"banate hain hazaron zakhm-e-khandan khanjar-e-gham se dil-e-nashad ko ham is tarah pur-shad karte hain"

Imdad Imam Asar
Imdad Imam Asar
Imdad Imam Asar
Sherشعر
See all 25 →banate hain hazaron zakhm-e-khandan khanjar-e-gham se
بناتے ہیں ہزاروں زخم خنداں خنجر غم سے دل ناشاد کو ہم اس طرح پر شاد کرتے ہیں
afsos umr kaT ga.i ranj-o-malal men
افسوس عمر کٹ گئی رنج و ملال میں دیکھا نہ خواب میں بھی جو کچھ تھا خیال میں
mushkil ka samna ho to himmat na hariye
مشکل کا سامنا ہو تو ہمت نہ ہاریے ہمت ہے شرط صاحب ہمت سے کیا نہ ہو
taDap taDap ke tamanna men karvaTen badlin
تڑپ تڑپ کے تمنا میں کروٹیں بدلیں نہ پایا دل نے ہمارے قرار ساری رات
dosti ki tum ne dushman se ajab tum dost ho
دوستی کی تم نے دشمن سے عجب تم دوست ہو میں تمہاری دوستی میں مہرباں مارا گیا
dil se kya puchhta hai zulf-e-girah-gir se puchh
دل سے کیا پوچھتا ہے زلف گرہ گیر سے پوچھ اپنے دیوانے کا احوال تو زنجیر سے پوچھ
Popular Sher & Shayari
50 total"afsos umr kaT ga.i ranj-o-malal men dekha na khvab men bhi jo kuchh tha khayal men"
"mushkil ka samna ho to himmat na hariye himmat hai shart sahib-e-himmat se kya na ho"
"taDap taDap ke tamanna men karvaTen badlin na paaya dil ne hamare qarar saari raat"
"dosti ki tum ne dushman se ajab tum dost ho main tumhari dosti men mehrban maara gaya"
"dil se kya puchhta hai zulf-e-girah-gir se puchh apne divane ka ahval tu zanjir se puchh"
taDap taDap ke tamannaa mein karvaTein badlin
na paayaa dil ne hamaare qaraar saari raat
jab nahin kuchh e'tibaar-e-zindagi
is jahaan kaa shaad kyaa naashaad kyaa
dil na dete use to kyaa karte
ai 'asar' dukh hamein uThaanaa thaa
banaate hain hazaaron zakhm-e-khandaan khanjar-e-gham se
dil-e-naashaad ko ham is tarah pur-shaad karte hain
hasinon ki jafaaein bhi talavvun se nahin khaali
sitam ke baa'd karte hain karam aisaa bhi hotaa hai
dil ki haalat se khabar deti hai
'asar' aashufta-bayaani meri
Ghazalغزل
kisi kaa dil ko rahaa intizaar saari raat
کسی کا دل کو رہا انتظار ساری رات فلک کو دیکھا کئے بار بار ساری رات تڑپ تڑپ کے تمنا میں کروٹیں بدلیں نہ پایا دل نے ہمارے قرار ساری رات ادھر تو شمع تھی گریاں ادھر تھے ہم گریاں اسی طرح پہ رہے اشک بار ساری رات خیال شمع رخ یار میں جلے تا صبح لیا قرار نہ پروانہ وار ساری رات نہ پوچھ سوز جدائی کو ہم سے اے ہم دم جلا کیا یہ دل داغ دار ساری رات مژہ کے عشق سے آئی نہ نیند آنکھوں میں نظر کھٹکتی رہی بن کے خار ساری رات خیال زلف سیہ میں بہا کئے آنسو بندھا رہا مرے رونے کا تار ساری رات نہ پوچھ ہم سے اثرؔ رات کس طرح کاٹی عجب طرح کا رہا انتشار ساری رات
subh-dam roti jo teri bazm se jaati hai shama
