"chashm-e-bad-dur vo bhole bhi hain nadan bhi hain zulm bhi mujh pe kabhi soch-samajh kar na hua"

Bekhud Dehlvi
Bekhud Dehlvi
Bekhud Dehlvi
Sherشعر
See all 81 →chashm-e-bad-dur vo bhole bhi hain nadan bhi hain
چشم بد دور وہ بھولے بھی ہیں ناداں بھی ہیں ظلم بھی مجھ پہ کبھی سوچ سمجھ کر نہ ہوا
munh men vaa.iz ke bhi bhar aata hai paani aksar
منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے
ye kah ke mere samne Taala raqib ko
یہ کہہ کے میرے سامنے ٹالا رقیب کو مجھ سے کبھی کی جان نہ پہچان جائیے
vafa ka naam to pichhe liya hai
وفا کا نام تو پیچھے لیا ہے کہا تھا تم نے اس سے پیشتر کیا
baat vo kahiye ki jis baat ke sau pahlu hon
بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے
na dekhna kabhi a.ina bhuul kar dekho
نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا
Popular Sher & Shayari
162 total"munh men vaa.iz ke bhi bhar aata hai paani aksar jab kabhi tazkira-e-jam-e-sharab aata hai"
"ye kah ke mere samne Taala raqib ko mujh se kabhi ki jaan na pahchan ja.iye"
"vafa ka naam to pichhe liya hai kaha tha tum ne is se peshtar kya"
"baat vo kahiye ki jis baat ke sau pahlu hon koi pahlu to rahe baat badalne ke liye"
"na dekhna kabhi a.ina bhuul kar dekho tumhare husn ka paida javab kar dega"
sun ke saari daastaan-e-ranj-o-gham
kah diyaa us ne ki phir ham kyaa karein
zulm se gar zabh bhi kar do mujhe parvaa nahin
lutf se Dartaa huun ye meri qazaa ho jaaegaa
tiri tegh kaa laal kar dungaa munh
jo ye khelne mujh se aaegi rang
tauba bhi kar li thi ye bhi nashsha ki thi ik tarang
aap samjhe the ki 'bekhud' paarsaa ho jaaegaa
kis khushi mein haae kaisaa ranj phailaa kyaa karun
kyaa khabar thi hanste hanste vo khafaa ho jaaegaa
vo kuchh muskuraanaa vo kuchh jheinp jaanaa
javaani adaaein sikhaati hain kyaa kyaa
Ghazalغزل
ab kisi baat kaa taalib dil-e-naashaad nahin
اب کسی بات کا طالب دل ناشاد نہیں آپ کی عین عنایت ہے یہ بیداد نہیں آپ شرما کے نہ فرمائیں ہمیں یاد نہیں غیر کا ذکر ہے یہ آپ کی روداد نہیں دم نکل جائے گا حسرت ہی میں اک دن اپنا سچ کہا تم نے کچھ انسان کی بنیاد نہیں پہلے نالے کو سنا غور سے پھر ہنس کے کہا آپ کی ساری ہی بناوٹ ہے یہ فریاد نہیں بعد استاد کے ہے ختم غزل بیخودؔ پر معجزہ کہیے اسے طبع خدا داد نہیں
baat karne ki shab-e-vasl ijaazat de do
بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو مجھ کو دم بھر کے لئے غیر کی قسمت دے دو تم کو الفت نہیں مجھ سے یہ کہا تھا میں نے ہنس کے فرماتے ہیں تم اپنی محبت دے دو ہم ہی چوکے سحر وصل منانا ہی نہ تھا اب ہے یہ حکم کہ جانے کی اجازت دے دو مفت لیتے بھی نہیں پھیر کے دیتے بھی نہیں یوں سہی خیر کہ دل کی ہمیں قیمت دے دو کم نہیں پیر خرابات نشیں سے بیخودؔ مے کشو تو اسے مے خانے کی خدمت دے دو
har ek baat tiri be-sabaat kitni hai
ہر ایک بات تری بے ثبات کتنی ہے پلٹنا بات کو دم بھر میں بات کتنی ہے ابھی تو شام ہوئی ہے ابھی تو آئے ہو ابھی سے پوچھ رہے ہو کہ رات کتنی ہے وہ سنتے سنتے جو گھبرائے حال دل بولے بیان کتنی ہوئی واردات کتنی ہے ترے شہید کو دولہا بنا ہوا دیکھا رواں جنازے کے پیچھے برات کتنی ہے کسی طرح نہیں کٹتی نہیں گزر چکتی الٰہی سخت یہ قید حیات کتنی ہے ہماری جان ہے قیمت تو دل ہے بیعانہ گراں بہا لب نازک کی بات کتنی ہے جو شب کو کھلتے ہیں غنچے وہ دن کو جھڑتے ہیں بہار باغ جہاں بے ثبات کتنی ہے مہینوں ہو گئے دیکھی نہیں ہے صبح امید کسے خبر یہ مصیبت کی رات کتنی ہے عدو کے سامنے یہ دیکھنا ہے ہم کو بھی کدھر کو ہے نگہ التفات کتنی ہے غزل لکھیں بھی تو کیا خاک ہم لکھیں بیخودؔ زمین دیکھیے یہ واہیات کتنی ہے
bevafaa kahne se kyaa vo bevafaa ho jaaegaa
بے وفا کہنے سے کیا وہ بے وفا ہو جائے گا تیرے ہوتے اس صفت کا دوسرا ہو جائے گا شرط کر لو پھر مجھے برباد ہونا بھی قبول خاک میں مل کر تو حاصل مدعا ہو جائے گا سر نہ ہوگا دوش پر تو کیا نہ ہوگی گفتگو ہچکیوں سے شکر قاتل کا ادا ہو جائے گا سینہ توڑا دل میں چٹکی لی جگر زخمی کیا کیا خبر تھی تیر بھی تیری ادا ہو جائے گا میرے کہنے میں ہے دل جب تک مرے پہلو میں ہے آپ لے لیجے اسے یہ آپ کا ہو جائے گا ساتھ ان کے جان بھی ارمان بھی جائیں گے آج صبح سے پہلے روانہ قافلہ ہو جائے گا میں ملوں تلووں سے آنکھیں وہ کہیں سمجھوں گا میں یاد رکھ پھیکا اگر رنگ حنا ہو جائے گا پھر وہی جھگڑے کا جھگڑا ہے اگر قم کہہ دیا تیغ کا منسوخ سارا فیصلا ہو جائے گا کس خوشی میں ہائے کیسا رنج پھیلا کیا کروں کیا خبر تھی ہنستے ہنستے وہ خفا ہو جائے گا حشر تک کیوں بات جائے کیوں پڑے غیروں کے منہ گھر میں سمجھوتا ہمارا آپ کا ہو جائے گا آنکھ سے ہے وصل کا اقرار دل دگدا میں ہے تم زباں سے اپنی کہہ دوگے تو کیا ہو جائے گا ظلم سے گر ذبح بھی کر دو مجھے پروا نہیں لطف سے ڈرتا ہوں یہ میری قضا ہو جائے گا اس نے چھیڑا تھا مجھے تم جان دوگے کب ہمیں کہہ دیا میں نے بھی جب وعدہ وفا ہو جائے گا یوں سوال وصل پر ٹالا کیا برسوں کوئی صبر کر مضطر نہ ہو تیرا کہا ہو جائے گا لاکھ دنیا میں حسیں ہوں لاکھ حوریں خلد میں مجھ کو جو تو ہے وہ کوئی دوسرا ہو جائے گا توبہ بھی کر لی تھی یہ بھی نشہ کی تھی اک ترنگ آپ سمجھے تھے کہ بیخودؔ پارسا ہو جائے گا
