SHAWORDS
I

Iftikhar Qaisar

Iftikhar Qaisar

Iftikhar Qaisar

poet
4Shayari
7Ghazal

Popular Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

خواہشوں کا ورد یوں مت کر پرائے شہر میں فاختہ مر جائے گی گھٹ کر قبائے شہر میں رات بھر دل میں سمندر کروٹیں لیتا رہا رات بھر بہتا رہا دریا پرائے شہر میں روشنی ہوتے ہی کالی آندھیاں چلنے لگیں بجھ گئے جتنے دیے ہم نے جلائے شہر میں زندگی کے پیڑ سے کچھ پھول بھی لپٹے رہے پتھروں کی بھی رہائش تھی ردائے شہر میں جی رہا ہوں بھوک کے پنجے کو سانسیں بیچ کر پھر رہا ہوں لاش میں اپنی اٹھائے شہر میں شام تک تھا کھڑکیوں میں پچھڑی آنکھوں کا ہجوم چاندنی پھیلی تو آنسو تھے ہوائے شہر میں

khvaahishon kaa vird yuun mat kar paraae shahr mein

غزل · Ghazal

جو ملا کرتی تھی مجھ کو لکڑیوں کی ٹال پر ایسی لڑکی آج تک دیکھی نہیں ہے مال پر آنکھ میں سائے کی خواہش پیٹ میں روٹی کی بھوک پھر بھی کیسی تازگی تھی پھول جیسے گال پر اس کو دیکھا تو اسے بس دیکھتا ہی رہ گیا جیسے اک زخمی سی تتلی ایک ٹوٹی ڈال پر جانے کیسے اس کو میری پیاس کی پہنچی خبر لائی چاندی سے کٹورے سونے ایسے تھال پر پتلی پتلی روٹیوں کو چوپڑے گی ہاتھ سے ڈال کر تڑکا وہ مجھ کو دے گی پتلی دال پر میری نظروں سے چھپا کر اس سے آنکھیں پونچھ لیں اس نے میرا نام لکھ رکھا تھا جس رومال پر

jo milaa karti thi mujh ko lakDiyon ki Taal par

غزل · Ghazal

تری آواز میں بھی کوئی آوازہ نہیں ہوتا تری باتوں سے اب تو کوئی اندازہ نہیں ہوتا کبھی بیٹھک تری دوپہر میں آباد رہتی تھی کھلا اب شام کو بھی گھر کا دروازہ نہیں ہوتا کبھی وہ اک اشارے سے سمجھ جاتا تھا ساری بات جتن کرنے سے بھی اب اس کو اندازہ نہیں ہوتا بہت ہی بن سنور کر آج کل گھر سے نکلتا ہے مگر یہ کیا کہ وہ چہرہ تر و تازہ نہیں ہوتا کبھی دکھ آ کے رہتے ہیں کبھی سکھ آ کے رہتے ہیں کسی پر بند اپنے گھر کا دروازہ نہیں ہوتا مرے بارے میں وہ کیا سوچتا ہے موڈ کیسا ہے اب اس سے شام کو بھی مل کے اندازہ نہیں ہوتا

tiri aavaaz mein bhi koi aavaaza nahin hotaa

غزل · Ghazal

اپنے خوں کو خرچ کیا ہے اور کمایا شہر سارے منظر ٹوٹ گئے اور کام نہ آیا شہر بے گھر ہونا بے گھر رہنا سب اچھا ٹھہرا گھر کے اندر گھر نہیں پایا شہر میں پایا شہر سات سمندر پار بھی آنکھیں میرے ساتھ نہ آئیں چاروں جانب خواب ہیں میرے اور پرایا شہر کالے شہر کو روشن رکھا شہر کے لوگوں نے دیوانوں نے دیے جلائے اور بجھایا شہر شہر کے اونچے برج بھی میرے قد سے چھوٹے تھے چھوٹے چھوٹے لوگوں نے کیا خوب بنایا شہر

apne khuun ko kharch kiyaa hai aur kamaayaa shahr

غزل · Ghazal

دور دور تک سناٹا ہے کوئی نہیں ہے پاس آ جا دریا ہونٹ سے لگ جا پی لے میری پیاس عشق کے پہلے پہلے وار سے وہ بھی ٹوٹ گئی اک جوگی کا پیار نہ آیا اس لڑکی کو راس روزانہ پوشاکیں بدلوں اور خوشبوئیں بھی میرے جسم سے اترے نا میری مٹی کی باس سارے دریا پھوٹ پڑیں گے اک دوجے کے بیچ اک دن آ کر مل جائے گی تیری میری پیاس دل کے اندر ناچ رہے ہیں کتنے شاہ حسین میرے عشق کی پھوٹی ہے اب روشن لال کپاس

duur duur tak sannaaTaa hai koi nahin hai paas

غزل · Ghazal

ہم سے اپنے گاؤں کی مٹی کے گھر چھینے گئے جس طرح شہری پرندوں سے شجر چھینے گئے تتلیوں نے کاغذی پھولوں پہ ڈیرا کر لیا راستے میں جگنوؤں کے بال و پر چھینے گئے اس قدر بڑھنے لگے ہیں گھر سے گھر کے فاصلے دوستوں سے شام کے پیدل سفر چھینے گئے کالے سورج کی ضیا سے شہر اندھا ہو گیا خون میں خوشبو اگانے کے ہنر چھینے گئے آنکھ آنکھوں سے زبانوں سے زباں چھینی گئی داستاں سے داستانوں کے شرر چھینے گئے

ham se apne gaanv ki miTTi ke ghar chhine gae

Similar Poets