صبح دم روتی جو تیری بزم سے جاتی ہے شمع صاف میرے سوز غم کا رنگ دکھلاتی ہے شمع جس طرح کالے کے من کے روبرو گل ہو چراغ دیکھ کر تعویذ زلف یار بجھ جاتی ہے شمع صرف پروانہ ادب سے دم بخود رہتا نہیں تیرے رعب حسن سے محفل میں تھراتی ہے شمع گھیر لیتے ہیں تجھے پروانے اس کو چھوڑ کر جس میں تو ہو کب فروغ اس بزم میں پاتی ہے شمع کاربند عدل ہوتے ہیں جو ہیں روشن دماغ بزم میں ہر سمت یکساں نور پہنچاتی ہے شمع پردۂ فانوس سے باہر نہیں رکھتی قدم روبرو تیرے رخ روشن کے شرماتی ہے شمع جائے گریہ صحبت اہل تماشا ہے اثرؔ ہے بجا روتی ہوئی جو بزم میں آتی ہے شمع
apne dar se jo uThaate hain hamein
اپنے در سے جو اٹھاتے ہیں ہمیں خاک میں آپ ملاتے ہیں ہمیں ہے جو منظور جفا در پردہ منہ وہ غیروں میں دکھاتے ہیں ہمیں غیر کو پاس بٹھا رکھتے ہیں جب کبھی آپ بلاتے ہیں ہمیں گرمیاں غیر کو دکھلا دکھلا بزم میں آپ جلاتے ہیں ہمیں شب فرقت میں فلک کے تارے داغ دل یاد دلاتے ہیں ہمیں ان کے انداز سخن ہیں معلوم غیر کو کہہ کے سناتے ہیں ہمیں پھر کسی گل پہ ہوا دل مائل داغ تازہ نظر آتے ہیں ہمیں چھوڑ دیں آپ کی ہم راہی ہم واہ کیا راہ بتاتے ہیں ہمیں تو ہمیں راہ بتائے جس سے غیر وہ راہ بتاتے ہیں ہمیں عطر گل سے نہیں جب دل بھرتا اپنا رومال سونگھاتے ہیں ہمیں شب کو افسانۂ دل کہہ کے اثرؔ آپ روتے ہیں رلاتے ہیں ہمیں
bahe saath ashk ke lakht-e-jigar tak
بہے ساتھ اشک کے لخت جگر تک نہ کی اس نے مری جانب نظر تک عبث صیاد کو ہے بد گمانی نہیں بازو میں اپنے ایک پر تک خبر آئی مریض درد و غم کی کہیں پہنچے خبر اس بے خبر تک نزاکت سے لگی بل کرنے کیا کیا ابھی گیسو نہ پہنچے تھے کمر تک جئے جاتے ہیں شکل شمع سوزاں نہ کچھ باقی رہیں گے ہم سحر تک اگر میں یاد ہوتا تو نہ آتے مگر بھولے سے آئے میرے گھر تک دم گریہ تھی غالب ناتوانی پہنچتے لخت دل کیا چشم تر تک خدا جانے اثرؔ کو کیا ہوا ہے رہا کرتا ہے چپ دو دو پہر تک
mere sar mein jo raat chakkar thaa
میرے سر میں جو رات چکر تھا اس کے زانو پہ غیر کا سر تھا اپنے گھر ان کو کیا بلاتے ہم بوریا بھی نہیں میسر تھا ضبط دل پر بھی اس کی محفل میں اپنا رومال اشک سے تر تھا جان دینے میں سوچ کیا کرتے مفلسی پر بھی دل تونگر تھا خوب و زشت جہاں کا فرق نہ پوچھ موت جب آئی سب برابر تھا آپ جب تک نہ لے چکے تھے دل کچھ مزاج اور بندہ پرور تھا ہجر لاحق ہوا وصال کے بعد کیا ہی الٹا مرا مقدر تھا جور اعدا کی تاب کیا لاتا دل کم بخت ناز پرور تھا صحبت حور سے ہوئی نفرت میں جو تیری ادا کا خوگر تھا ہے اثرؔ یا نہیں خدا جانے سنتے ہیں اس کا حال ابتر تھا
gham nahin mujh ko jo vaqt-e-imtihaan maaraa gayaa
غم نہیں مجھ کو جو وقت امتحاں مارا گیا خوش ہوں تیرے ہاتھ سے اے جان جاں مارا گیا تیغ ابرو سے دل عاشق کو ملتی کیا پناہ جو چڑھا منہ پر اجل کے بے گماں مارا گیا منزل معشوق تک پہنچا سلامت کب کوئی رہزنوں سے کارواں کا کارواں مارا گیا دوستی کی تم نے دشمن سے عجب تم دوست ہو میں تمہاری دوستی میں مہرباں مارا گیا زہر سے کچھ کم نہ تھی دعوت مری غیروں کے ساتھ کیا غضب ہے گھر بلا کر میہماں مارا گیا دشت غربت رنج تنہائی ہجوم درد و یاس ان بلاؤں میں ترا عاشق کہاں مارا گیا کیا ہلاک عشق تیرے گیسوؤں کا تھا اثرؔ سنبلستاں ہو گیا ہے دو جہاں مارا گیا





