SHAWORDS
Imran Aami

Imran Aami

Imran Aami

Imran Aami

poet
4Shayari
13Ghazal

Popular Shayari

4 total

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

پرندہ آئنے سے کیا لڑے گا فریب ذات میں آ کر مرے گا محبت بھی بڑی لمبی سڑک ہے برہنہ پا کوئی کتنا چلے گا ہمارے جاگنے تک دیکھنا تم ہمارے خواب کا چرچا رہے گا ہماری خاک سے دنیا بنی تھی ہماری راکھ سے اب کیا بنے گا یہ چنگاری بھڑک اٹھے گی اک دن میاں یہ عشق ہے ہو کر رہے گا تجھے دنیا کی عادت پڑ گئی ہے اکیلا رہ گیا تو کیا کرے گا میں تیرے ساتھ مر سکتا ہوں لیکن تو میرے ساتھ کیا زندہ رہے گا ابھی سے سوچ لو خانہ بدوشو ہماری راہ میں صحرا پڑے گا سمندر نے روانی سیکھ لی ہے مرے دریا تمہارا کیا بنے گا

parinda aaine se kyaa laDegaa

غزل · Ghazal

تجھ سے اک ہاتھ کیا ملا لیا ہے شہر نے واقعہ بنا لیا ہے ہم تو ہم تھے کہ اس پری رو نے آئنے کا بھی دل چرا لیا ہے ورنہ یہ سیل آب لے جاتا شہر کو آگ نے بچا لیا ہے ایسی ناؤ میں کیا سفر کرنا جس نے دریا کو دکھ سنا لیا ہے کوزہ گر نے ہماری مٹی سے کیا بنانا تھا کیا بنا لیا ہے دیکھیے پہلے کون مرتا ہے سانپ نے آدمی کو کھا لیا ہے جانے والوں کو اب اجازت ہے ہم نے اپنا دیا بجھا لیا ہے جب کوئی بات ہی نہیں عامیؔ آسماں سر پہ کیوں اٹھا لیا ہے

tujh se ik haath kyaa milaa liyaa hai

غزل · Ghazal

زخم اب تک وہی سینے میں لیے پھرتا ہوں کوفے والوں کو مدینے میں لیے پھرتا ہوں جانے کب کس کی ضرورت مجھے پڑ جائے کہاں آگ اور خاک سفینے میں لیے پھرتا ہوں ریت کی طرح پھسلتے ہیں مری آنکھوں سے خواب ایسے بھی خزینے میں لیے پھرتا ہوں ایک ناکام محبت مرا سرمایہ ہے اور کیا خاک دفینے میں لیے پھرتا ہوں دل پہ لکھا ہے کسی اور پری زاد کا نام نقش اک اور نگینے میں لیے پھرتا ہوں اس لیے سب سے الگ ہے مری خوشبو عامیؔ مشک مزدور پسینے میں لیے پھرتا ہوں

zakhm ab tak vahi siine mein liye phirtaa huun

غزل · Ghazal

اس دشت سے آگے بھی کوئی دشت گماں ہے لیکن یہ یقیں کون دلائے گا کہاں ہے یہ روح کسی اور علاقے کی مکیں ہے یہ جسم کسی اور جزیرے کا مکاں ہے کرتا ہے وہی کام جو کرنا نہیں ہوتا جو بات میں کہتا ہوں یہ دل سنتا کہاں ہے کشتی کے مسافر پہ یونہی طاری نہیں خوف ٹھہرا ہوا پانی کسی خطرے کا نشاں ہے جو کچھ بھی یہاں ہے ترے ہونے سے ہے ورنہ منظر میں جو کھلتا ہے وہ منظر میں کہاں ہے اس راکھ سے اٹھتی ہوئی خوشبو نے بتایا مرتے ہوئے لوگوں کی کہاں جائے اماں ہے یہ کار سخن کار عبث تو نہیں عامیؔ یہ قافیہ پیمائی نہیں حسن بیاں ہے

is dasht se aage bhi koi dasht-e-gumaan hai

غزل · Ghazal

احتیاطاً اسے چھوا نہیں ہے آدمی ہے کوئی خدا نہیں ہے دشت میں آتے جاتے رہتے ہیں یہ ہمارے لیے نیا نہیں ہے تم سمجھتے ہو ناخدا خود کو تم پہ دریا ابھی کھلا نہیں ہے جس کا حل سوچنے میں وقت لگے وہ محبت ہے مسئلہ نہیں ہے باغ پر شعر کہنے والوں کا ایک مصرع ہرا بھرا نہیں ہے ریت ہی ریت ہے تہہ دریا یعنی صحرا ابھی مرا نہیں ہے آؤ چلتے ہیں اب خلا کی طرف سن رہے ہیں وہاں خلا نہیں ہے

ehtiyaatan use chhuaa nahin hai

غزل · Ghazal

کچھ اہتمام نہ تھا شام غم منانے کو ہوا کو بھیج دیا ہے چراغ لانے کو ہمارے خواب سلامت رہیں تمہارے ساتھ یہ بات کافی ہے دنیا کی نیند اڑانے کو ہمارا خون کسی کام کا نہیں بھائی یہ پانی ٹھیک ہے لیکن دیئے جلانے کو ہماری راکھ یونہی تو نہیں کریدتے لوگ ہمارے پاس کوئی بات ہے چھپانے کو ترے بغیر بھی ہم جی رہے ہیں اور خوش ہیں یہ بات کم تو نہیں ہے تجھے جلانے کو ہمارے خون سے لتھڑے ہوئے ہیں ہاتھ اس کے ہمارے ساتھ محبت بھی ہے زمانے کو وہ جن کے پاس کوئی عکس بھی نہیں عامیؔ تڑپ رہے ہیں مجھے آئینہ دکھانے کو

kuchh ehtimaam na thaa shaam-e-gham manaane ko

Similar Poets