SHAWORDS
Iftikhar Haidar

Iftikhar Haidar

Iftikhar Haidar

Iftikhar Haidar

poet
18Sher
18Shayari
20Ghazal

Sherشعر

See all 18

Popular Sher & Shayari

36 total

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

ham turbat-e-bosida se murdaar nikaalein

ہم تربت بوسیدہ سے مردار نکالیں اوروں کی زمینوں سے جو اشعار نکالیں پٹ جاتا ہے پڑھتے ہی سر بزم وہ شہکار آپ اپنے تئیں جیسا بھی شہکار نکالیں جاں کاوی ہے یہ کام نہیں آپ کے بس کا اشعار نہیں شام کا اخبار نکالیں کھل جائے گا سارا ہی بھرم خوش سخنی کا محفل سے ذرا حاشیہ بردار نکالیں الفاظ کے نشتر نے جگر چیر دیا ہے بہتر ہے زباں روک کے تلوار نکالیں

غزل · Ghazal

aarzuein na chhin khvaab na chhin

آرزوئیں نہ چھین خواب نہ چھین میرا سامان اضطراب نہ چھین سر سے امید کا سحاب نہ چھین میں کہ صحرا میں ہوں سراب نہ چھین ہجر بے چینی بے بسی گریہ یہ محبت کا ہے نصاب نہ چھین زخم دل کی نہ چارہ سازی کر میرے سینے کا ماہتاب نہ چھین تاکنے دے حسین چہروں کو یار مجھ سے مرا شباب نہ چھین ختم ہونے نہ دے سیاہیٔ غم میرے لفظوں کی آب و تاب نہ چھین درد ماروں کے درد لکھنے دے ہے یہی اک رہ ثواب نہ چھین کھوجنا ہے مجھے خدا کا سراغ واعظا ہاتھ سے کتاب نہ چھین

غزل · Ghazal

vahshat firaaq khauf tiraa dhyaan al-amaan

وحشت فراق خوف ترا دھیان الامان کتنی بلائیں ہیں مری مہمان الامان آنکھوں کو خیرہ کر گیا اک جلوۂ شریر اور دل کو کھا گئی تری مسکان الامان اک سلسلہ جڑا تھا کہ پھر آنکھ کھل گئی کس درجہ ہو گیا مرا نقصان الامان اے حسن دل فریب ذرا دیر کو فریب کرنے لگا ہے ہجر پریشان الامان اے عشق مہربان کوئی دم کوئی درود ملتا نہیں کوئی بھی نگہبان الامان ایسے نکلنا ہے تری بزم جمال سے جیسے کسی بدن سے کوئی جان الامان

غزل · Ghazal

koi an-honaa vaaqia nahin hai

کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہے عشق میرے لیے نیا نہیں ہے تجھ کو ہر بات کا پتہ نہیں ہے تو مرا عشق ہے خدا نہیں ہے یوں نشانے نہ تاک تاک کے مار ایک ہی دل ہے دوسرا نہیں ہے یہ جو ہم روز لفظ بنتے ہیں مسئلہ ہے یہ مشغلہ نہیں ہے توڑتا ہے حدود کون و مکاں درد کا کوئی دائرہ نہیں ہے دو کنارے ہیں ایک میں اک تو اور کناروں میں فاصلہ نہیں ہے کوئی اظہار کی سبیل نہیں آگ ہی آگ ہے ہوا نہیں ہے یہ جو تم موت سے ڈراتے ہو زندگی سب کا مسئلہ نہیں ہے

غزل · Ghazal

faiz-e-ahd-e-jadid tanhaai

فیض عہد جدید تنہائی سہہ رہا ہوں شدید تنہائی بڑھتا جاتا ہے حلقۂ احباب بڑھ رہی ہے مزید تنہائی ہے جہاں تک بھی سوچ سناٹا ہے جہاں تک بھی دید تنہائی بیٹھ کر دوستوں کی محفل میں کر رہا ہوں کشید تنہائی پاس حبل الورید کے ہے خدا زیر حبل الورید تنہائی گھر سے گھبرا کے باہر آیا تھا گھر سے باہر مزید تنہائی ٹی وی موبائل ٹیب کمپیوٹر دے کے پیسے خرید تنہائی

غزل · Ghazal

vahshat hai be-zaari hai

وحشت ہے بے زاری ہے شام بھی کتنی بھاری ہے باہر اک سناٹا ہے اندر آہ و زاری ہے لکھ دیتا ہوں حال دل کہنے میں دشواری ہے درد مصیبت بے چینی اپنی سب سے یاری ہے سینہ چرتا جاتا ہے خواہش ہے یا آری ہے میرے دل کے کمرے میں یادوں کی الماری ہے پریم نگر کا ہر بندہ جذبوں کا بیوپاری ہے آپ محبت کہتے ہیں دھوکہ ہے مکاری ہے سوز ہے میرے لفظوں میں لہجے میں سرشاری ہے شعر نہیں لکھتا صاحب پیہم اشک شماری ہے

Similar Poets