paayaa na kuchh khalaa ke sivaa aks-e-hairati
guzraa thaa aar-paar hazaar aaine ke saath

Ejaz Gul
Ejaz Gul
Ejaz Gul
Popular Shayari
25 totalhar mulaaqaat kaa anjaam judaai thaa agar
phir ye hangaama mulaaqaat se pahle kyaa thaa
natija ek saa niklaa dimaagh aur dil kaa
ki donon haar gae imtihaan mein duniyaa ke
main umr ko to mujhe umr khinchti hai ulaT
tazaad samt kaa hai asp aur savaar ke biich
qismat ki kharaabi hai ki jaataa huun ghalat samt
paDtaa hai bayaabaan bayaabaan se aage
dhuup javaani kaa yaaraana apni jagah
thak jaataa hai jism to saaya maangtaa hai
ajiib shakhs thaa main bhi bhulaa nahin paayaa
kiyaa na us ne bhi inkaar yaad aane se
ho nahin paayaa hai samjhauta kabhi donon ke biich
jhuuT andar se hai sach baahar se uktaayaa huaa
koi sabab to hai aisaa ki ek umr se hain
zamaana mujh se khafaa aur main zamaane se
dar khol ke dekhun zaraa idraak se baahar
ye shor saa kaisaa hai miri khaak se baahar
be-sabab jamaa to kartaa nahin tiir o tarkash
kuchh hadaf hogaa zamaane ki sitamgaari kaa
atvaar us ke dekh ke aataa nahin yaqin
insaan sunaa gayaa hai ki aafaaq mein rahaa
Ghazalغزل
استادہ ہے جب سامنے دیوار کہوں کیا حاصل بھی نہیں روزن درکار کہوں کیا لگتا تو ہے کچھ دید کو نادید کے پیچھے کھلتا نہیں منظر کوئی اس پار کہوں کیا ہوں تنگ ذرا جیب سے اے حسرت اشیا شامل تو ہے فہرست میں بازار کہوں کیا جس بات کے انکار کا حد درجہ گماں ہے وہ بات یقیں کے لئے سو بار کہوں کیا میں ان کے جوابات سے اور اہل زمانہ ہیں میرے سوالات سے بیزار کہوں کیا جس بات پہ تھی بحث ہوئی بحث سے خارج اب رہ گئی آپس میں ہے تکرار کہوں کیا ہمسائے کی ہمسائے سے پہچان نہیں ہے پیوست ہے دیوار میں دیوار کہوں کیا غافل نہیں ایسا بھی میں اب اپنی رسد سے اس دل میں طلب کا ہے جو انبار کہوں کیا گل زار سا کھل اٹھتا ہے خوشبوئے سخن سے جادو ہے وہ اس کا دم گفتار کہوں کیا ہے رنگ بدن کا لغت رنگ میں ناپید لا ثانی ہے قامت میں قد یار کہوں کیا
istaada hai jab saamne divaar kahun kyaa
تھم گئی وقت کی رفتار ترے کوچے میں ایسے ثابت ہوا سیار ترے کوچے میں منظر بام سر دید نہیں کھلتا ہے کچھ ہے نا دیدہ کا اسرار ترے کوچے میں ہر طلب گار کو ہے حاصل گفتار سکوت نہ ہے انکار نہ اقرار ترے کوچے میں آئینہ شام کا روشن رخ مہتاب سے کر عکس چمکے تو ہو دیدار ترے کوچے میں وصلت کار بہم ہو کہ ہیں جمع دن رات پیشۂ ہجر کے بے کار ترے کوچے میں نفع کے کھیل میں سمجھا گیا تھا طاق جسے وہ خسارے میں ہے ہشیار ترے کوچے میں آخر عمر نے کی رونق بازار تمام نہ دکاں ہے نہ خریدار ترے کوچے میں ایک مدت سے ہے ترتیب میں بے ترتیبی نہ درستی کے ہیں آثار ترے کوچے میں
tham gai vaqt ki raftaar tire kuche mein
اسی جنت جہنم میں مروں گا گئے موسم کو آوازیں نہ دوں گا نئے جسموں سے مقتل جاگتے ہیں نئے لوگوں کے رستے پر چلوں گا مری آنکھیں سلامت ہیں تو پھر میں پرائے خواب لے کر کیا کروں گا لہو کی سرخیاں میرے علم ہیں خزاں کے زرد لشکر سے لڑوں گا کسی خطے میں قتل روشنی ہو میں اپنے شہر پر نوحہ کہوں گا اور اس پر جو ستم ٹوٹے گا اس کو تمہارے نام لکھوں گا سہوں گا
usi jannat jahannam mein marungaa
پھیلا عجب غبار ہے آئینہ گاہ میں مشکل ہے خود کو ڈھونڈھنا عکس تباہ میں جل بجھ چکا ہے خواہش ناکام سے وجود پرچھائیں پھر رہی ہے مکان سیاہ میں میں وہ اجل نصیب کہ قاتل ہوں اپنا آپ ہوتا ہوں روز قتل کسی قتل گاہ میں رکھا گیا ہوں عزت و توقیر کا اسیر باندھا گیا ہے سر کو غرور کلاہ میں ہلکان میں نہیں تری خاطر سر ہجوم سب مر رہے ہیں حسرت یک دو نگاہ میں
phailaa ajab ghubaar hai aaina-gaah mein
پیچاک عمر اپنے سنوار آئنے کے ساتھ باقی کے چار دن بھی گزار آئنے کے ساتھ حاسد بہت ہے پل میں ہویدا کرے خزاں اتنا نہ لگ کے بیٹھ بہار آئنے کے ساتھ پتھرا گئے ہیں لوگ تجلی سے حسن کی تھوڑا سا ڈال رخ پہ غبار آئنے کے ساتھ کرتا ہے عکس زیر و زبر نامراد وقت جب گھومتا ہے الٹے مدار آئنے کے ساتھ پایا نہ کچھ خلا کے سوا عکس حیرتی گزرا تھا آر پار ہزار آئنے کے ساتھ معدوم ہو رہے ہیں خد و خال کس سبب گفت و شنید کر مرے یار آئنے کے ساتھ ویران سا کھنڈر ہے مگر سیر کے لیے لگتی ہے اک طویل قطار آئنے کے ساتھ معکوس و عکس کیسے ہیں پیوست دیکھ تو آئینہ کر رہا ہے سنگھار آئنے کے ساتھ
pechaak-e-umr apne sanvaar aaine ke saath
کبھی قطار سے باہر کبھی قطار کے بیچ میں ہجر زاد ہوا خرچ انتظار کے بیچ بنا ہوا ہے تعلق سا استواری کا مرے طواف سے اس محور و مدار کے بیچ کہ آتا جاتا رہے عکس حیرتی اس میں بچھا دیا گیا آئینہ آر پار کے بیچ ہوا کے کھیل میں شرکت کے واسطے مجھ کو خزاں نے شاخ سے پھینکا ہے رہ گزار کے بیچ یہ میں ہوں تو ہے ہیولیٰ ہے ہر مسافر کا جو مٹ رہا ہے تھکن سے ادھر غبار کے بیچ کوئی لکیر سی پانی کی جھلملاتی ہے کبھی کبھی مرے متروک آبشار کے بیچ میں عمر کو تو مجھے عمر کھینچتی ہے الٹ تضاد سمت کا ہے اسپ اور سوار کے بیچ
kabhi qataar se baahar kabhi qataar ke biich





