"tum jalana mujhe chaho to jala do lekin nakhl-e-taza jo jalega to dhuan bhi dega"
Ehtisham Akhtar
Ehtisham Akhtar
Ehtisham Akhtar
Sherشعر
tum jalana mujhe chaho to jala do lekin
تم جلانا مجھے چاہو تو جلا دو لیکن نخل تازہ جو جلے گا تو دھواں بھی دے گا
shahr ke andhere ko ik charagh kaafi hai
شہر کے اندھیرے کو اک چراغ کافی ہے سو چراغ جلتے ہیں اک چراغ جلنے سے
mire aziiz hi mujh ko samajh na paa.e kabhi
مرے عزیز ہی مجھ کو سمجھ نہ پائے کبھی میں اپنا حال کسی اجنبی سے کیا کہتا
soch un ki kaisi hai kaise hain ye divane
سوچ ان کی کیسی ہے کیسے ہیں یہ دیوانے اک مکاں کی خاطر جو سو مکاں جلاتے ہیں
Popular Sher & Shayari
8 total"shahr ke andhere ko ik charagh kaafi hai sau charagh jalte hain ik charagh jalne se"
"mire aziiz hi mujh ko samajh na paa.e kabhi main apna haal kisi ajnabi se kya kahta"
"soch un ki kaisi hai kaise hain ye divane ik makan ki khatir jo sau makan jalate hain"
shahr ke andhere ko ik charaagh kaafi hai
sau charaagh jalte hain ik charaagh jalne se
mire aziiz hi mujh ko samajh na paae kabhi
main apnaa haal kisi ajnabi se kyaa kahtaa
soch un ki kaisi hai kaise hain ye divaane
ik makaan ki khaatir jo sau makaan jalaate hain
tum jalaanaa mujhe chaaho to jalaa do lekin
nakhl-e-taaza jo jalegaa to dhuaan bhi degaa
Ghazalغزل
go us ki shakl ab hai kuhan-saal ki tarah
گو اس کی شکل اب ہے کہن سال کی طرح بھولا نہیں میں گاؤں کی چوپال کی طرح صحرائے حرص و آز میں کوئی تو آئے گا پھیلاؤں اپنے آپ کو میں جال کی طرح اندر کا رس نچوڑا تو شاداب تھا بہت لگتا تھا یوں تو سوکھی ہوئی ڈال کی طرح مجھ سے کہاں بچے گا کہ ہر رگ میں ہوں نہاں پھیلا ہوں تیرے جسم میں میں جال کی طرح کب سے ہے انتظار کہ آئے کوئی ادھر میں دشت میں ہوں جادۂ پامال کی طرح
Thahre paani mein nihaan ek hasin khvaab bhi hai
ٹھہرے پانی میں نہاں ایک حسیں خواب بھی ہے آس کی جھیل میں عکس رخ مہتاب بھی ہے دشت تنہائی کے تپتے ہوئے ویرانے میں تیری یادوں کا ہے اک پیڑ جو شاداب بھی ہے پار کرنا بڑا مشکل ہے کہ یہ بحر ہوس کہیں گہرا ہے بہت اور کہیں پایاب بھی ہے اس کی تصویر میں آنکھوں میں بسا لوں کہ یہ شے لاکھ ارزاں سہی میرے لیے نایاب بھی ہے یوں تو لگتا ہے سمندر بڑا خاموش مگر اس کے سینے میں نہاں کرب کا سیلاب بھی ہے یہ تمناؤں کی سوکھی ہوئی ندی اخترؔ اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے اک خواب بھی ہے
khabar ye kahaan thi ki yuun haar hogi
خبر یہ کہاں تھی کہ یوں ہار ہوگی کہ دست حنائی میں تلوار ہوگی گزر جائیں گے وہ تو آساں سمجھ کر ہمارے لیے راہ دشوار ہوگی جسے تم سمجھتے ہو انمول کل تک محبت کی وہ جنس بے کار ہوگی سنا ہے کہ آئے گا وہ پاس میرے مگر درمیاں ایک دیوار ہوگی ملن کے لیے تم تڑپتے ہو جن کے کبھی ان کی فرقت بھی درکار ہوگی کنارے پہ آ کر سکوں مل گیا اب بہت فکر تھی ناؤ کب پار ہوگی وہ گٹھری ہوس کی لیے جا رہا ہے مسافر پہ جنگل میں یلغار ہوگی بہت خشک ہے یہ زمین محبت جو برسیں گی آنکھیں تو گلزار ہوگی
dil-e-barbaad ko chhoTaa saa makaan bhi degaa
دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا جب نیا زخم بھرے گا تو نشاں بھی دے گا پہلے گزروں گا میں امید و یقیں کی رہ سے پھر ترا پیار مجھے وہم و گماں بھی دے گا پیکر رنگ جو پل بھر میں بکھر جائے گا جاگتی آنکھوں کو خوابوں کا جہاں بھی دے گا تم جلانا مجھے چاہو تو جلا دو لیکن نخل تازہ جو جلے گا تو دھواں بھی دے گا وقت دیتا ہے جنہیں آج کھلونے اخترؔ انہیں اطفال کو کل تیر و سناں بھی دے گا
vo jo kuein mein Duubaa hogaa
وہ جو کوئیں میں ڈوبا ہوگا شاید کوئی پیاسا ہوگا من کے نگر میں آگ لگی ہے غم کا دیپک بھڑکا ہوگا ساری چیزیں بکھری پڑی ہیں گھر میں کوئی آیا ہوگا پیار کا جنگل سبز ہوا ہے غم کا ساون برسا ہوگا پھولوں پر شبنم کے قطرے کوئی اخترؔ رویا ہوگا
kabhi zamin pe kabhi niile aasmaan mein huun
کبھی زمیں پہ کبھی نیلے آسمان میں ہوں ہوا کی طرح میں ہر پل نئے مکان میں ہوں ترا وقار تو میرے ہی دم سے قائم ہے میں مثل آب گہر تیری آن بان میں ہوں لبوں سے اس کے نکل کر ہوا ہوں آوارہ میں ایک لفظ ہوں ہر دم نئی اڑان میں ہوں مجھے تو گہرے سمندر سے جا کے ملنا ہے ابھی میں رک نہیں سکتا ابھی ڈھلان میں ہوں سمجھ تو مجھ کو ذرا میری قدر کر ناداں میں آسمانی صحیفہ تری زبان میں ہوں مرے حصار میں تھی ساری کائنات کبھی ستم ہے قید میں خود اپنے ہی مکان میں ہوں اگر ہے شوق تو مجھ کو خرید لے آکر کہ میں تو شہر ہوس کی ہر اک دکان میں ہوں





