SHAWORDS
H

Hami Gorakhpuri

Hami Gorakhpuri

Hami Gorakhpuri

poet
2Shayari
7Ghazal

Popular Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

ہم تمہارے کوچے کی رسم کو نبھائیں گے پھول پھول آئے تھے زخم زخم جائیں گے تم حسین پھولوں کو شاخ شاخ سے چن لو زرد زرد پتوں کو ہم سمیٹ لائیں گے دھوپ کے مسافر ہیں دھوپ دھوپ چلنے دو ہے شجر شجر ننگا سر کہاں چھپائیں گے فرد فرد رہنے سے قافلے نہیں بنتے فرد فرد مل ہی کر قافلے بنائیں گے کچھ پتا نہیں چلتا رات کتنی باقی ہے کب تلک چراغوں میں خون دل جلائیں گے ہم بلند ہمت ہیں تیغ سے نہیں ڈرتے قاتلوں کی محفل میں سر اٹھا کے جائیں گے تہ بہ تہ زمانے کی گرد جم گئی حامیؔ آئنہ ہوا دھندلا صاف کر نہ پائیں گے

ham tumhaare kuche ki rasm ko nibhaaeinge

غزل · Ghazal

سر پٹکتی رہی دشت غم کی ہوا ان کی یادوں کے جھونکے بھی چلتے رہے شام سے تا سحر گھر کی دہلیز پر ہم چراغوں کی مانند جلتے رہے حسن کی دھوپ نے زلف کی چھاؤں نے نور کے شہر نے رنگ کے گاؤں نے ہر قدم پر ٹھہرنے کو آواز دی ہم کو چلنا تھا کانٹوں پہ چلتے رہے شہر کے موڑ پر کل ملے تھے مجھے میرے بچپن کے دن میرے بچپن کی شب گاہے آنکھیں ملیں گاہے پلکیں جھکیں گاہے رکتے رہے گاہے چلتے رہے کونسا نام دیں ایسی برسات کو جس کے دامن میں پانی بھی ہے آگ بھی ہوک اٹھتی رہی روح جلتی رہی دل پگھلتا رہا اشک ڈھلتے رہے ایک منزل نہیں ایک رستہ نہیں ایک دل ایک جاں ایک چہرہ نہیں یہ نقابوں کی دنیا کے بہروپئے بھیس لمحہ بہ لمحہ بدلتے رہے شہر در شہر یہ خاک و خوں کی فضا سوچی سمجھی ہوئی ایک تحریک ہے اونچے محلوں میں بیٹھے رہے اہل زر مفلسوں کے مکانات جلتے رہے

sar paTakti rahi dasht-e-gham ki havaa un ki yaadon ke jhonke bhi chalte rahe

غزل · Ghazal

خرد کے مکتب میں زندگی کے شعور کی آگہی نہیں ہے چراغ طاقوں پہ جل رہے ہیں مگر کہیں روشنی نہیں ہے تمہارا مسلک ہے بت پرستی ہم اپنے ہاتھوں کو پوجتے ہیں خدا بناتے ہیں پتھروں کو یہ فن دست خودی نہیں ہے تمہارے عہد شباب کو ہم خموش نظروں سے دیکھتے ہیں اسے بھی تم احتجاج سمجھو یہ خامشی خامشی نہیں ہے میں رنج و غم میں بھی مسکرا کر فریب دیتا ہوں زندگی کو جو میرے ہونٹوں پہ مرتعش ہے وہ موج غم ہے ہنسی نہیں ہے یہ بکھرے بکھرے سے خشک پتے علامتیں ہیں تباہیوں کی روش روش گلستاں کی حامیؔ خزاں خزاں چیختی نہیں ہے

khirad ke maktab mein zindagi ke shuur ki aagahi nahin hai

غزل · Ghazal

خرد کی دھند میں عکس رخ سحر تو ملا جنون شوق تجھے کوئی ہم سفر تو ملا جلا گیا ہے کوئی ریت پر لہو سے چراغ رہ جنوں میں کوئی نقش معتبر تو ملا تمہارے شہر میں سوتا ہوں پاؤں پھیلا کر کوئی مکاں نہ ملا سایۂ شجر تو ملا کسی سے دل کہاں ملتا ہے اس زمانے میں خلوص لاکھ تصنع سہی نظر تو ملا غم حیات کے گیسو سنور ہی جائیں گے نگار شام کو آئینۂ سحر تو ملا ہنر خرید کے لائیں گے بے ہنر کتنے ہمارے شہر کو اک صاحب ہنر تو ملا اتار لایا بلندی سے اس کو اے حامیؔ وہ آسمان کا تارا زمین پر تو ملا

khirad ki dhund mein aks-e-rukh-e-sahar to milaa

غزل · Ghazal

صلح کی حد تک ستم گر آ گیا آئنے کی زد میں پتھر آ گیا آگ تو سلگی تھی دامن کے قریب آستیں کا سانپ باہر آ گیا تیغ میں تھی جس کے دم سے آب و تاب تیغ کی زد میں وہی سر آ گیا دریا دریا پار ہونا تھا مجھے بیچ میں کوئی سمندر آ گیا دھوپ میں چلنے کی عادت ہے مجھے ڈھل گئی جب دھوپ تو گھر آ گیا

sulh ki had tak sitamgar aa gayaa

غزل · Ghazal

کوئی قطرہ نہیں حباب نہیں زندگی زندگی ہے خواب نہیں منتشر ہو ورق ورق جس کا میں وہ دیمک زدہ کتاب نہیں میں اجالا کہاں تلک بانٹوں میری مٹھی میں آفتاب نہیں مجھ کو جوڑے میں کیا سجاؤ گے سرخ شعلہ ہوں میں گلاب نہیں

koi qatra nahin habaab nahin

Similar Poets