miir ke baa'd ghaalib o iqbaal
ik sadaa, ik sadi mein guzri hai

Gulzar Dehlvi
Gulzar Dehlvi
Gulzar Dehlvi
Popular Shayari
4 totalumr jo be-khudi mein guzri hai
bas vahi aagahi mein guzri hai
jahaan insaaniyat vahshat ke haathon zabh hoti ho
jahaan tazlil hai jiinaa vahaan behtar hai mar jaanaa
haae kyaa daur-e-zindagi guzraa
vaaqiye ho gae kahaani se
Ghazalغزل
زندگی راہ وفا میں جو مٹا دیتے ہیں نقش الفت کا وہ دنیا میں جما دیتے ہیں اس طرح جرم محبت کی سزا دیتے ہیں وہ جسے اپنا سمجھتے ہیں مٹا دیتے ہیں ایک جل روز ہمیں آپ نیا دیتے ہیں وعدۂ وصل کو باتوں میں اڑا دیتے ہیں خم و مینا و سبو بزم میں آتے آتے اپنی آنکھوں سے کئی جام پلا دیتے ہیں حسن کا کوئی جدا تو نہیں ہوتا انداز عشق والے انہیں انداز سکھا دیتے ہیں کوسنے دیتے ہیں جس وقت بتان طناز ہاتھ اٹھائے ہوئے ہم ان کو دعا دیتے ہیں میرے خوابوں میں بھی آتے ہیں عدو کے ہم راہ یہ وفاؤں کا مری آپ صلہ دیتے ہیں حالت غیر پہ یوں خیر سے ہنسنے والے اس توجہ کی بھی ہم تم کو دعا دیتے ہیں شہر میں روز اڑا کر مرے مرنے کی خبر جشن وہ روز رقیبوں کا منا دیتے ہیں دیر و کعبہ ہو کلیسا ہو کہ مے خانہ ہو سب ہر اک در پہ تجھی کو تو صدا دیتے ہیں عشوہ و حسن و ادا پر تری مرنے والے کتنے معصوم یوں ہی عمر گنوا دیتے ہیں پئے گل گشت وہ گل پوش جو آئے گلزارؔ زندگی سبزے کے مانند بچھا دیتے ہیں
zindagi raah-e-vafaa mein jo miTaa dete hain
تہذیب حسن و رنگ بہاراں لیے ہوئے کانٹے بھی ہیں غرور گلستاں لیے ہوئے جیسے کوئی نشے میں سنے میرؔ کی غزل آنکھیں ہیں وہ سرور غزالاں لیے ہوئے گلگشت کو چمن میں وہ آیا ہے رشک گل چہرے پہ عکس لعل بدخشاں لیے ہوئے میں کب سے منتظر ہوں تمہارے ورود کا پلکوں پہ اپنی جشن چراغاں لیے ہوئے زلف سیاہ رخ پہ ہے کاکل بھی خال پر دامن میں کتنے ہندو ہیں قرآں لیے ہوئے کیا وقت قافلہ پہ پڑا ہے کہ بہر قتل خنجر ہیں آستیں میں حدی خواں لیے ہوئے گلزارؔ دہلوی کی غزل کی زبان کو پھرتے ہیں شہر شہر زباں داں لیے ہوئے
tahzib-e-husn-o-rang-e-bahaaraan liye hue
کون دیکھے گا زمانے انقلاب ناز کے بھول بیٹھے ہیں وہ وعدے عشق کے آغاز کے ہوتے ہیں تیر ستم سر چاہنے والوں پہ اب یہ نئے انداز دیکھے غمزہ و غماز کے میرے آہ و نالے کو ظالم سمجھ ناداں نہ بن ساز کے نغمے نہیں یہ ہیں شکست ساز کے بال و پر اب تک بندھے ہیں ہوں مقید تا ہنوز حکم صادر ہو چکے ہیں گو میری پرواز کے عشق دیں حب وطن ذوق عمل پاس وفا جوہر انسانیت ہیں یہ کسی دم ساز کے اس خراب آباد کی تنظیم کچھ آساں نہ تھی معجزے ہیں یہ مسیحا دم تیرے انداز کے ساز ہستی تیری اک آواز سے تھا نغمہ کار منتظر دیوانے دل ہیں دوسری آواز کے چار کلیوں کے سہارے ہے گلستاں کا قیام ظاہراً جو گل ہیں ورنہ خار ہیں اعجاز کے گو غنیمت پنجۂ اغیار کے چھٹنا سہی کیوں مگر ہم صید ہوں چشم زمانہ ساز کے انقلاب اک اپنے حق میں اور بھی آنے کو ہے یہ معانی ہیں حقیقت میں نوائے راز کے ظلم پر تم ظلم ڈھاؤ ہم نہ کھینچیں آہ تک واہ کیا کہئے تمہارے عشوہ و انداز کے ہند میں قائم رہے دائم بہار بے خزاں یہ دعا لب پر ہو ہر گلزارؔ کے دم ساز کے
kaun dekhegaa zamaane inqilaab-e-naaz ke
