SHAWORDS
F

Fazl Lakhnavi

Fazl Lakhnavi

Fazl Lakhnavi

poet
3Sher
3Shayari
10Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

mahaaz-e-ilm pe chhaayaa huaa andheraa hai

محاذ علم پہ چھایا ہوا اندھیرا ہے خرد کی راہ کو دیوانگی نے گھیرا ہے چمن کی خاک میں عبرت کی داستانیں ہیں سسک رہی ہیں بہاریں خزاں کا ڈیرا ہے چراغ دیر و حرم جل گئے مگر اب بھی جدھر نگاہ اٹھاؤ ادھر اندھیرا ہے سمندروں پہ ستاروں پہ نظم عالم پر نہ اختیار تمہارا ہے اور نہ میرا ہے ہزار رنگ بھری زندگی پہ ناز نہ کر قدم سنبھل کے اٹھا موت کا اندھیرا ہے یہ آتے جاتے ہوئے اجنبی نہ سمجھیں گے گدا نصیب بتا دے کدھر کا پھیرا ہے یہ کچی نیند کی آنکھیں یہ سرمگیں تیور اندھیری رات کے دامن میں بھی سویرا ہے قدم قدم پہ وفا کے دیے جلا کے چلو سنا ہے فضلؔ عدم میں بہت اندھیرا ہے

غزل · Ghazal

ghabraae jitnaa maut ki dil-bastagi se ham

گھبرائے جتنا موت کی دل بستگی سے ہم بیگانہ اتنے ہوتے گئے زندگی سے ہم کیوں کہ بدل دیں نعمت غم کو خوشی سے ہم کس طرح مانگ لائیں تبسم کسی سے ہم کچھ ایسی باتیں سیکھ گئے دوستی سے ہم کرتے نہیں اب اپنا تعارف کسی سے ہم کہہ دو شب فراق کے تاروں سے ڈوب جاؤ مانوس اب نہیں ہیں کسی روشنی سے ہم خاموشیوں نے قصۂ غم بھی بھلا دیا اب بات بھی کریں تو کریں کیا کسی سے ہم خود اپنے دل سے ہو گئے بیگانہ اس طرح جیسے جھجک رہے ہوں کسی اجنبی سے ہم آخر کو چلنے والوں نے پہچان ہی لیا نکلے جو سر جھکائے تمہاری گلی سے ہم شاید اسی سے اشک بھی آنکھوں میں آ گئے تاریکیوں کو دیکھ نہ لیں روشنی سے ہم جس نے جلا دئے ہیں تمناؤں کے چراغ عاجز سے ہو گئے ہیں اسی زندگی سے ہم اب فضلؔ حسرتیں ہیں نہ فکر و نظر میں ضو جاں نذر کر رہے ہیں بڑی بیکسی سے ہم

غزل · Ghazal

shaam-e-furqat ke sitaare to asar tak Thahre

شام فرقت کے ستارے تو اثر تک ٹھہرے ہاں وفادار تھے آنسو جو سحر تک ٹھہرے جلوے دیکھے تو ملک اور بشر تک ٹھہرے سجدے کرنے کے لیے شمس و قمر تک ٹھہرے داستاں رنگ پر آئی تو زمانہ بدلا ڈوبتے تارے بھی آغاز سحر تک ٹھہرے کہہ دے کھلتی ہوئی کلیوں سے کوئی گلشن میں اتنا ہلکا ہو تبسم کہ نظر تک ٹھہرے جگمگاتی ہوئی موجوں کا تو کیا ذکر کوئی کشتی آتے ہوئے دیکھی تو بھنور تک ٹھہرے

