ehsaan zindagi pe kiye jaa rahe hain ham
man to nahin hai phir bhi jiye jaa rahe hain ham

Imtiyaz Khan
imtiyaz Khan
imtiyaz Khan
Popular Shayari
4 totalraah-e-dil ko raund kar aage nikal jaaeinge log
aankh mein uThtaa ghubaar-e-qaafila rah jaaegaa
ham ko aksar ye khayaal aataa hai us ko dekh kar
ye sitaara kaise ghalati se zamin par rah gayaa
kyaa yunhi khaamosh duniyaa se guzar jaaeinge ham
kyaa jo kahnaa hai vo sab kuchh an-kahaa rah jaaegaa
Ghazalغزل
نشے میں یہ کیا سمجھ لیا تھا خدا کو بندہ سمجھ لیا تھا ذرا سی چپ تھی اسی کو تم نے نہ جانے کیا کیا سمجھ لیا تھا حسیں تھا وہ اس قدر کہ ہم نے نظر کا دھوکا سمجھ لیا تھا میں ایسا پاگل دیا تھا جس نے ہوا کو اپنا سمجھ لیا تھا ہم اس کے دل تک پہنچتے کیسے بدن کو راستہ سمجھ لیا تھا اسے یوں چھوڑا کہ اس نے ہم کو بہت زیادہ سمجھ لیا تھا ہم اپنی غلطی سے بک گئے ہیں تمہیں زلیخا سمجھ لیا تھا ہماری سادہ دلی تو دیکھو خدا کو اپنا سمجھ لیا تھا ملن جدائی تڑپ اداسی یہ کھیل سارا سمجھ لیا تھا تمہاری آنکھیں سمجھ نہ پائے ہر اک معمہ سمجھ لیا تھا لب اس نے کھولے نہیں تھے پھر بھی جواب اس کا سمجھ لیا تھا وہ آنکھیں کعبہ صفت تھی جن کو شراب خانہ سمجھ لیا تھا
nashe mein ye kyaa samajh liyaa thaa
تو نہیں ہوگا مگر یہ سلسلا رہ جائے گا تیرے ہونے کا تصور جا بہ جا رہ جائے گا قربتوں کی راہ سے ہو کر گزر جائیں گے ہم منزلوں پر درمیاں بس فاصلہ رہ جائے گا کس نے سوچا تھا کہ یہ اتنا حسیں اک واقعہ ایک دن سینے میں بن کر حادثہ رہ جائے گا راہ دل کو روند کر آگے نکل جائیں گے لوگ آنکھ میں اٹھتا غبار قافلہ رہ جائے گا میں کہیں کھو جاؤں گا لے کر نگاہ شوق دید تو چراغ حسن لے کر ڈھونڈھتا رہ جائے گا کیا یوں ہی خاموش دنیا سے گزر جائیں گے ہم کیا جو کہنا ہے وہ سب کچھ ان کہا رہ جائے گا جب کہیں کچھ بھی نہیں تھا بس خدا تھا اور پھر جب کہیں کچھ بھی نہ ہوگا بس خدا رہ جائے گا
tu nahin hogaa magar ye silsilaa rah jaaegaa
دل شکستہ کی نیم جاں خواہشوں کو جینا سکھا رہی ہے نگاہ افسوں بیان اس کی بتوں سے سجدہ کرا رہی ہے یہ پھول خوشبو یہ چاند تارے یہ گرتی بوندیں یہ ابر پارے سب اس کی آمد کے منتظر ہیں وہ خود کو سب سے چھپا رہی ہے یہ چاندنی میں نہایا دریا یہ محفل شب بھی خوب لیکن میں چاند پر جا رہا ہوں مجھ کو وہ اک ضعیفہ بلا رہی ہے جو ریگ دل پہ لکھا ہے اس کو دکھوں کا پانی مٹا نہ ڈالے میں خواب دیکھے ہی جا رہا ہوں یہ آنکھ برسے ہی جا رہی ہے کبھی خموشی کبھی تبسم کبھی خیالوں کی دھند میں گم مری اداسی تو ہر قدم پر قبا بدلتی ہی جا رہی ہے وہ خوش بیاں امتیازؔ وہ لفظ لفظ جادو چلانے والا وہ کل ملا تھا تو کہہ رہا تھا خموشی اندر سے کھا رہی ہے
dil-e-shikasta ki nim-jaan khvaahishon ko jiinaa sikhaa rahi hai
دل خواب میں یہ دیکھ کے غمگین رہا ہے میں تیرا ہوں اور کوئی مجھے چھین رہا ہے پھر تو مرے دل کو ملا ایمان کی صورت برسوں مرا دل کافر و بے دین رہا ہے تا عمر وہی شخص رہا جی کی جلن بھی تا عمر وہی باعث تسکین رہا ہے اس شخص سے الگاؤ مجھے کفر ہے لوگو ایمان رہا ہے وہ مرا دین رہا ہے اے دل نہ معافی نہ کوئی رحم کی امید اس بار ترا جرم ہی سنگین رہا ہے
dil khvaab mein ye dekh ke ghamgin rahaa hai
ہمیں پر دھوپ برساتا ہے سورج بھی مقدر بھی درخت مہرباں کوئی کرے سایہ تو ہم پر بھی عیاں ہوتی چلی جاتی ہیں سب چہرے کی تحریریں ہوئی جاتی ہے نا کافی خموشی کی یہ چادر بھی بدن کی روشنی میں جو نہ دیکھا جا سکا ہم سے اسی شیشے کے پیکر میں دھڑکتا تھا وہ پتھر بھی حقیقت سے تصور تک سفر مجھ میں کیا اس نے مگر مجھ تک نہیں پہنچا وہ اتنی دور چل کر بھی کوئی موسیٰ و عیسیٰ و محمد اب نہ آئے گا ہمارے ناتواں شانوں پہ ہے کار پیمبر بھی
hamin par dhuup barsaataa hai suraj bhi muqaddar bhi
تاراج خواہشوں کا مداوا نہ ہو سکا کوئی ہمارے واسطے عیسیٰ نہ ہو سکا اتنی شدید دھوپ تھی مجھ پہ کہ عمر بھر ابر و درخت سے کبھی سایہ نہ ہو سکا نیندوں میں چھوڑ کر ہمیں آگے نکل گیا ہم سے اس ایک خواب کا پیچھا نہ ہو سکا گزرے پھر ایک بار تو دونوں کے درمیاں وہ واقعہ جو طور پہ پورا نہ ہو سکا دہکان غم نے خون سے سینچی زمین دل لیکن یہ دشت دشت تھا سبزہ نہ ہو سکا
taaraaj khvaahishon kaa mudaavaa na ho sakaa





