SHAWORDS
Hatim Ali Mehr

Hatim Ali Mehr

Hatim Ali Mehr

Hatim Ali Mehr

poet
70Sher
70Shayari
47Ghazal

Sherشعر

See all 70

Popular Sher & Shayari

140 total

Ghazalغزل

See all 47
غزل · Ghazal

dil le gai vo zulf-e-rasaa kaam kar gai

دل لے گئی وہ زلف رسا کام کر گئی کعبہ کو ڈھ گئی یہ بلا کام کر گئی آیا نہ یار موت مرا کام کر گئی ناکام ہی رہا میں قضا کام کر گئی زاہد نے بھی نماز کو اپنی قضا کیا واللہ ان بتوں کی ادا کام کر گئی اس کی گلی میں خاک ہماری نہ لے چلے اپنا کبھی نہ باد صبا کام کر گئی زاہد کی آنکھ میں تو برہمن کے دل میں ہے تصویر بت بھی نام خدا کام کر گئی بیمار عشق کو ہوئی صحت وصال سے اے جالینوس اک یہ دوا کام کر گئی نالے سے اپنے آہ رسا رات بڑھ گئی نیزے سے برچھی اور سوا کام کر گئی وہ اب تو چھیڑ چھیڑ کے دیتے ہیں گالیاں شکر خدا کہ اپنی دعا کام کر گئی شکوہ نہیں ہے کچھ ملک الموت سے مجھے اک رشک حور آ کے مرا کام کر گئی لیلیٰ کو ہو گیا تری فریاد کا گمان اے قیس زنگ کی بھی صدا کام کر گئی چھنوائی خاک مہرؔ فلک بارگاہ کو چھوٹی سی ایک چیز بڑا کام کر گئی

غزل · Ghazal

us rashk-e-qamar ki hamein aai jo nazar naaf

اس رشک قمر کی ہمیں آئی جو نظر ناف ہم سمجھے کہ ہے اک گرہ موۓ کمر ناف کرتے کا گریبان گریبان سحر ہے گورا شکم ان کا ہے سحر نجم سحر ناف کس درجہ بدن کی تری رنگت ہے سنہری سونے کا ورق پیٹ ہے تو بو تہ زر ناف پستان ہیں حباب اور شکم بحر لطافت موجیں ہیں بٹیں پیٹ کی دریا کا بھنور ناف وہ آئینہ وہ بال ہے وہ چھالا ہے اس کا حیرت میں ہوں میں دیکھ کے بس پیٹ کمر ناف ہو گور گڑھا کوچۂ جاناں میں ہمارا ہم مر گئے ہیں دیکھ کے بس ایک نظر ناف ہر عضو بھڑکنے میں ہے اے مہرؔ سقنقور جالی کی وہ کرتی تو ہے جال اور بھنور ناف

غزل · Ghazal

kucha mein jo us shokh-hasin ke na raheinge

کوچہ میں جو اس شوخ حسیں کے نہ رہیں گے تو دیر و حرم کیا ہے کہیں کے نہ رہیں گے نزدیک کبھی خلد بریں کے نہ رہیں گے ہم سایہ بھی اب ہم تو حسیں کے نہ رہیں گے میں صید ہوں وحشی مجھے فتراکی کہلوا دو تار بھی اب دامن ذہن کے نہ رہیں گے پر وائے وسیلہ ہو سلیماں کو مبارک ہم نام کو محتاج نگیں کے نہ رہیں گے مر جائیں گے اظہار تمنا ہی سے پہلے سننے کو ترے منہ سے نہیں کے نہ رہیں گے مرزا منشی اپنی گورا نہ کریں گے سننے کو قصص چین جبیں کے نہ رہیں گے سن لیں گے جو مجھ غمزدہ کے نالۂ موزوں مشتاق وہ دیوان حزیں کے نہ رہیں گے دروازہ کا پردہ تو رہے کان کا پردہ ہم روبرو اس پردہ نشیں کے نہ رہیں گے اللہ نے چاہا تو ہم اے برہمن دیر مشتاق کسی لعبت‌ چیں کے نہ رہیں گے رخسار سے تشبیہ تری دیں گے ہم اے جان جب داغ رخ‌ ماہ مبیں کے نہ رہیں گے اوڑھتے ہوئے یہ طائر رنگ اپنا جو دیکھا تو ہوش بجا روح امیں کے نہ رہیں گے کس درد کی آواز سے چلائی ہے بلبل ہم پاس تو اس مرغ حزیں کے نہ رہیں گے دیکھیں گے جو اس بت کو تو واللہ یقیں ہے ایمان بجا اہل یقیں کے نہ رہیں گے پابند رہے کون یہاں نام کی خاطر حلقہ میں کبھی مثل نگیں کے نہ رہیں گے ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں تجھے دیر و حرم میں گر ہے یہ تمنا تو کہیں کے نہ رہیں گے پابند ہوئے شکل اسیر اب تو یہاں مہرؔ ایسا ہی جو دل ہے تو کہیں کے نہ رہیں گے

