SHAWORDS
Gyan Chand Jain

Gyan Chand Jain

Gyan Chand Jain

Gyan Chand Jain

poet
2Sher
2Shayari
6Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

4 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

kis qadar be-kaif duniyaa-e-dani hai saahabo

کس قدر بے کیف دنیائے دنی ہے صاحبو بے کسی ہے بے حسی ہے بے رخی ہے صاحبو ہر کلی کے ہونٹ پر پیڑھی جمی ہے صاحبو پیاس کے جنگل میں کتنی بیکلی ہے صاحبو دیکھنا للچانا اور محروم رہنا آئے دن انفعالی زندگی کیا زندگی ہے صاحبو چاند محسن کش تھا سورج کو دبا کر کھا گیا گو اسی کے دم سے اس میں روشنی ہے صاحبو دوسروں کو روندیئے اور آگے بڑھتے جائیے بعض لوگوں کے لئے سب کچھ یہی ہے صاحبو بانس پر مجھ کو چڑھائیں لاکھ ارباب غرض جانتا ہوں میں جو اصلیت مری ہے صاحبو چل کے ریگستان میں دیکھیں سراب اندر سراب خود فریبی میں قیامت دل کشی ہے صاحبو شام کو چڑیوں کی چوں چوں رات کو مینڈک کا شور کتنی اونچی کائناتی شاعری ہے صاحبو کیوں مصر ہیں آپ میں سیدھی ڈگر ہی پر چلوں میری شخصیت سے یہ تو دشمنی ہے صاحبو سیر فردوس نظر کو منع فرماتے ہیں آپ شیخ صاحب کے تخیل میں کجی ہے صاحبو بادلوں میں خود فراموشی کے دم بھر کر اڑیں مان جاؤ میری چھوٹی سی خوشی ہے صاحبو جھانک کر دیکھا جو میں نے اندرون لا شعور اس زمیں پر کس غضب کی زندگی ہے صاحبو کس لئے مبہوت ہو خوش خوابیٔ ماضی میں تم حال کی دل داریوں میں کیا کمی ہے صاحبو اپنے اپنے دیکھنے کے ڈھنگ پر ہے منحصر زندگی میں تازگی ہی تازگی ہے صاحبو اس میں سوز دل ملا دو تو شفق بن جائے گی یہ جو مطلع پر ذرا سی روشنی ہے صاحبو

غزل · Ghazal

Dagmagaataa laDkhaDaataa jhumtaa jaataa huun main

ڈگمگاتا لڑکھڑاتا جھومتا جاتا ہوں میں تجھ تک اے باب فنا سینے کے بل آتا ہوں میں شہر کی باریکیوں میں پھنس گیا ہوں اس طرح چین کی اک سانس کی مہلت نہیں پاتا ہوں میں جب بھی ریگستانوں میں جانے کا ہوتا اتفاق گھٹنے گھٹنے ذات کی پرتوں میں دھنس جاتا ہوں میں چل کے باغ‌ سیب میں اوراق‌ جمشیدی پڑھوں اپنی کیفیت سے خود کو بے خبر پاتا ہوں میں گوشے گوشے میں فروزاں آتش لب ہائے سرخ اس شفق میں دم بہ دم آنکھوں کو نہلاتا ہوں میں آہ وہ آنکھیں کہ جن کے گرد ہے اودا غبار گہہ کنوئیں میں ڈوبتا ہوں گہہ ابھر آتا ہوں میں

غزل · Ghazal

abr-paara huun koi dam mein chalaa jaaungaa

ابر پارہ ہوں کوئی دم میں چلا جاؤں گا نقش بر آب ہوں لہروں میں سما جاؤں گا دھار پر اپنے تعقل کو چڑھا جاؤں گا رسم آزادیٔ افکار اٹھا جاؤں گا یہ عقائد ہیں چھلاوے انہیں افشا کر دے معنیٔ سیمیا دنیا کو بتا جاؤں گا سر میں سودوں کے بنا کرتا ہوں تانے بانے اہل تدبیر کو چکر میں پھنسا جاؤں گا کیسے ترسیل کروں سامعۂ یاراں تک شہر آشوب پرندوں کا سنا جاؤں گا منہ کو بے روح کتابوں سے بصیرت نہ ملی شہر سے جاتے ہوئے سب کو جلا جاؤں گا

