیاں ہوتا ہے رقص بسمل پہ تماشے کا گماں ہوتا ہے زندہ رہتی ہوں کسی کرب کے تہہ خانے میں سانس لینا بھی کبھی ایسے گراں ہوتا ہے جس کی فطرت میں وفائیں نہیں ہوتیں شامل پھر اثر اس پہ محبت کا کہاں ہوتا ہے یوں مرے دل میں محبت ہے تمہاری ہمدم سیپ میں جیسے گہر کوئی نہاں ہوتا ہے شدت کرب سے میں جب بھی تڑپ اٹھتی ہوں عزم تخلیق مرا اور جواں ہوتا ہے حسرتیں دل کی سبھی راکھ ہوئی جاتی ہیں جس طرح بجھتے چراغوں کا دھواں ہوتا ہے
haal dil kaa to nigaahon se bayaan hotaa hai
1 views
جلتا دیا ہواؤں کے محضر میں آ گیا منظر میں ایک رنگ تھا پیکر میں آ گیا سورج ابھی تو راہ میں تھا جانے کس طرح دستک دئے بغیر مرے گھر میں آ گیا اپنے پرائے چھوڑ کے سب مجھ کو جا چکے کیسا یہ موڑ میرے مقدر میں آ گیا لڑنے سے پہلے ہی سبھی ہارے ہوئے ہیں لوگ خوف شکست کیسا یہ لشکر میں آ گیا جتنے بھی خواب تھے مرے خوابوں میں رہ گئے منظر یہ کیسا خواب کے منظر میں آ گیا میں نے حنائی پاؤں کو پانی پہ کیا دھرا قوس قزح کا رنگ سمندر میں آ گیا
jaltaa diyaa havaaon ke mahzar mein aa gayaa
بات ایسی بھی کیا ہے صورت میں ڈوبے رہتے ہیں ان کی چاہت میں حال بتلائیں تم کو کیا اپنا بے قراری سی ہے طبیعت میں بات کیجے ٹھہر ٹھہر کے ذرا بات ہوتی نہیں کدورت میں دل کی بستی میں چل کے آؤ کبھی رنگ بکھرے ہیں اس ریاست میں در پہ بیٹھے ہیں تیرے دیوانے اک نگاہ کرم کی حسرت میں بس تمنا ہے یہ مرے دل کی عمر گزرے نبی کی مدحت میں
baat aisi bhi kyaa hai surat mein
سواد کرب میں پھیلی ہے تیرہ شب جاناں اداسیوں کے لیے چاہیے سبب جاناں وہ ایک لڑکی یہاں دیکھتی تھی راہ تری گزر گئی ہے جہاں سے تم آئے اب جاناں ہمیشہ نوحہ سنیں گے جدائیوں کا ہم کبھی سنائیں ہمیں نغمۂ طرب جاناں کہیں خیال تمہارا جو دل میں آتا ہے تو ڈھونڈھتا ہے یہ دل تیری ایک چھب جاناں نوازشوں پہ تمہاری ہے چشم نم حیراں جو آئی یاد مری تم کو بے طلب جاناں
savaad-e-karb mein phaili hai tira-shab jaanaan
زندگی کے ڈھب آئے زیر دام جب آئے جب لٹا دیا گھر بار ہوش میں بھی تب آئے شمس میں وہ ضو پھوٹی تیرے رخ کی چھب آئے عرض کیا کروں قصہ لوگ جاں بہ لب آئے ہو گئے تماشا ہم دیکھنے کو سب آئے جیتے جی نہیں پوچھا آنے والے کب آئے ایسی مطلبی دنیا کون بن طلب آئے
zindagi ke Dhab aae