غزل · Ghazal

is daur mein har ik tah-e-charkh-e-kuhan luTaa

اس دور میں ہر اک تہ چرخ کہن لٹا اوروں کا زر لٹا مرا نقد سخن لٹا خلوت نشیں ہو تو دل عاشق میں کر جگہ یوں دولت جمال نہ اے سیم تن لٹا بلبل کو کیسی کیسی ہوئیں آفتیں نصیب گلچیں کے دست ظلم سے کیا کیا چمن لٹا فریاد تک خدا سے نہ کی اے صنم تری میں بے زباں ترے یہاں اے بے دہن لٹا نباش کی جفائیں ہوئیں ہم پہ بعد مرگ اے آسمان زیر زمیں بھی کفن لٹا جھونکے چلے ہوا کے پریشاں ہوئی وہ زلف خوشبو تمام پھیلی ہے مشک ختن لٹا حاتمؔ وہ ہوں کہ بعد فنا دل کو دوں صلاح اب قبر میں بھی خاک اڑایا کفن لٹا بے دل سخن ہوں مہرؔ پڑھوں سن عیسوی اوروں کا زر لٹا مرا نقد سخن لٹا

غزل · Ghazal

gul-baang thi gulon ki hamaaraa taraana thaa

گلبانگ تھی گلوں کی ہمارا ترانہ تھا اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا کوچہ میں اس کے نالہ میرا بے کسانہ تھا اپنا بھی اس چمن میں کبھی آشیانہ تھا جب کوئی زلف میں بھی نہ کچھ دخل شانہ تھا سودائی تھا مزاج میرا عاشقانہ تھا بلبل کو اپنا نالہ موزوں ترانہ تھا ہر گل بھی مائل غزل عاشقانہ تھا نالوں میں بلبلوں کی جو رنگ ترانہ تھا فصل بہار تھی وہ گلوں کا زمانہ تھا الجھا ہوا جو گیسوئے جاناں میں شانہ تھا سنبل میں ایک اور نیا شاخ شانہ تھا سودائیوں کو تھی تری الجھن بلا کی رات زلف دوتا کا طول و طویل اک فسانہ تھا جاتے ہیں آپ اور برا حال ہے مرا آتی جو اب تو موت کو اچھا بہانہ تھا تیر نگاہ کی جو کمان تھی جڑی ہوئی اپنا جگر کبھی تو کبھی دل نشانہ تھا دریاۓ مے کی گھات اتاریں گے ہم انہیں شیریں کا جوئے شیر کا اگلا زمانہ تھا اپنی شب وصال کا اللہ رے اہتمام شبنم کی شبنمی تھی فلک شامیانہ تھا کملی کو اپنا تان کے سویا فقیر مست کیا پشم تھا امیروں کا جو شامیانہ تھا کعبہ کا احترام خدا ساز ہو گیا اس وقت میں کہاں یہ ترا آستانہ تھا دیر و حرم میں کیا تھا اگر ہم سے پوچھئے شایان سجدۂ یار ترا آستانہ تھا کنج قفس میں شکوۂ صیاد کیا کروں اس کا قصور کیا ہے میرا آب و دانہ تھا روزی ہوا ہے دانۂ زنجیر و آب تیغ قسمت کا عاشقوں کی یہ ہے آب و دانہ تھا لوہے کے تھے چنے ترے چھینٹے غضب کے تھی صیاد خوب اپنے لیے آب و دانہ تھا ہو مجھ سا عندلیب خوش الحان اسیر دام صیاد کا نصیب میرا آب و دانہ تھا