غزل · Ghazal

rang aur ruup mein sone se khari hoti hai

رنگ اور روپ میں سونے سے کھری ہوتی ہے دل کی وہ رگ جو محبت سے بھری ہوتی ہے آشیانے کو پنپنے نہیں دیتی دنیا برق گر پڑتی ہے جب شاخ ہری ہوتی ہے جھینپ جاتا ہے چٹکتی ہوئی کلیوں کا شباب مست آنکھوں میں اگر نیند بھری ہوتی ہے اشک برساتی ہوئی آتی ہے گلشن میں بہار پھول کھلتے ہیں تو شبنم کی تری ہوتی ہے عرش و کرسی و فلک دیر و حرم کعبۂ دل پھر بھی محدود تری جلوہ گری ہوتی ہے کہکشاں دیکھتی ہے اس کی تجلی کا نکھار جس کی انگڑائی میں جادو اثری ہوتی ہے دن کو گر دھوپ کی چادر میں سکوں ملتا ہے رات اب ختم چراغ سحری ہوتی ہے یاد آ جاتی ہے خود اپنی نکھرتی توبہ جام میں جب مئے خوش رنگ بھری ہوتی ہے چاہے لفظوں میں کہے چاہے اشاروں سے کہے فضلؔ جو بات بھی کہتا ہے کھری ہوتی ہے

غزل · Ghazal

kyaa ishq ke uljhe jaade hain manzil kaa kahin par naam nahin

کیا عشق کے الجھے جادے ہیں منزل کا کہیں پر نام نہیں تقدیر ہے اور تدبیر نہیں آغاز ہے اور انجام نہیں اے اشک مچلتی چنگاری تو درد ہے خود پیغام نہیں آنکھوں میں کبھی پلکوں پہ کبھی تجھ کو بھی کہیں آرام نہیں دم بھر کی ہنسی دم بھر کی خوشی یہ بھی تو دل ناکام نہیں اس چلتی پھرتی دنیا میں سب کچھ ہے مگر آرام نہیں یہ پھیر محبت کے توبہ آئین جفا بھی عام نہیں قاتل کی چھری پر خوں تو ہے قاتل پہ مگر الزام نہیں قسمت کی لکیریں دیکھ تو لیں تحریر مگر یہ عام نہیں اس خط کو بھلا کیوں کر سمجھیں جس خط میں ہمارا نام نہیں آنکھوں کے گلابی ڈوروں میں اک کیف سا پایا جاتا ہے مے خوار محبت ہوش میں آ ساقی کی نظر ہے جام نہیں دنیا کے بھرے بازاروں میں یوں سنتا ہوں اپنا افسانہ جیسے کہ یہ میرا ذکر نہیں جیسے کہ یہ میرا نام نہیں یہ جوشش گریہ تنہائی یہ پچھلے پہر کا سناٹا اشکوں میں مجھے کہہ لینے دو یہ خاص ہے قصہ عام نہیں نظروں میں تصادم دل میں چبھن اک شمع ہے اک پروانہ ہے دونوں ہی میں باتیں ہوتی ہیں آواز کا لیکن نام نہیں بجلی کی چمک میں شعلے ہیں پھولوں کی ہنسی میں آنسو ہیں یہ فضلؔ وفا کی دنیا ہے پھر بھی تو وفا کا نام نہیں

غزل · Ghazal

aankhon mein to aansu ko sukun tak nahin miltaa

آنکھوں میں تو آنسو کو سکوں تک نہیں ملتا دامن پہ جب آتا ہے تو ہوتا ہے رواں اور اے قوت پرواز ذرا اور سہارا سنتے ہیں ستاروں میں ہیں آباد جہاں اور گہرا ہو اگر سجدہ تو کھنچ آتے ہیں جلوے پیشانیٔ عالم پہ ابھرتا ہے نشاں اور تقسیم اگر ہوتا ہے شعلوں میں نشیمن جلتے ہوئے تنکوں سے لپٹتا ہے دھواں اور ہو رنگ پہ محفل تو بدلتی ہیں فضائیں اے فضلؔ سنور جاتا ہے انداز بیاں اور

Similar Poets