اب تو صحرا میں رہیں گے چل کے دیوانوں کے ساتھ دہر میں مشکل ہوا جینا جو فرزانوں کے ساتھ ختم ہو جائیں گے قصے کل یہ دیوانوں کے ساتھ پھر انہیں دہراؤ گے تم کتنے عنوانوں کے ساتھ بزم میں ہم کو بلا کر آپ اٹھ کر چل دئے کیا سلوک ناروا جائز ہے مہمانوں کے ساتھ نفرتیں پھیلا رہے ہیں کیسی شیخ و برہمن کیا شمار ان کا کریں گے آپ انسانوں کے ساتھ ان کی آنکھوں کی گلابی سے جو ہم مخمور ہیں اک تعلق ہے قدیمی ہم کو پیمانوں کے ساتھ ہر طرف کوئے بتاں میں حسرتوں کا ہے ہجوم ایک دل لائے تھے ہم تو اپنا ارمانوں کے ساتھ کل تلک داناؤں کی صحبت میں تھے سب کے امام آج کیسے سست ہیں یوں شیخ نادانوں کے ساتھ ان کی آنکھیں اک طرف یہ جام و مینا اک طرف کس طرح گردش میں ہیں پیمانے پیمانوں کے ساتھ عاشقوں کے دل میں شب فانوس روشن ہو گئے شمع کا جینا ہے لازم اپنے پروانوں کے ساتھ حیف گلزار جہاں میں گل یگانے ہو گئے لہلہا کر اب رہے گا سبزہ بیگانوں کے ساتھ
ab to sahraa mein raheinge chal ke divaanon ke saath
یا ملا قوم کو خود اپنا نگہباں ہو کر سو طرح دیکھ لیا ہم نے پریشاں ہو کر کافر عشق ہی اچھے تھے صنم خانوں میں شان ایماں نہ ملی صاحب ایماں ہو کر نقص تنظیم سے ہو ترک چمن کیا معنی ہم کو رہنا ہے یہیں تار رگ جاں ہو کر کیا ہوا گر کوئی ہندو کہ مسلماں ٹھہرا آدمیت کا نہیں پاس جو انساں ہو کر ہم بجھیں بھی تو بجھیں مثل چراغ سحری اور جو روشن ہوں تو ہوں شمع شبستاں ہو کر دل میں احباب کے ہم بن کے اثر بیٹھیں گے اور اٹھیں گے اسی گلشن سے بہاراں ہو کر کیا گلستاں میں نیا حکم زباں بندی ہے باغباں بھی ہوا صیاد نگہباں ہو کر صدق نیت سے اگر اس کی چمن بندی ہو پھر رہے کیوں نہ وطن ملک سلیماں ہو کر اب ہم اپنے لیے خود سود و زیاں سوچیں گے ہم کو جینا ہی نہیں بندۂ احساں ہو کر رشک گلزار ارم ارض وطن جب ہوگی اپنے بیگانے بسیں سنبل و ریحاں ہو کر
yaa milaa qaum ko khud apnaa nigahbaan ho kar
نہ سہی ہم پہ عنایت نہیں پیمانوں کی کھڑکیاں کھل گئیں آنکھوں سے تو مے خانوں کی آ نہیں سکتا سمجھ میں کبھی فرزانوں کی سرخ رو کیسے جبینیں ہوئیں دیوانوں کی زلف بکھرائے سر شام پریشان ہیں وہ قسمتیں اوج پہ ہیں چاک گریبانوں کی داستاں کوہ کن و قیس کی فرسودہ ہوئی سرخیاں ہم نے بدل ڈالی ہیں افسانوں کی آنکھیں تو بھیگ چکیں اور نہ پیار آ جائے اور روداد سنیں آپ نہ دیوانوں کی میکدے آنے سے پہلے کا زمانہ توبہ خاک چھانی ہے حرم اور صنم خانوں کی زخم دل کو کوئی مرہم بھی نہ راس آئے گا ہر گل زخم میں لذت ہے نمک دانوں کی جانے کب نکلے مرادوں کی دلہن کی ڈولی دل میں بارات ہے ٹھہری ہوئی ارمانوں کی زخم پر ہنستے ہیں اشکوں کو گہر کہتے ہیں عقل ماری گئی اس دور میں انسانوں کی کتنے مومن نظر آتے ہیں صنم خانوں میں ایک کافر نہیں بستی میں مسلمانوں کی جتنی تضحیک ترے شہر میں اپنوں کی ہوئی اتنی توہین نہ ہوگی کہیں بیگانوں کی رات بڑھ بڑھ کے جو شمع پہ ہوئے تھے صدقے صبح تک خاک نہ دیکھی گئی پروانوں کی حرم و دیر کی بستی میں ہے تمییز و نفاق کوئی تفریق ملل دیکھی نہ دیوانوں کی لوگ کیوں شہر خموشاں کو کھنچے جاتے ہیں جانے کیا جان ہے اس بستی میں بے جانوں کی رخ بدلتے ہیں دوراہے پہ کھڑے ہیں سالار سعیٔ ناکام تو دیکھے کوئی نادانوں کی ہاتھا چھانٹی ہے عجب اور عجب لوٹ کھسوٹ نیتیں اور ہیں شاید کہ نگہبانوں کی پوچھے گلزارؔ سے ہے وہ بہ زبان سوسن تم کہاں بزم میں آئے ہو زباں دانوں کی
na sahi ham pe inaayat nahin paimaanon ki





