sahar hote hi koi ho gayaa rukhsat gale mil kar
fasaane raat ke kahti rahi TuuTi hui chuDi
Ejaz Obaid
Ejaz Obaid
Ejaz Obaid
Popular Shayari
3 totalhatheliyon mein lakiron kaa jaal thaa kitnaa
mire nasib mein meraa zavaal thaa kitnaa
muqayyad ho na jaanaa zaat ke gumbad mein yaaro
kisi rauzan kisi darvaaza ko vaa chhoD denaa
Ghazalغزل
ہنسنے میں رونے کی عادت کبھی ایسی تو نہ تھی تیری شوخی غم فرقت کبھی ایسی تو نہ تھی اشک آ جائیں تو پلکوں پہ بٹھاؤں گا انہیں قطرۂ خوں تری عزت کبھی ایسی تو نہ تھی کشت غم اور بھی لہرانے لگی ہنسنے لگی چشم نم تیری شرارت کبھی ایسی تو نہ تھی کتنے غم بھول گیا شکریہ تیرا غم یار یوں مجھے تیری ضرورت کبھی ایسی تو نہ تھی وہ مجسم بھی جو آ جائے تو دیکھوں نہ اسے میری اس بت کی عبادت کبھی ایسی تو نہ تھی دیر تک بیٹھے پہ کچھ تو نے نہ میں نے ہی کہا جیسی تجھ سے ہے رفاقت کبھی ایسی تو نہ تھی ایک اک شعر سے ٹپکے ہیں لہو کے قطرے میری دشمن یہ طبیعت کبھی ایسی تو نہ تھی
hansne mein rone ki aadat kabhi aisi to na thi
کس سے ملنے جاؤ اب کس سے ملاقاتیں کرو تم اکیلے ہو دل تنہا سے ہی باتیں کرو پھر یوں ہی مل بیٹھیں ہم اور دکھ بھری باتیں کریں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا مانگو مناجاتیں کرو سب پرندے اپنے اپنے جنگلوں میں کھو گئے اب تو ہلتی ڈالیوں سے بیٹھ کر باتیں کرو اتفاقاً ہم تمہارے سائے سے گزریں کبھی بادلو تم پیار کے لمحوں کی برساتیں کرو اب تو جیسے اس عمارت کو بھی چپ سی لگ گئی کھڑکیو دروازو چہکو گاؤ کچھ باتیں کرو
kis se milne jaao ab kis se mulaaqaatein karo
نئے سفر میں جو پچھلے سفر کے ساتھی تھے پھر آئے یاد کہ اس رہ گزر کے ساتھی تھے کہوں بھی کیا مجھے پل بھر میں جو بکھیر گئے ہوا کے جھونکے مری عمر بھر کے ساتھی تھے ستارے ٹوٹ گئے اوس بھی بکھر سی گئی یہی تھے جو مری شام و سحر کے ساتھی تھے شفق کے ساتھ بہت دیر تک دکھائی دیئے وہ سارے لوگ جو بس رات بھر کے ساتھی تھے یہ کیسی ہجر کی شب وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے جو چاند تارے مری چشم تر کے ساتھی تھے
nae safar mein jo pichhle safar ke saathi the
تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنی اب آنسوؤں نے بھی بخشیں عنایتیں اپنی کہ برگ ہائے خزاں دیدہ جوں اڑائے ہوئے کشاں کشاں لیے پھرتی ہیں وحشتیں اپنی سبھی کو شک ہے کہ خود ہم میں بے وفائی ہے کہاں کہاں نہ ہوئی ہیں شکایتیں اپنی چلے جہاں سے تھے اب آؤ لوٹ جائیں وہیں نکالیں راہوں نے ہم سے عداوتیں اپنی کچھ اور کر دے گی بوجھل فضا کو خاموشی چلو کہ شور مچائیں شرارتیں اپنی ہمارا جو بھی تعلق تھا اس کے دم سے تھا لو آج ختم ہوئیں سب رقابتیں اپنی
thiin ik sukut se zaahir mohabbatein apni
دوسروں کی آنکھ لے کر بھی پشیمانی ہوئی اب بھی یہ دنیا ہمیں لگتی ہے پہچانی ہوئی اشک کی بے رنگ کھیتی مدتوں میں لہلہائی پہلے کتنا قحط تھا اب کچھ فراوانی ہوئی خود کو ہم پہچان پائے یہ بہت اچھا ہوا جسم کے ہیجان میں روحوں کی عریانی ہوئی میں تو اک خوشبو کا جھونکا تیرے دامن کا ہی تھا بوئے گل سے آ ملا کیوں تجھ کو حیرانی ہوئی اس کا بازار ہوس میں قدرداں ہی کون تھا جنس دل کی پھر یہاں کیوں اتنی ارزانی ہوئی
dusron ki aankh le kar bhi pashemaani hui
جو جا چکے ہیں غالباً اتریں کبھی زینہ ترا اے کہکشاں اے کہکشاں روشن رہے رستا ترا خوں نابۂ دل کی کشید آخر کو ترے دم سے ہے کہنے کو میرا مے کدہ لیکن ہے مے خانہ ترا پل بھر میں بادل چھا گئے اور خوب برساتیں ہوئیں کل چودھویں کی رات میں کچھ یوں خیال آیا ترا اے زندگی اے زندگی کچھ روشنی کچھ روشنی چلا رہا تھا شہر میں مدت سے دیوانہ ترا اب گایکوں میں نام ہے ورنہ جو اپنے گیت تھے سارے دلوں کے زخم تھے دراصل احساں تھا ترا غزلیں مری تیرے لیے یادیں تری میرے لیے یہ عشق ہے پونجی مری یہ شعر سرمایہ ترا
jo jaa chuke hain ghaaliban utrein kabhi ziina tiraa





