"ankhon ke khvab dil ki javani bhi le gaya vo apne saath meri kahani bhi le gaya"

Faza Ibn E Faizi
Faza Ibn e Faizi
Faza Ibn e Faizi
Sherشعر
See all 33 →ankhon ke khvab dil ki javani bhi le gaya
آنکھوں کے خواب دل کی جوانی بھی لے گیا وہ اپنے ساتھ میری کہانی بھی لے گیا
kisi lamhe to khud se la-ta.alluq bhi raho logo
کسی لمحے تو خود سے لا تعلق بھی رہو لوگو مسائل کم نہیں پھر زندگی بھر سوچتے رہنا
log mujh ko mire ahang se pahchan ga.e
لوگ مجھ کو مرے آہنگ سے پہچان گئے کون بدنام رہا شہر سخن میں ایسا
ye tamasha didani Thahra magar dekhega kaun
یہ تماشا دیدنی ٹھہرا مگر دیکھے گا کون ہو گئے ہم راکھ تو دست دعا روشن ہوا
ham hasin ghazlon se peT bhar nahin sakte
ہم حسین غزلوں سے پیٹ بھر نہیں سکتے دولت سخن لے کر بے فراغ ہیں یارو
jala hai shahr to kya kuchh na kuchh to hai mahfuz
جلا ہے شہر تو کیا کچھ نہ کچھ تو ہے محفوظ کہیں غبار کہیں روشنی سلامت ہے
Popular Sher & Shayari
66 total"kisi lamhe to khud se la-ta.alluq bhi raho logo masa.il kam nahin phir zindagi bhar sochte rahna"
"log mujh ko mire ahang se pahchan ga.e kaun badnam raha shahr-e-sukhan men aisa"
"ye tamasha didani Thahra magar dekhega kaun ho ga.e ham raakh to dast-e-dua raushan hua"
"ham hasin ghazlon se peT bhar nahin sakte daulat-e-sukhan le kar be-faragh hain yaaro"
"jala hai shahr to kya kuchh na kuchh to hai mahfuz kahin ghubar kahin raushni salamat hai"
vo mel-jol husn o basirat mein ab kahaan
jo silsila thaa phuul kaa patthar se kaT gayaa
log mujh ko mire aahang se pahchaan gae
kaun badnaam rahaa shahr-e-sukhan mein aisaa
aankhon ke khvaab dil ki javaani bhi le gayaa
vo apne saath meri kahaani bhi le gayaa
ghazal ke parde mein be-parda khvaahishein likhnaa
na aayaa ham ko barahana guzaarishein likhnaa
zindagi khud ko na is ruup mein pahchaan saki
aadmi lipTaa hai khvaabon ke kafan mein aisaa
kis tarah umr ko jaate dekhun
vaqt ko aankhon se ojhal kar de
Ghazalغزل
zamin chikh rahi hai ki aasmaan giraa
زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرا یہ کیسا بوجھ ہمارے بدن پہ آن گرا بہت سنبھال کے رکھ بے ثبات لمحوں کو ذرا جو سنکی ہوا ریت کا مکان گرا اس آئینے ہی میں لوگوں نے خود کو پہچانا بھلا ہوا کہ میں چہروں کے درمیان گرا رفیق سمت سفر ہوگی جو ہوا ہوگی یہ سوچ کر نہ سفینے کا بادبان گرا میں اپنے عہد کی یہ تازگی کہاں لے جاؤں اک ایک لفظ قلم سے لہولہان گرا قریب و دور کوئی شعلۂ نوا بھی نہیں یہ کن اندھیروں میں ہاتھوں سے شمع دان گرا فضاؔ کو توڑ تو پھینکا ہواؤں نے لیکن یہ پھول اپنی ہی شاخوں کے درمیان گرا
saraab-e-jism ko sahraa-e-jaan mein rakh denaa
سراب جسم کو صحرائے جاں میں رکھ دینا ذرا سی دھوپ بھی اس سائباں میں رکھ دینا تجھے ہوس ہو جو مجھ کو ہدف بنانے کی مجھے بھی تیر کی صورت کماں میں رکھ دینا شکست کھائے ہوئے حوصلوں کا لشکر ہوں اٹھا کے مجھ کو صف دشمناں میں رکھ دینا جدید نسلوں کی خاطر یہ ورثہ کافی ہے مرے یقیں کو حصار گماں میں رکھ دینا یہ موج تاکہ سفینے کو گرم رو رکھے کچھ آگ خیمۂ آب رواں میں رکھ دینا بہت طویل ہے کالے سمندروں کا سفر مجھے ہوا کی جگہ بادباں میں رکھ دینا میں اپنے ذمے کسی کا حساب کیوں رکھوں جو نفع ہے اسے جیب زیاں میں رکھ دینا
