SHAWORDS
Habib Jalib

Habib Jalib

Habib Jalib

Habib Jalib

poet
27Shayari
74Ghazal

Popular Shayari

27 total

Ghazalغزل

See all 74
غزل · Ghazal

کیسے کہیں کہ یاد یار رات جا چکی بہت رات بھی اپنے ساتھ ساتھ آنسو بہا چکی بہت چاند بھی ہے تھکا تھکا تارے بھی ہیں بجھے بجھے ترے ملن کی آس پھر دیپ جلا چکی بہت آنے لگی ہے یہ صدا دور نہیں ہے شہر گل دنیا ہماری راہ میں کانٹے بچھا چکی بہت کھلنے کو ہے قفس کا در پانے کو ہے سکوں نظر اے دل زار شام غم ہم کو رلا چکی بہت اپنی قیادتوں میں اب ڈھونڈیں گے لوگ منزلیں راہزنوں کی رہبری راہ دکھا چکی بہت

kaise kahein ki yaad-e-yaar raat jaa chuki bahut

غزل · Ghazal

اب تیری ضرورت بھی بہت کم ہے مری جاں اب شوق کا کچھ اور ہی عالم ہے مری جاں اب تذکرۂ خندۂ گل بار ہے جی پر جاں وقف غم گریہ شبنم ہے مری جاں رخ پر ترے بکھری ہوئی یہ زلف سیہ تاب تصویر پریشانئ عالم ہے مری جاں یہ کیا کہ تجھے بھی ہے زمانے سے شکایت یہ کیا کہ تری آنکھ بھی پر نم ہے مری جاں ہم سادہ دلوں پر یہ شب غم کا تسلط مایوس نہ ہو اور کوئی دم ہے مری جاں یہ تیری توجہ کا ہے اعجاز کہ مجھ سے ہر شخص ترے شہر کا برہم ہے مری جاں اے نزہت مہتاب ترا غم ہے مری زیست اے نازش خورشید ترا غم ہے مری جاں

ab teri zarurat bhi bahut kam hai miri jaan

غزل · Ghazal

اپنوں نے وہ رنج دئے ہیں بیگانے یاد آتے ہیں دیکھ کے اس بستی کی حالت ویرانے یاد آتے ہیں اس نگری میں قدم قدم پہ سر کو جھکانا پڑتا ہے اس نگری میں قدم قدم پر بت خانے یاد آتے ہیں آنکھیں پر نم ہو جاتی ہیں غربت کے صحراؤں میں جب اس رم جھم کی وادی کے افسانے یاد آتے ہیں ایسے ایسے درد ملے ہیں نئے دیاروں میں ہم کو بچھڑے ہوئے کچھ لوگ پرانے یارانے یاد آتے ہیں جن کے کارن آج ہمارے حال پہ دنیا ہنستی ہے کتنے ظالم چہرے جانے پہچانے یاد آتے ہیں یوں نہ لٹی تھی گلیوں دولت اپنے اشکوں کی روتے ہیں تو ہم کو اپنے غم خانے یاد آتے ہیں کوئی تو پرچم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالبؔ چاروں جانب سناٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں

apnon ne vo ranj diye hain begaane yaad aate hain

غزل · Ghazal

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں بیت گیا ساون کا مہینہ موسم نے نظریں بدلیں لیکن ان پیاسی آنکھوں سے اب تک آنسو بہتے ہیں ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں وہ جو ابھی اس راہ گزر سے چاک گریباں گزرا تھا اس آوارہ دیوانے کو جالبؔ جالبؔ کہتے ہیں

dil ki baat labon par laa kar ab tak ham dukh sahte hain

غزل · Ghazal

کیا کیا لوگ گزر جاتے ہیں رنگ برنگی کاروں میں دل کو تھام کے رہ جاتے ہیں دل والے بازاروں میں یہ بے درد زمانہ ہم سے تیرا درد نہ چھین سکا ہم نے دل کی بات کہی ہے تیروں میں تلواروں میں ہونٹوں پر آہیں کیوں ہوتیں آنکھیں نسدن کیوں روتیں کوئی اگر اپنا بھی ہوتا اونچے عہدے داروں میں صدر محفل داد جسے دے داد اسی کو ملتی ہے ہائے کہاں ہم آن پھنسے ہیں ظالم دنیا داروں میں رہنے کو گھر بھی مل جاتا چاک جگر بھی سل جاتا جالبؔ تم بھی شعر سناتے جا کے اگر درباروں میں

kyaa kyaa log guzar jaate hain rang-birangi caron mein

غزل · Ghazal

جیون مجھ سے میں جیون سے شرماتا ہوں مجھ سے آگے جانے والو میں آتا ہوں جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیں دل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں سر سے سانسوں کا ناتا ہے توڑوں کیسے تم جلتے ہو کیوں جیتا ہوں کیوں گاتا ہوں تم اپنے دامن میں ستارے بیٹھ کے ٹانکو اور میں نئے برن لفظوں کو پہناتا ہوں جن خوابوں کو دیکھ کے میں نے جینا سیکھا ان کے آگے ہر دولت کو ٹھکراتا ہوں زہر اگلتے ہیں جب مل کر دنیا والے میٹھے بولوں کی وادی میں کھو جاتا ہوں جالبؔ میرے شعر سمجھ میں آ جاتے ہیں اسی لیے کم رتبہ شاعر کہلاتا ہوں

jivan mujh se main jivan se sharmaataa huun

Similar Poets