SHAWORDS
E

Ehtisham Akhtar

Ehtisham Akhtar

Ehtisham Akhtar

poet
4Sher
4Shayari
20Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

8 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

go us ki shakl ab hai kuhan-saal ki tarah

گو اس کی شکل اب ہے کہن سال کی طرح بھولا نہیں میں گاؤں کی چوپال کی طرح صحرائے حرص و آز میں کوئی تو آئے گا پھیلاؤں اپنے آپ کو میں جال کی طرح اندر کا رس نچوڑا تو شاداب تھا بہت لگتا تھا یوں تو سوکھی ہوئی ڈال کی طرح مجھ سے کہاں بچے گا کہ ہر رگ میں ہوں نہاں پھیلا ہوں تیرے جسم میں میں جال کی طرح کب سے ہے انتظار کہ آئے کوئی ادھر میں دشت میں ہوں جادۂ پامال کی طرح

غزل · Ghazal

Thahre paani mein nihaan ek hasin khvaab bhi hai

ٹھہرے پانی میں نہاں ایک حسیں خواب بھی ہے آس کی جھیل میں عکس رخ مہتاب بھی ہے دشت تنہائی کے تپتے ہوئے ویرانے میں تیری یادوں کا ہے اک پیڑ جو شاداب بھی ہے پار کرنا بڑا مشکل ہے کہ یہ بحر‌‌ ہوس کہیں گہرا ہے بہت اور کہیں پایاب بھی ہے اس کی تصویر میں آنکھوں میں بسا لوں کہ یہ شے لاکھ ارزاں سہی میرے لیے نایاب بھی ہے یوں تو لگتا ہے سمندر بڑا خاموش مگر اس کے سینے میں نہاں کرب کا سیلاب بھی ہے یہ تمناؤں کی سوکھی ہوئی ندی اخترؔ اپنی آنکھوں میں سجائے ہوئے اک خواب بھی ہے

غزل · Ghazal

khabar ye kahaan thi ki yuun haar hogi

خبر یہ کہاں تھی کہ یوں ہار ہوگی کہ دست حنائی میں تلوار ہوگی گزر جائیں گے وہ تو آساں سمجھ کر ہمارے لیے راہ دشوار ہوگی جسے تم سمجھتے ہو انمول کل تک محبت کی وہ جنس بے کار ہوگی سنا ہے کہ آئے گا وہ پاس میرے مگر درمیاں ایک دیوار ہوگی ملن کے لیے تم تڑپتے ہو جن کے کبھی ان کی فرقت بھی درکار ہوگی کنارے پہ آ کر سکوں مل گیا اب بہت فکر تھی ناؤ کب پار ہوگی وہ گٹھری ہوس کی لیے جا رہا ہے مسافر پہ جنگل میں یلغار ہوگی بہت خشک ہے یہ زمین محبت جو برسیں گی آنکھیں تو گلزار ہوگی

غزل · Ghazal

dil-e-barbaad ko chhoTaa saa makaan bhi degaa

دل برباد کو چھوٹا سا مکاں بھی دے گا جب نیا زخم بھرے گا تو نشاں بھی دے گا پہلے گزروں گا میں امید و یقیں کی رہ سے پھر ترا پیار مجھے وہم و گماں بھی دے گا پیکر رنگ جو پل بھر میں بکھر جائے گا جاگتی آنکھوں کو خوابوں کا جہاں بھی دے گا تم جلانا مجھے چاہو تو جلا دو لیکن نخل تازہ جو جلے گا تو دھواں بھی دے گا وقت دیتا ہے جنہیں آج کھلونے اخترؔ انہیں اطفال کو کل تیر و سناں بھی دے گا

غزل · Ghazal

vo jo kuein mein Duubaa hogaa

وہ جو کوئیں میں ڈوبا ہوگا شاید کوئی پیاسا ہوگا من کے نگر میں آگ لگی ہے غم کا دیپک بھڑکا ہوگا ساری چیزیں بکھری پڑی ہیں گھر میں کوئی آیا ہوگا پیار کا جنگل سبز ہوا ہے غم کا ساون برسا ہوگا پھولوں پر شبنم کے قطرے کوئی اخترؔ رویا ہوگا

غزل · Ghazal

kabhi zamin pe kabhi niile aasmaan mein huun

کبھی زمیں پہ کبھی نیلے آسمان میں ہوں ہوا کی طرح میں ہر پل نئے مکان میں ہوں ترا وقار تو میرے ہی دم سے قائم ہے میں مثل آب گہر تیری آن بان میں ہوں لبوں سے اس کے نکل کر ہوا ہوں آوارہ میں ایک لفظ ہوں ہر دم نئی اڑان میں ہوں مجھے تو گہرے سمندر سے جا کے ملنا ہے ابھی میں رک نہیں سکتا ابھی ڈھلان میں ہوں سمجھ تو مجھ کو ذرا میری قدر کر ناداں میں آسمانی صحیفہ تری زبان میں ہوں مرے حصار میں تھی ساری کائنات کبھی ستم ہے قید میں خود اپنے ہی مکان میں ہوں اگر ہے شوق تو مجھ کو خرید لے آکر کہ میں تو شہر ہوس کی ہر اک دکان میں ہوں

Similar Poets