گندم جو خلد میں تو یہاں تھی شراب ناب اک میں تھا دو جگہ پہ مرا آب و دانہ تھا رند شراب خار رہا میں تمام عمر انگور کا نصیب مجھے آب و دانہ تھا میں وہ صدف ہوں جس کے ہے دریا دلی کا شور جو ہنس چگ رہا ہے مرا آب و دانہ تھا بلبل کے آگے اپنی بڑی بات رہ گئی غنچہ سے تو کہیں تیرا چھوٹا دیا نہ ہاتھ رنگیں خیالیاں دم فکر سخن نہ تھیں زیب تن عروس لباس شہانہ تھا مسی کبھی ملی کبھی گیسو بنا کئے شب بھر شب وصال میں حیلہ بہانہ تھا تجھ سے سوا تو اے صنم اللہ کا ہی نام اچھا تھا ہاں حسین تھا یوسف برا نہ تھا یاران رفتگاں کا نشاں خاک ڈھونڈیئے ریگ رواں کا قافلہ تھا جو روانہ تھا منہ دیکھی ان کے سامنے کہتے نہیں ہیں ہم اپنی زبان پہ وصف دہن غائبانہ تھا باد بہار جا کے اوڑا لائی باغ میں کیا گنج شائیگان زر گل کا خزانہ تھا اپنا سمند عمر جما جم کے اڑ گیا شاید ہمارا راز نفس تازیانہ تھا راز نہاں کسی پہ نہ اپنا عیاں ہوا نا آشنائے گوش ہمارا فسانہ تھا پہچانئے تو خاک کے پتلوں کی خاک کو بیگانہ کون کون سا ان میں یگانہ تھا اس شعلہ رو کی تھی جو دل صاف میں جگہ آتش کدہ یہ مہرؔ کا آئینہ خانہ تھا

غزل · Ghazal

jo mehndi kaa buTnaa malaa kijiyegaa

جو مہندی کا بٹنا ملا کیجئے گا پسینے کو عطر حنا کیجئے گا ستم کیجئے گا جفا کیجئے گا یہی ہوگا اور آپ کیا کیجئے گا پھڑک کر نکل جائے گا دم ہمارا قفس سے جو ہم کو رہا کیجئے گا جو کہتا ہوں اچھا نہیں ظلم کرنا تو کہتے ہیں وہ آپ کیا کیجئے گا قیامت میں دیدار کا کب یقیں ہے یوں ہی لن ترانی سنا کیجئے گا کہا حال دل تو وہ یہ کہہ کے اٹھے میں جاتا ہوں بیٹھے بکا کیجئے گا شہنشاہ کہتے ہیں ان کے گدا سے ہمارے لیے بھی دعا کیجئے گا گلوں کا وہی پیرہن ہوگا صاحب عنایت جو اپنی قبا کیجئے گا کنارہ بھلا تم سے اے بحر خوبی ڈبونے ہی کو آشنا کیجئے گا منجم نے ہاتھ ان کے دیکھے تو بولا گلوں کی قبا کو قبا کیجئے گا مری جان کے مدعی آپ ہوں گے سماعت اگر مدعا کیجئے گا بہت ناز پروردہ ہے دل ہمارا ذرا لطف اس پر کیا کیجئے گا نہ دیوانہ بنتے جو معلوم ہوتا پری بن کے ہم سے اڑا کیجئے گا بتو برق ہیں درد مندوں کی آہیں خدا کے غضب سے ڈرا کیجئے گا بہت فیض بخشی کا سنتے ہیں شہرا ہماری بھی حاجت روا کیجئے گا خدا کے لیے میرزا مہرؔ صاحب بتوں پر کہاں تک مٹا کیجئے گا

Similar Poets