khudaa rakkhe tujhe meri buraai dekhne vaale
خدا رکھے تجھے میری برائی دیکھنے والے وفاداری میں طرز بے وفائی دیکھنے والے سنبھل اب نالۂ دل کی رسائی دیکھنے والے قیامت ڈھائیں گے روز جدائی دیکھنے والے ترے خنجر کو بھی تیری طرح حسرت سے تکتے ہیں تری نازک کمر نازک کلائی دیکھنے والے جھجک کر آئینہ میں عکس سے اپنے وہ کہتے ہیں یہاں بھی آ گئے صورت پرائی دیکھنے والے پلک جھپکی کہ دل غائب بغل خالی نظر آئی تری نظروں کی دیکھیں گے صفائی دیکھنے والے انہیں آنکھوں سے تو نے نیک و بد عالم کا دیکھا ہے ادھر تو دیکھ اے ساری خدائی دیکھنے والے گرے غش کھا کے جب موسیٰ کہا برق تجلی نے قیامت تک نہ دے گا وہ دکھائی دیکھنے والے مری میت پہ بن آئی ہے ان کی سب سے کہتے ہیں وفاداروں کی دیکھیں بے وفائی دیکھنے والے نظر ملتی ہے پیچھے پہلے تنتی ہیں بھنویں ان کی کہاں تک دیکھے جائیں کج ادائی دیکھنے والے مٹا انکار تو حجت یہ نکلی منہ دکھانے میں کہ پہلے جمع کر دیں رونمائی دیکھنے والے کہاں تک روئیں قسمت کے لکھے کو بس الٹ پردہ تجھے دیکھیں گے اب تیری خدائی دیکھنے والے کبھی قدموں میں تھا اب ان کے دل میں ہے جگہ میری مجھے دیکھیں مقدر کی رسائی دیکھنے والے کوئی اتنا نہیں جو آ کے پوچھے ہجر میں بیخودؔ ترا کیا حال ہے رنج جدائی دیکھنے والے
maashuq hamein baat kaa puuraa nahin miltaa
معشوق ہمیں بات کا پورا نہیں ملتا دل جس سے ملائیں کوئی ایسا نہیں ملتا دنیا میں اگر ڈھونڈیئے تو کیا نہیں ملتا سب ملتے ہیں اک چاہنے والا نہیں ملتا عشاق سے یوں آنکھ تمہاری نہیں ملتی اغیار سے دل جیسے ہمارا نہیں ملتا رہتی ہے کسر ایک نہ اک بات کی سب میں ہم کو تو ان اچھوں میں بھی اچھا نہیں ملتا کچھ حال سنے کچھ ہمیں تدبیر بتائے غم خوار تو کیسا کوئی اتنا نہیں ملتا کیا مفت میں تم دل کے خریدار بنے ہو بے خرچ کئے دام یہ سودا نہیں ملتا جب دیکھیے ہم راہ ہے دشمن کا تصور ہم سے تو وہ خلوت میں بھی تنہا نہیں ملتا دل کوئی ملاتا نہیں ٹوٹے ہوئے دل سے دنیا میں ہمیں جوڑ ہمارا نہیں ملتا برباد کیا یاس نے یوں خانۂ دل کو ڈھونڈے سے بھی اب داغ تمنا نہیں ملتا جو بات ہے دنیا سے نرالی ہے نئی ہے انداز کسی میں بھی تمہارا نہیں ملتا آنکھیں کہے دیتی ہیں کہ دل صاف نہیں ہے ملتا ہے وہ اس رنگ سے گویا نہیں ملتا کہتے ہیں جلانے کو ہم اغیار کے منہ پر ایسوں سے تو وہ رشک مسیحا نہیں ملتا ظاہر ہے ملاقات ہے باطن میں جدائی تم ملتے ہو دل ہم سے تمہارا نہیں ملتا افسوس تو یہ ہے کہ تمہیں قدر نہیں ہے عاشق تو زمانے میں بھی ڈھونڈا نہیں ملتا کہنا وہ شرارت سے ترا دل کو چرا کر کیا ڈھونڈتے ہو ہم سے کہو کیا نہیں ملتا بیخودؔ نگہ لطف پہ دے ڈالئے دل کو جو ملتا ہے سرکار سے تھوڑا نہیں ملتا





