"begam bhi hain khaDi hui maidan-e-hashr men mujh se mire gunah ka hisab ai khuda na maang"

Hashim Azimabadi
Hashim Azimabadi
Hashim Azimabadi
Sherشعر
begam bhi hain khaDi hui maidan-e-hashr men
بیگم بھی ہیں کھڑی ہوئی میدان حشر میں مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
honT ki shiriniyan college men jab baTne lagin
ہونٹ کی شیرینیاں کالج میں جب بٹنے لگیں چار دن کے چھوکرے کرنے لگے فرہادیاں
goggle laga ke aankh par chalne lage hasin
گوگل لگا کے آنکھ پر چلنے لگے حسین وہ لطف اب کہاں نگہ نیم باز کا
Popular Sher & Shayari
6 total"honT ki shiriniyan college men jab baTne lagin chaar din ke chhokre karne lage farhadiyan"
"goggle laga ke aankh par chalne lage hasin vo lutf ab kahan nigah-e-nim-baz ka"
begam bhi hain khaDi hui maidaan-e-hashr mein
mujh se mire gunah kaa hisaab ai khudaa na maang
honT ki shiriniyaan college mein jab baTne lagin
chaar din ke chhokre karne lage farhaadiyaan
goggle lagaa ke aankh par chalne lage hasin
vo lutf ab kahaan nigah-e-nim-baaz kaa
Ghazalغزل
ye ghunghaT kyaa burqaa kyaa ridaa kyaa
یہ گھونگھٹ کیا برقع کیا ردا کیا اٹھا جب آنکھ کا پردہ رہا کیا یہ سچ ہے پیٹ ہی خالی اگر ہو کسی کا غمزہ و ناز و ادا کیا ہوا گر جیل کی کھائے نہ لیڈر اسے کھدر پہننے کا مزا کیا مہذب ہی رہے تعلیم کے بعد تو پھر اسکول میں تم نے پڑھا کیا ہو داخل جب ہوا میں آکسیجن عبث کوئی کرے فکر غذا کیا اٹھا کر پی لیا اک جام رنگیں فقط خوشبو ہی اس کی سونگھتا کیا نہیں ماں باپ کی عزت سلامت چچی کیا چیز ہے ہاشمؔ چچا کیا
yuun to dushvaar hai chhoTe kaa baDaa ho jaanaa
یوں تو دشوار ہے چھوٹے کا بڑا ہو جانا ہر بھتیجے کی ہے معراج چچا ہو جانا ہوش تو ہوش لنگوٹی بھی گئی مجنوں کی کتنا مہنگا پڑا لیلیٰ پہ فدا ہو جانا کم سے کم وہ سر بازار تو اچھلے کورے لے کے پگڑی سر واعظ سے ہوا ہو جانا ہم نے دیکھا ہے انہیں آنکھوں سے کچھ بندوں کا چڑھ کے کرسیٔ وزارت پہ خدا ہو جانا یاد آتا ہے تو آتی ہے رقیبوں پہ ہنسی دیکھتے ہی مجھے وہ ان کا ہوا ہو جانا یہ تو ہے ضعف مثانہ کی دلیل اے واعظ ہر سحر تیری نمازوں کا قضا ہو جانا ان کی بھابھی نے بڑھاپے میں دیا ہے بچہ اب مسلم ہوا ہاشمؔ کا چچا ہو جانا
jaam thaa khum thaa subu thaa majma-e-ahbaab thaa
جام تھا خم تھا سبو تھا مجمع احباب تھا شیخ کا ان سب میں چہرہ کس قدر شاداب تھا میں نے دیکھا رات میری گود میں مہتاب تھا آپ ہی تعبیر اس کی دیں یہ کیسا خواب تھا قیس دیوانہ ترا اے لیلیٔ محمل نشیں تیری صورت دیکھنے کو کس قدر بیتاب تھا وہ قلی تھا یا تھا کوئی کاٹھ کا الو مرید پیٹھ پر لادے ہوئے جو شیخ کا اسباب تھا اس نے یہ اچھا کیا جو عقد ہی پڑھوا لیا دل مریدن کے لئے جب صورت سیماب تھا کیوں نہ داڑھی اپنی کرتا جنبش ریزر کی بھینٹ خندہ زن اس شکل پر جب حلقۂ احباب تھا رات بھر میں نے سنواری زلف لیلائے غزل شعر کی آمد تھی ہاشمؔ یا کوئی سیلاب تھا
mushaf-e-rukh kaa tumhaare jo sanaa-khvaan hotaa
مصحف رخ کا تمہارے جو ثنا خواں ہوتا دل بیتاب مرا حافظ قرآں ہوتا مصرعۂ بحر طویل آپ بہ ایں قامت و قد میں وہ مصرعہ نہیں جو آپ پہ چسپاں ہوتا تیرے راکٹ سے بھی اے یار میں لیتا ٹکر میرے قبضے میں اگر تخت سلیماں ہوتا اس میں کچھ تیری نحوست بھی ہے شامل واعظ ورنہ اللہ کا گھر ایسا نہ ویراں ہوتا شیخ لانی ہی تھی بوتل تو چھپا کر لاتے دیکھتا کیسے کوئی اس پہ جو داماں ہوتا دیکھتا تو جو چھلکتا ہوا مینا واعظ تیری بدھنی سے بھی ارزاں ترا ایماں ہوتا ہوتی اے قیس جو لیلیٰ کی کوئی اور بہن ساتھ ہاشمؔ بھی ترے چاک گریباں ہوتا
zakhm ko phuul lahu ko jo hinaa kahte hain
زخم کو پھول لہو کو جو حنا کہتے ہیں ان کو شاعر نہیں شاعر کا چچا کہتے ہیں ہم تو پتلی سی چھڑی بھی نہیں کہتے اس کو لوگ اولاد کو پیری کا عصا کہتے ہیں صرف افسر اسے کہنا تو کوئی بات نہیں ہم تو صاحب کو کلرکوں کا خدا کہتے ہیں شادیاں اپنی کیا کرتے ہیں جو لے کے طلاق ان کو سب لوگ گدا ابن گدا کہتے ہیں اس کو پیتے ہی کیا کرتا ہوں میں سیر فلک آسمانی اسے سب لوگ بجا کہتے ہیں آخرش ہو ہی گیا شیخ سے اور ہم سے ملاپ وہ بھتیجا ہمیں ہم ان کو چچا کہتے ہیں سن کے آواز اذاں مس نے یہ پوچھا ہاشمؔ اس قدر چیخ کے مسجد میں یہ کیا کہتے ہیں
phailaa hai jaal baam pe zulf-e-daraaz kaa
پھیلا ہے جال بام پہ زلف دراز کا طوطا اڑے نہ ہاتھ سے اہل نیاز کا دیکھی نہیں ہے تم نے ہماری پتنگ ابھی کیا نام لے رہے ہو ہوائی جہاز کا آمد پرنسپل کی ہے ہشیار لڑکیو یہ وقت ہے شگفتن گل ہائے ناز کا گوگل لگا کے آنکھ پہ چلنے لگے حسیں وہ لطف اب کہاں نگہ نیم باز کا پیتے نہیں ہیں دیس کے سیوک بدیس کی چکڑ پلاؤ ان کو مے خانہ ساز کا اے بحر شوق اتنا تلاطم ہے ناروا مستول گر نہ جائے خرد کے جہاز کا ہاشمؔ وہ دیکھتا جو کسی ٹیڈی بوائے کو محمود نام لیتا نا ہرگز ایاز کا





