"vallah in shahidon ka me.aar dekh kar hai marg-e-shauq aur siva daar dekh kar"

Hassaan Arfi
Hassaan Arfi
Hassaan Arfi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalvallaah in shahidon kaa meaar dekh kar
hai marg-e-shauq aur sivaa daar dekh kar
Ghazalغزل
zamin Thahar na saki aur na aasmaan Thahraa
زمیں ٹھہر نہ سکی اور نہ آسماں ٹھہرا مرا ہی ذوق جنوں میرا پاسباں ٹھہرا لگائی جس کے لئے تخت و تاج کو ٹھوکر اسی کی بزم میں میں مثل داستاں ٹھہرا ہمارا نقش قدم ہے وہاں وہاں روشن وفا کی راہ میں تھک کر جہاں جہاں ٹھہرا لپٹ کے دامن گل سے کہا یہ بلبل نے نگاہ برق میں میرا ہی آشیاں ٹھہرا پڑھا سبھی نے اسے پر سمجھ سکا نہ کوئی کتاب زیست کا ہر حرف رائیگاں ٹھہرا جنون عشق میں کچھ بھی خبر نہیں مجھ کو نہ جانے کون سی منزل پہ کارواں ٹھہرا میں جس کو غیر سمجھتا رہا صدا حسانؔ ہر ایک راز کا میرے وہ راز داں ٹھہرا
miri khataa sar-e-mahfil talaash kartaa hai
مری خطا سر محفل تلاش کرتا ہے بہانہ قتل کا قاتل تلاش کرتا ہے چبھو کے طنز کے نیزے ہماری رگ رگ میں وہ شدت خلش دل تلاش کرتا ہے چمن جلا کے پرندوں کا کر کے قتل عام وہ نغمہ ہائے عنادل تلاش کرتا ہے رموز نقد و نظر سے جو آشنا بھی نہیں غزل میں نقص وہ جاہل تلاش کرتا ہے وہ خون حسرت دل سے نواز کر آنسو لہو کا رنگ بھی شامل تلاش کرتا ہے مژہ پہ عجز کے تارے لئے ہوئے حسانؔ در ایک سجدے کے قابل تلاش کرتا ہے
surkh-rui to de ru-siyaahi na de
سرخ روئی تو دے رو سیاہی نہ دے میرے اللہ عہد تباہی نہ دے کر دے آنکھوں کو نور بصیرت عطا کم نگاہی نہ دے کم نگاہی نہ دے دل نہ فخر و تکبر سے آلودہ ہو تاج شاہی نہ دے تخت شاہی نہ دے دے خلوص و وفا کا جو ہو آئنہ بغض و کینہ بھرا دل الٰہی نہ دے دور نظروں سے ہے ساحل مدعا کشتیٔ جاں کو سیل تباہی نہ دے میں نے قاروں کی دولت نہ مانگی کبھی اتنی غربت بھی لیکن الٰہی نہ دے گر تو حسانؔ چاہے رضائے خدا دشمنوں کو بھی رنج و تباہی نہ دے
ahl-e-daulat bhi kuchh log kyaa ho gae
اہل دولت بھی کچھ لوگ کیا ہو گئے مال و زر ان کے جیسے خدا ہو گئے حال مت پوچھئے مجھ سے اس دور کا لوگ یوں غرق موج بلا ہو گئے کارواں کیسے محفوظ رہ پائے گا جو تھے رہزن وہی رہنما ہو گئے جن کی ہر شام رندوں میں گزری کبھی وہ بھی کچھ روز سے پارسا ہو گئے واعظ محترم کو سر میکدہ دیکھ کر لوگ حیرت زدہ ہو گئے اپنا ہم راز سمجھا ہمیشہ جنہیں وہ بھی اب مجھ سے نا آشنا ہو گئے دادا عارفؔ کی شفقت کا یہ فیض ہے تم جو حسانؔ نغمہ سرا ہو گئے
yuun hi guzre na raat khushiyon ki
یوں ہی گزرے نہ رات خوشیوں کی کچھ تو کر ہم سے بات خوشیوں کی تھام لو تم خوشی کے دامن کو مختصر ہے حیات خوشیوں کی چھوڑ کر غم کے تذکرے سارے آؤ چھیڑیں گے بات خوشیوں کی غم نہ آئے تمہاری قسمت میں گر نکالو زکوٰۃ خوشیوں کی میں نے اپنوں پہ اعتماد کیا لٹ گئی کائنات خوشیوں کی جینا سیکھو ہر ایک لمحے کو غم لگائے ہیں گھات خوشیوں کی حق پسندی ہے بس متاع حیات ہے یہی کائنات خوشیوں کی جا کے فاراں پہ دیکھنا حسانؔ اک حسیں کائنات خوشیوں کی
vallaah in shahidon kaa meaar dekh kar
واللہ ان شہیدوں کا معیار دیکھ کر ہے مرگ شوق اور سوا دار دیکھ کر ان پر بھی کھل سکا نہ افق کا طلسمی راز حیران کن کرشمۂ فن کار دیکھ کر شوریدگیٔ آبلہ پائی کے باوجود جذبے نہ کم ہوئے رہ پر خار دیکھ کر اس ماجرۂ لطف پہ پہروں سکوت شب حیراں تھا خود کو اپنا ہی غم خوار دیکھ کر دامن چھڑا نہ پائے دم سیر اپنا ہم کانٹوں کی انجمن کا بھی اصرار دیکھ کر پتھر تراشنے کا ہنر جانتا تھا میں پر چپ تھا بت پرست خریدار دیکھ کر حسانؔ سیکھو اور ذرا شاعری کا فن غالبؔ جگرؔ فراقؔ کے اشعار دیکھ کر





