SHAWORDS
Danish Aligarhi

Danish Aligarhi

Danish Aligarhi

Danish Aligarhi

poet
8Sher
8Shayari
20Ghazal

Sherشعر

See all 8

Popular Sher & Shayari

16 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

khushi kaa naam sunaa hai magar khushi kyaa hai

خوشی کا نام سنا ہے مگر خوشی کیا ہے ترے بغیر جو گزرے وہ زندگی کیا ہے مجھے بھی کچھ تو سمجھ آئے زندگی کیا ہے خدا کرے تو سمجھ لے کہ دوستی کیا ہے جبیں ہے نقش کف پائے یار پر واعظ اب اس سے بڑھ کے بتا اور بندگی کیا ہے غم و خوشی تو بس احساس کی امانت ہیں جہاں میں ورنہ الم کیا ہے اور خوشی کیا ہے میں آج تک اسے سمجھا نہیں ہوں اے دانشؔ کہ دشمنی کسے کہتے ہیں دشمنی کیا ہے

غزل · Ghazal

dil ki basti ko masarrat se sajaae rakhiye

دل کی بستی کو مسرت سے سجائے رکھیے یار کے غم کو مقدر ہی بنائے رکھیے ذوق‌ دیدار کو کچھ اور بڑھائے رکھیے چاند سے چہرے کو چلمن میں چھپائے رکھیے کل بچھڑ جائیں تو رہ جائیں گی یادیں باقی آج تو سارے حجابات اٹھائے رکھیے یہ وہ دولت ہے جو قسمت سے ملا کرتی ہے پیار کے درد کو سینے سے لگائے رکھیے پھر اندھیرے مری راہوں میں نہ آ جائیں کہیں اپنی الفت سے مرے دل کو جلائے رکھیے چشم دنیا کو کہاں دید کا حاصل ہے شعور روئے روشن کو حجابوں میں چھپائے رکھیے دل دانشؔ نہ ہمیشہ کے لیے رک جائے آپ سینے سے ذرا ہاتھ لگائے رکھیے

غزل · Ghazal

har dard ko maazi ki qasam bhuul gae hain

ہر درد کو ماضی کی قسم بھول گئے ہیں ہم تیری خوشی کے لیے غم بھول گئے ہیں پھر اے ستم ایجاد کوئی تازہ ستم کر اب ہم ترا انداز کرم بھول گئے ہیں جس روز سے ہم آئے ہیں میخانے میں ساقی اس دن سے رہ دیر و حرم بھول گئے ہیں نا واقف آداب وفا آپ ہیں لیکن الزام یہ ہم پر ہے کہ ہم بھول گئے ہیں الزام کسے دیں کہ یہ قسمت کا لکھا تھا دانشؔ جو ہمیں اہل کرم بھول گئے ہیں

غزل · Ghazal

hangaama kis liye hai bapaa tere shahr mein

ہنگامہ کس لیے ہے بپا تیرے شہر میں کیا پھر کوئی غریب لٹا تیرے شہر میں ہر شخص کر رہا ہے جفا تیرے شہر میں جینے کا آ رہا ہے مزا تیرے شہر میں رنگین صبح و شام تھے شب بھی حسین تھی دل کو مگر سکون نہ تھا تیرے شہر میں اس طرح اہل شہر نے مجھ پر ستم کئے رہتا نہیں ہو جیسے خدا تیرے شہر میں اب خود سے پوچھتا ہوں پتا اپنے گاؤں کا ایسا ملا وفا کا صلہ تیرے شہر میں دانشؔ کو تیرے پیار نے کی دشمنی عطا پہلے کوئی رقیب نہ تھا تیرے شہر میں

غزل · Ghazal

vo ik nigaah jo le kar miraa qaraar gai

وہ اک نگاہ جو لے کر مرا قرار گئی قسم خدا کی مری عاقبت سنوار گئی ترے کرم کے ہیں قربان اے غم دوراں مری حیات کو شیشے میں تو اتار گئی ہمارے دم سے ہی رنگینیاں چمن میں تھیں ہمارے واسطے روتی ہوئی بہار گئی میں تجھ کو پا نہ سکا یہ مرا مقدر تھا تری تلاش مسافت مری سنوار گئی ہزار ترک محبت کے بعد بھی دانشؔ اسی کی سمت نظر میری بار بار گئی

غزل · Ghazal

jaise is basti se naaraaz khudaa lagtaa hai

جیسے اس بستی سے ناراض خدا لگتا ہے اپنا ہی گاؤں مجھے آج برا لگتا ہے چاند کی سطح پہ پتھر کے سوا کچھ بھی نہیں دور سے دیکھو تو ہر چہرہ بھلا لگتا ہے چند باتوں سے سمجھ لیتے ہیں ہم انساں کو چند موجوں سے ہی طوفاں کا پتا لگتا ہے دیکھنے والی نگاہوں سے جو دیکھو اس کو چاندنی رات میں سورج کی حیا لگتا ہے ایک ہی شخص کا ہر وقت تصور دانشؔ اس سے کیا رشتہ ہے کیا ناطہ ہے کیا لگتا ہے

Similar Poets