hogaa bahut shadid tamaazat kaa intiqaam
saae se mil ke roegi divaar dekhnaa
Imtiyaz Saghar
Imtiyaz Saghar
Imtiyaz Saghar
Popular Shayari
3 totalusi darakht ko mausam ne be-libaas kiyaa
main jis ke saae mein thak kar udaas baiThaa thaa
hain ghar ki muhaafiz miri dahki hui aankhein
main taaq mein rakh aayaa huun jalti hui aankhein
Ghazalغزل
رموز چشم کرم سے جو با کمال ہوئے نصاب عشق میں وہ لوگ لا زوال ہوئے حریم ناز تری بزم سے نکالے ہوئے سفیر نور ہوئے آئنہ مثال ہوئے کبھی گزر تو سہی تو بھی اس خرابے سے کبھی تو دیکھ کہ ہم کتنے پائمال ہوئے ہوائے کوئے تمنا پکارتی ہے جنہیں وہ لوگ خواب ہوئے گرد ماہ و سال ہوئے مسافروں سے کہو حد شہر ختم ہوئی یہ دشت ہجر ہے چہرے یہاں خیال ہوئے یہ کیسی صبح تمنا ہے گھر کے آنگن میں اسیر ظلمت شب میرے نونہال ہوئے کوئی تو دیکھے یہ محبوبیت کی منزل بھی جمال کون و مکاں نذر خد و خال ہوئے
rumuz-e-chashm-e-karam se jo baa-kamaal hue
دن کسی صورت گزرتا ہی نہیں ریت پر چہرہ ابھرتا ہی نہیں جی رہے ہیں نفرتوں کے درمیاں چہرۂ امکاں نکھرتا ہی نہیں تا ابد جاری رہے رقص جنوں گھر کا سناٹا بکھرتا ہی نہیں دیکھنا قحط جمال زندگی شہر میں کوئی سنورتا ہی نہیں جانے کیا اس کی نظر نے کر دیا دل کسی پہلو ٹھہرتا ہی نہیں نشۂ ہستی کے دن پورے ہوئے ساغرؔ جاں ہے کہ بھرتا ہی نہیں
din kisi surat guzartaa hi nahin
ٹوٹ کر اور بھی گداز ہوا دل ہمارا نوائے ساز ہوا آنکھ جھپکی کہ آئنہ ٹوٹا ہجر کا سلسلہ دراز ہوا تیرے پردے میں اپنی خواہش کی میں کہاں خود سے بے نیاز ہوا کثرت ورد اسم اعظم سے منکشف دل پہ حرف راز ہوا دھوپ اوڑھے رہا بدن برسوں تب کہیں جا کے امتیاز ہوا
TuuT kar aur bhi gudaaz huaa
صبح قیامت جاں سے گزرنے لگتی ہے تیز چلوں تو سانس بکھرنے لگتی ہے شہر جاں میں عشق کی شمعیں بجھتے ہی قطرہ قطرہ رات اترنے لگتی ہے کبھی کبھی یہ زخم کھلاتی پروائی رنگ مری تصویر میں بھرنے لگتی ہے رات کی آنکھیں بجھتے بجھتے محفل میں پروانوں کی خاک بکھرنے لگتی ہے اذن حضوری اس در سے مل جائے اگر پتھر پہ تصویر ابھرنے لگتی ہے اتنی خوش نظری بھی ساغرؔ ٹھیک نہیں آنکھ کبھی تعبیر سے ڈرنے لگتی ہے
subh-e-qayaamat jaan se guzarne lagti hai
وقت ہو رہا ہے پھر ضو فشاں ہتھیلی پر نقش ہیں مقدر کی سرخیاں ہتھیلی پر محرم بصیرت تھا دل میں گڑ گئیں آخر روکتا بھلا کب تک برچھیاں ہتھیلی پر سر بریدہ لوگوں کا ان دنوں پڑوسی ہوں اور اٹھائے پھرتا ہوں آشیاں ہتھیلی پر اب کے بھی نہیں آیا ابر و باد کا موسم بوند کو ترستی ہیں سیپیاں ہتھیلی پر جب گھروں کے آنگن میں چاندنی بکھرتی ہے خون دل سجاتی ہیں لڑکیاں ہتھیلی پر صحن گل کی رونق ہیں قید کر نہیں سکتے رنگ چھوڑ جاتی ہیں تتلیاں ہتھیلی پر پتھروں سے ٹکرا کر چور ہو گیا ساغرؔ ہم سجائے پھرتے ہیں کرچیاں ہتھیلی پر
vaqt ho rahaa hai phir zau-fishaan hatheli par
پہلے صبح کا روشن تارا صرف ہمارے دھیان میں تھا لیکن عزم کی لو بھڑکی تو سورج بھی امکان میں تھا شہر جاں سے دشت عدم تک کرب کا موسم ساتھ رہا جانے کس کی کھوج میں تھے ہم کس کا چہرہ دھیان میں تھا شہر سود و زیاں میں شور تھا گھٹتے بڑھتے نرخوں کا لیکن اس شفاف گلی کا ہر لمحہ نروان میں تھا محرومی کی برف پگھل کر میری رگوں میں جم جاتی آنکھ میں سورج در آتے ہی جسم بھی آتش دان میں تھا میں ٹھہرا اک مفلس شاعر نذر اسے کرتا بھی کیا بس یہ جیون وار آیا ہوں جیون ہی امکان میں تھا ساری عمر گزاری ساغرؔ تب یہ طلسم ذات کھلا اک چہرے کا عکس تھا مجھ میں اک چہرہ گلدان میں تھا
pahle subh kaa raushan taaraa sirf hamaare dhyaan mein thaa