chand saansein hain miraa rakht-e-safar hi kitnaa
چند سانسیں ہیں مرا رخت سفر ہی کتنا چاہئے زندگی کرنے کو ہنر ہی کتنا چلو اچھا ہی ہوا مفت لٹا دی یہ جنس ہم کو ملتا صلۂ حسن نظر ہی کتنا کیا پگھلتا جو رگ و پے میں تھا یخ بستہ لہو وقت کے جام میں تھا شعلۂ تر ہی کتنا کس خطا پر یہ اٹھانا پڑی راتوں کی صلیب ہم نے دیکھا تھا ابھی خواب سحر ہی کتنا ہم بھی کچھ دیر کو چمکے تھے کہ بس راکھ ہوئے سچ تو یہ ہے کہ رم و رقص شرر ہی کتنا طرز احساس میں ندرت تھی ادھر ہی کتنی فکر و جذبے میں توازن ہے ادھر ہی کتنا دے دیئے خسرو و شیریں نے اسے موڑ کئی ورنہ یوں فاصلۂ تیشہ و سر ہی کتنا تیرا عرفان تو کیا خود کو نہ پہچان سکا تھا مرا دائرہ علم و خبر ہی کتنا یک قدم بیش نہیں شب کی مسافت لیکن ایک ٹوٹے ہوئے تارے کا سفر ہی کتنا اے فضاؔ دامن الفاظ ہے اب بھی خالی تھا یہاں شاخ معانی پہ ثمر ہی کتنا
udaas dekh ke vajh-e-malaal puchhegaa
اداس دیکھ کے وجہ ملال پوچھے گا وہ مہرباں نہیں ایسا کہ حال پوچھے گا جواب دے نہ سکو گے پلٹ کے ماضی کو اک ایک لمحہ وہ چبھتے سوال پوچھے گا دلوں کے زخم دہن میں زباں نہیں رکھتے تو کس سے ذائقۂ اندمال پوچھے گا کبھی تو لا کے ملا مجھ سے میرے قاتل کو جو سر ہے دوش پہ تیرے وبال پوچھے گا یہ کیا خبر تھی کہ سینے کے داغ لو دیں گے کوئی جو محنت فن کا مآل پوچھے گا تو حرف عشق و بصیرت ہے لب نہ سی اپنے زمانہ تجھ سے بھی تیرا خیال پوچھے گا مجھے تراش کے رکھ لو کہ آنے والا وقت خزف دکھا کے گہر کی مثال پوچھے گا بنا کے پھول کی خوشبو پھرائے گی صدیوں ہوا سے کون رہ اعتدال پوچھے گا یہ ایک پل جو ہے مجہول شخص کی صورت مزاج آگہی ماہ و سال پوچھے گا یہاں تعین اقدار بھی ضروری ہے خود اپنے مشک کی قیمت غزال پوچھے گا مرا قلم ابدیت کی روشنی ہے فضاؔ اس آفتاب کو اب کیا زوال پوچھے گا
chehra saalim na nazar hi qaaem
چہرہ سالم نہ نظر ہی قائم بے ستوں سب کی حویلی قائم ہاتھ سے موجوں نے رکھ دی پتوار کیسے دھارے پہ ہے کشتی قائم زیست ہے کچے گھڑے کے مانند بہتے پانی پہ ہے مٹی قائم سائے دیوار کے ٹیڑھے ترچھے اور دیوار کہ سیدھی قائم سب ہیں ٹوٹی ہوئی قدروں کے کھنڈر کون ہے وضع پہ اپنی قائم خود کو کس سطح پہ زندہ رکھوں لفظ دائم ہیں نہ معنی قائم ہے بڑی بات جو رہ جائے فضاؔ سطح سنجیدہ نگاہی قائم
aankhon ke khvaab dil ki javaani bhi le gayaa
آنکھوں کے خواب دل کی جوانی بھی لے گیا وہ اپنے ساتھ میری کہانی بھی لے گیا خم چم تمام اپنا بس اک اس کے دم سے تھا وہ کیا گیا کہ آگ بھی پانی بھی لے گیا ٹوٹا تعلقات کا آئینہ اس طرح عکس نشاط لمحۂ فانی بھی لے گیا کوچے میں ہجرتوں کے ہوں سب سے الگ تھلگ بچھڑا وہ یوں کہ ربط مکانی بھی لے گیا تھے سب اسی کے لمس سے جل تھل بنے ہوئے دریا مڑا تو اپنی روانی بھی لے گیا اب کیا کھلے گی منجمد الفاظ کی گرہ وہ ہمت کشود معانی بھی لے گیا سر جوشیٔ قلم کو فضاؔ چپ سی لگ گئی وہ جاتے جاتے شعلہ بیانی بھی لے گیا





