tu dekh lenaa hamaare bachchon ke baal jaldi safed honge
hamaari chhoDi hui udaasi se saat naslein udaas hongi

Danish Naqwi
Danish Naqwi
Danish Naqwi
Popular Shayari
5 totalye jis ki beTi ke sar ki chaadar kai jagah se phaTi hui hai
tum us ke gaanv mein jaa ke dekho to aadhi faslein kapaas hongi
dekho mujhe ab meri jagah se na hilaanaa
phir tum mujhe tartib se rakh kar nahin jaate
aisi tasvir banaa rote hue khush bhi lagun
gham ki tarsil to ho gham kaa tamaasha na bane
jaate hue kamre ki kisi chiiz ko chhu de
main yaad karungaa ki tire haath lage the
Ghazalغزل
یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے کوئی پہچان نہ ہو ٹھیک سے چہرہ نہ بنے ایسی تصویر بنا روتے ہوئے خوش بھی لگوں غم کی ترسیل تو ہو غم کا تماشہ نہ بنے مستحق ہوں تو کسی اور سے تصدیق بھی کر مجھ کو مت دینا اگر میرا دلاسہ نہ بنے جتنا پختہ بھی ہو دل جسم سے باہر رکھنا تاکہ ٹوٹے بھی تو پھر سینے میں ملبہ نہ بنے بس اسی شرط پہ کوئی بھی رہے آنکھوں میں نیند کی سمت کسی خواب کا رستہ نہ بنے جو بھی رشتہ ہو فقط میرا ہو تجھ سے دانشؔ اور تو اور ترا مجھ سے بھی رشتہ نہ بنے
yuun bhi aankhon mein kisi khvaab kaa resha na bane
کسی کو اپنی کسی کو اپنی کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے ہمیں تو لے دے کے ساری دنیا میں صرف تیری پڑی ہوئی ہے ہم اپنے بارے میں سب سوالات اور لوگوں سے پوچھتے ہیں ہمارے ہاتھوں سے زندگی کی کتاب اونچی پڑی ہوئی ہے وہ غیر لوگوں کی غیر دھرتی پہ پاؤں کے نقش کاڑھتا ہے ادھر ہمارے چناب کی ریت اب بھی سونی پڑی ہوئی ہے بہت پریشاں ہوں اتنی عجلت میں ٹھیک چہرہ نہیں بنے گا میں خود کو ترتیب دے رہا ہوں اور اس کو جلدی پڑی ہوئی ہے یہ اس کی مرضی ہے جس کو دیکھے مگر مساوات سے تو دیکھے کسی کی رنگت دہک رہی ہے کسی کی پھیکی پڑی ہوئی ہے
kisi ko apni kisi ko apni kisi ko apni paDi hui hai
مصیبتیں سر برہنہ ہوں گی عقیدتیں بے لباس ہوں گی تھکے ہوؤں کو کہاں پتہ تھا کہ صبحیں یوں بد حواس ہوں گی تو دیکھ لینا ہمارے بچوں کے بال جلدی سفید ہوں گے ہماری چھوڑی ہوئی اداسی سے سات نسلیں اداس ہوں گی کہیں ملیں تم کو بھوری رنگت کی گہری آنکھیں مجھے بتانا میں جانتا ہوں کہ ایسی آنکھیں بہت اذیت شناس ہوں گی میں سردیوں کی ٹھٹھرتی شاموں کے سرد لمحوں میں سوچتا ہوں وہ سرخ ہاتھوں کی گرم پوریں نہ جانے اب کس کو راس ہوں گی یہ جس کی بیٹی کے سر کی چادر کئی جگہ سے پھٹی ہوئی ہے تم اس کے گاؤں میں جا کے دیکھو تو آدھی فصلیں کپاس ہوں گی
musibatein sar-barahna hongi aqidatein be-libaas hongi
وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کو گلے لگا تو پتہ بھی نہیں چلا مجھ کو نہ جانے میں تیرے پہلو میں کیسے بیٹھ گیا مری جگہ ہی نہیں ہے ابھی اٹھا مجھ کو ترے خیال سے بڑھ کر ہے خالی پن میرا کہاں کہاں سے بھرے گا ترا خلا مجھ کو وہ میرے سامنے توہین کر گیا میری اور اس پہ یہ کہ برا بھی نہیں لگا مجھ کو میں پہلی بار ہوں زیر مطالعہ دانشؔ ابھی کہیں پہ نشاں تک نہیں لگا مجھ کو
vo kitni der khaDaa sochtaa rahaa mujh ko
نظر تو آیا مگر جا بجا نہیں آیا زمیں پہ آدمی جیسا خدا نہیں آیا بہاؤ لایا ہے اس کو کنارے کی جانب وہ شخص میری طرف تیرتا نہیں آیا اک اور بار بچھڑ کر نہ دیکھ لیں دونوں یہ زخم اب بھی ہمیں ایک سا نہیں آیا ہزار کوششیں کر لیں زمانے بھر نے مگر مری نظر سے اسے دیکھنا نہیں آیا ہمارا حق ہی نہیں ہے کہ اب دہائی دیں گئے ہوؤں کو اگر روکنا نہیں آیا برابری کا تصور نہیں ہماری طرف ہمارے جیسا کوئی دوسرا نہیں آیا
nazar to aaya magar jaa-ba-jaa nahin aaya
کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی ضرور تجھ کو کسی کی کمی ہوا کرے گی رہے گی ایسے ہی رونق ترے محلے کی گزرنے والے نہ ہوں گے گلی ہوا کرے گی جو ہم نہ ہوں گے تو پھر کون تم سے مانگے گا تمہیں ہماری ضرورت سکھی ہوا کرے گی بچھڑ کے مجھ سے میری جان خوش رہا کرنا تو خوش رہا تو مجھے بھی خوشی ہوا کرے گی ہمارا خاص تعلق تو خیر تھا ہی نہیں اور اب تو بات بھی بس سرسری ہوا کرے گی تم اور میں تو یقیناً وہاں جنم لیں گے کہیں خلا میں اگر زندگی ہوا کرے گی
kabhi kabhi tu na hogi kabhi huaa karegi