غزل · Ghazal

huaa kare jo andheraa bahut ghaneraa hai

ہوا کرے جو اندھیرا بہت گھنیرا ہے کسی کی زلف تلے ہر سمے سویرا ہے حکایت لب و رخسار میں گزار دیں وقت جہاں میں صرف گھڑی دو گھڑی بسیرا ہے جلاؤ گھر کی منڈیروں پہ چشم و دل کے دیے بہاؤ گیت برہ کے بہت اندھیرا ہے وہ محتسب ہو کہ شحنہ کہ مفتی و قاضی ہمارا کوئی نہیں ہے ہر ایک تیرا ہے مرے دماغ کے خناس نے پسند کیا کھنڈر کے ہفت بلاؤں کا جس میں ڈیرا ہے میں برگ زرد ہوں شایان التفات نہیں حسین گل کو حسیں تتلیوں نے گھیرا ہے

غزل · Ghazal

kyaa bataaein aap se kyaa hasti-e-insaan hai

کیا بتائیں آپ سے کیا ہستیٔ انسان ہے آدمی جذبات‌ و احساسات کا طوفان ہے اشتراکیت مرا دین اور مرا ایمان ہے کاش موٹر لے سکوں میں یہ مرا ارمان ہے آہ اس دانش کدے میں کس قدر ہے قحط حسن جب سے آیا ہوں یہاں بزم نظر ویران ہے یہ کتابیں ہر طرف ہوں یا بتان منتخب برگزیدہ ہستیوں کا ایک ہی ارمان ہے فکر کی دنیا میں کولمبس بنا پھرتا ہوں میں علم کی پہنائی کا کتنا بڑا فیضان ہے آج امریکہ میں کل لندن میں پرسوں روس میں آدمی کی سر بلندی کی یہی پہچان ہے اس قدر کھائے ہیں یاروں کے بچھڑ جانے کے داغ دل نہیں اب ایک خاکستر شدہ شمشان ہے جیسے جیسے بڑھ رہا ہے میرا عہدہ دوستوں ویسے ویسے روح میری اور بھی ویران ہے لڑکھڑاتا ٹھوکریں کھاتا کدھر جاتا ہوں میں ہے اندھیرا گھپ فضا اور دل سنسان ہے

غزل · Ghazal

phirtaa huun main ghaaTi ghaaTi sahraa sahraa tanhaa tanhaa

پھرتا ہوں میں گھاٹی گھاٹی صحرا صحرا تنہا تنہا بادل کا آوارہ ٹکڑا کھویا کھویا تنہا تنہا پچھم دیس کے فرزانوں نے نصف جہاں سے شہر بسائے ان میں پیر بزرگ ارسطو بیٹھا رہتا تنہا تنہا کتنا بھیڑ بھڑکا جگ میں کتنا شور شرابہ لیکن بستی بستی کوچہ کوچہ چپا چپا تنہا تنہا سیر کرو باطن میں اس کے کیسا کیسا کمبھ لگا ہے تاک رہا ہے دور افق کو جو بیچارہ تنہا تنہا سیر تماشا رکنے والے سیاحو یہ بھی سوچا ہے گھڑیاں گھر کو ڈھالنے والا خود ہے کتنا تنہا تنہا کوئی نہ اس کا مال خریدے کوئی نہ اس کی جانب دیکھے اب بنجارہ گھوم رہا ہے قریہ قریہ تنہا تنہا دھوم مچی ہے چھوٹ رہے ہیں شہر میں رنگوں کے فوارے بیچ میں اک قصباتی لڑکا سہما سہما تنہا تنہا دھرتی اور امبر پر دونوں کیا رعنائی بانٹ رہے تھے پھول کھلا تھا تنہا تنہا چاند اگا تھا تنہا تنہا

Similar Poets