ab tujhe kaise bataaein ki tiri yaadon mein
kuchh izaafa hi kiyaa ham ne khayaanat nahin ki

Haleem Qureshi
Haleem Qureshi
Haleem Qureshi
Popular Shayari
3 totalkoi ilzaam koi tanz koi rusvaai
din bahut ho gae yaaron ne inaayat nahin ki
aage jo qadam rakkhaa pichhe kaa na gham rakkhaa
jis raah se ham guzre divaar uThaa aae
Ghazalغزل
جاڑوں میں سلگتی ہوئی ہر رات کا موسم ہے خود سے تکلم کا سوالات کا موسم ہر لمحے کی تقدیر ہوا کرتی ہے یارو سوچو تو ہوا کرتا ہے ہر بات کا موسم چھاؤں بھی تری دھوپ بھی جو فیصلہ دے دے ہے اب بھی تری زد میں مری ذات کا موسم بچوں کی طرح ماں کو بھی چلنا پڑا آخر آیا ہے شکاری کے لیے گھات کا موسم لفظوں کے شجر سوچ کے ہر پھول کو ترسیں اور آگے گزر جائے خیالات کا موسم ڈوبا ہوا گھر دیکھ کے میں سوچ رہا ہوں جذبات کا موسم ہے کہ برسات کا موسم ہو دیدۂ بینا تو نظر آئے تمہیں بھی اشعار کی بستی میں طلسمات کا موسم
jaaDon mein sulagti hui har raat kaa mausam
ٹوٹی پھوٹی شاخوں میں جو اٹکے اٹکے پر ہوتے ہیں پیڑوں کی فریاد بھی سن لو پیڑوں پر بھی گھر ہوتے ہیں باتیں اس کو پہنچ گئی ہوں اس کو باتیں پہنچ نہ جائیں ہائے محبت عہد میں تیرے کیسے کیسے ڈر ہوتے ہیں غم تنہا جب بھی دیکھے گا حملہ آور ہو جائے گا تلواریں بھی تب چلتی ہیں جب ہم ننگے سر ہوتے ہیں یاروں کی محفل سے اچھی اک محفل وہ بھی ہوتی ہے تنہائی کی آوازوں میں شام کو جب ہم گھر ہوتے ہیں
TuuTi phuTi shaakhon mein jo aTke aTke par hote hain
کمرہ تو یہ کہتا ہے کچھ اور ہوا آئے کھڑکی سے نہ گزرے تو دیوار ہٹا آئے سر پر ہے سفر اتنا خاموش ہو تم جتنا جیتے ہو کہ مرتے ہو کوئی تو صدا آئے آگے جو قدم رکھا پیچھے کا نہ غم رکھا جس راہ سے ہم گزرے دیوار اٹھا آئے اے منتظم ہستی اک چھوٹی سی خواہش ہے اس دن مجھے جینے دے جس روز قضا آئے اب اس کو نمو دیکھیں دیتا ہے شجر کیسے ٹوٹی ہوئی کچھ شاخیں مٹی میں دبا آئے
kamra to ye kahtaa hai kuchh aur havaa aae
موسم ہجر کے آنے کے شکایت نہیں کی اے مرے دل تجھے کیا ہو گیا وحشت نہیں کی کوئی الزام کوئی طنز کوئی رسوائی دن بہت ہو گئے یاروں نے عنایت نہیں کی لفظ کے شوق میں ایسا بھی مقام آیا ہے جز کسی شعر کی آمد کوئی حسرت نہیں کی جس کے نشے میں کوئی ہجر گزار آئے ہیں وہ گھڑی وصل کی ہم نے کبھی رخصت نہیں کی اب تجھے کیسے بتائیں کہ تری یادوں میں کچھ اضافہ ہی کیا ہم نے خیانت نہیں کی سارے معیار وفاؤں کے نبھائے ہم نے اس کو چھوڑا تو بہت سوچ کے، عجلت نہیں کی عشق دریا بھی سمندر بھی کنارہ بھی حلیمؔ ڈوبنے والے کو دیکھا ہے تو حیرت نہیں کی
mausam-e-hijr ke aane ke shikaayat nahin ki





